فرقوں کی بھول بھلیوں سے نکلو، صرف قران و سنت کو اپناؤ

تازہ ترین

تازہ ترین

The Glorious Legacy of Pakistan Television (PTV)

آج کل اتنے سارے فرقے ہوچکے ہیں کہ غیر مسلم کو اسلام ڈھونڈنے میں مشکات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہر فرقے کا مولانا اسلام کے اتنے پہلو بتاتا ہے کہ پڑھنے اور سننے والا پریشان ہو جاتا ہے کہ کریں تو کیا کریں ؟

کچھ مولوی حضرات نے جدید ٹیکنالوجی کا سہارہ لیتے ہوئے اپنے اپنے اسلام کے نظریے ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر بنا بنا کر پیش کرتےہیں جس سے وہ مالی طور پر انتہائی آسودہ ہو چکے ہیں۔

اب ایسا لگتا ہے کہ میڈیا انٹرٹنیمنٹ میں مذہبی پروگرامز کی وارئٹی بڑھ چکی ہے، کوئی مولانا شادی کے موضوع کو لیکر انٹرتینمنٹ پروگرام بناتے ہیں تو کوئی مولانا اسلام کے خوفناک مناظر دکھا کر پروگرام بنا رہے ہوتے ہیں، ہمارے نوجوانوں کو مختلف فرقوں میں باٹنے والے ہمیشہ سے اپنے اپنے فرقوں کی تعریف کرتے ہیں اور جنت و دوزخ کا کے بارے میں ایسے بیان کرتے ہیں جیسے کہ انہیں پتہ ہے کہ کون جنت میں جائے گا اور کون دوذخ میں۔

مختلف فرقوں کے نوجوان اب اسلام کو سمجھنے کی بجائے اپنے اپنے فرقوں کے رہنماؤں کو سمجھتے ہیں، بہت سے بچے یہ سمجھتے ہیں کہ جو ان کے مذہبی عالم کہا بس وہی اسلام ہے ۔

انہیں فرقوں کی وجہ سے آپس میں نفرتوں کی دیوار بن چکی ہے اور ایک دوسرے سے اب تو لوگ شادی بیاہ بھی نہیں کرتے اور نہ ہی آپس میں ملنا گوارہ ہوتا ہے۔ ان فرقوں نے اپنی اپنی مسجدیں بنالیں ہیں اور ان مساجد میں وہ اپنے فرقوں کی تبلیغ کرتےہوئے نظر آتے ہیں، اب تو یہ عالم یہ کہ ہر فرقے کا لیڈر بے تحاشا امیر، جائیدادوں کا مالک اور بڑی بڑی گاڑیوں میں سیکیورٹی گارڈز کے ساتھ گھومتے ہیں ان میں سادگی اور انکساری نظر نہیں آتی، وہ لوگوں کو تبلیغ کرتے ہیں کہ ہمارے نبی پاک ﷺ نے تمام عمر سادگی اور انکساری میں گزاری۔

ہمارے نبی پاک ﷺ کی متاثر کن طرز زندگی کو دیکھ کر مشرک، مسلمان ہوجاتے تھے، ایک انسان مسلمان بھی اسی وقت ہوتا ہے جب قران و سنت کے مطابق اپنی زندگی گزارتا ہے، مسلمان کے لیے یہ بہت ضروری ہے اور یہ اس کے ایمان کا حصہ ہے کہ وہ قران و حدیث کو پڑھے اور سمجھے اور اپنی زندگی گزارے ۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ قران و حدیث میں نہ شعیوں کے بارے میں لکھا نہ دیوبند کے اور نہ ہی بریلوی، نہ حنفی اور نہ ہی کسی اور فرقے کے نام لکھے ہیں تو پھر ہم ان فرقوں کو کیوں مانتے ہیں، ہمیں صرف اسلام کو ماننا چاہیے اور قران و سنت ہی ہمارے مذہب کی نشاندہی کرتا ہے۔

آج ہم مختلف صحابہ کرام کو باعث بحث بناکر ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر انکی طرز زندگی جو کہ ہمیشہ قران و سنت کے مطابق رہی ہے اس پر غور نہیں کر پاتے ہیں ۔ تمام صحابہ کرام ہمیشہ سے اللہ و نبی ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے رہے۔

حضرت محمد ﷺ ہمارے آخری نبی ہیں اور ہمیشہ رہے گے تو پھر ہم کیوں فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں، حضور نے ہمیشہ فرمایا کہ قران اور میرے بتائے ہوئے راستے پر چلنا اور میرا بتایا ہوا راستہ قران کے بتائے ہوئے راستے کے مطابق ہے ۔

آج ہم سب کو یہ احساص کرنا چاہیے کہ ہمارے لیے فرقے اہمیت نہیں رکھتے، ہم قران و سنت کو ماننے والے مسلمان ہیں، ہم سب کا ایک ہی اسلام ہے اور ہم سب کو قران و سنت کے مطابق زندگی گزارنے چایئے اور کسی ایسے عالم دین، پیر ، مولانا کہ پیچھے نہیں جانا چایئے جو ہمیں آپس میں تقسیم کر رہا ہو۔ ہمارے لیے تمام مساجد اللہ کے گھر ہیں اور اس پر کسی بھی فرقے کی مہر نہیں ہونا چاہیے۔

اگر ہم قران کو سمجھ کر پڑھیں اور اس کی تعلیم حاصل کریں اور اپنی زندگی کو قران و حدیث کے مطابق گزاریں تو ہمیں نہ مایوسی ہوگی اور نہ ہی کسی تعویز کی ضرورت ہوگی، بے شک اللہ پاک ہی سب کی سننے والا ہے اور سب کو دینے ولا ہے، وہ ہر زبان جانتا ہے اور یہاں تک کہ گونگے بہروں کی بات بھی سمجھتا ہے تو پھر ہم تعویز والاے باباؤں کے کیوں جاتے ہیں ؟ اللہ نے ہمیں کہا ہے کہ مانگو مجھ سے میں دونگا اور میں دینے والا ہوں، اللہ پاک نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میں جس چیز کو کہو ہو جا وہ ہوجاتی ہے، اللہ پاک غفور و رحیم ہے، کریم ہے وہ اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے اور اسی لیے اس نے معافی کا دروازہ کھلا رکھا ہے، جنت و جہنم، گناہ و ثواب کا فیصلہ اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم سب اپنے مالک و مولا اللہ رب العزت سے اپنی تمام مشکلات کہ حل طلب کریں اور الہ ہی سے مدد مانگیں بے شک وہ ہر انسان کی سنتا ہے۔

Related Posts