آج پاکستان کا 78واں یومِ آزادی ہے۔ پورے ملک میں سبز ہلالی پرچم ہر گلی، ہر چوک اور ہر عمارت پر لہرا رہا ہے۔ گلی محلوں میں بچے اور بڑے سبھی جھنڈیاں لہرا رہے ہیں، نعرے لگا رہے ہیں اور ٹی وی اسکرین پر جوش و جذبے سے بھرپور ملی نغمے گونج رہے ہیں ۔
ان سب خوشیوں اور رنگوں کے بیچ ایک ایسی حقیقت بھی ہے جسے ریاست، معاشرہ اور ہمارے مہذب سیاستدان ہمیشہ پردے کے پیچھے چھپاتے ہیں۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کے قیام میں مسیحیوں کی قربانیاں اور کردار کاغذوں میں بھی دبے پڑے ہیں، اور شعور میں بھی۔
پاکستان بننے سے پہلے کا منظرنامہ یاد کریں جب پنجاب اسمبلی میں ایک اہم ووٹنگ ہوئی، جس کا نتیجہ طے کرتا تھا کہ پنجاب پاکستان کا حصہ ہوگا یا نہیں۔ اس وقت مسیحی اراکینِ اسمبلی، خصوصاً دیوان بہادر ایس پی سنگھا، نے وہ فیصلہ کن ووٹ دیے جنہوں نے پاکستان کے حق میں پلڑا بھاری کر دیا۔
اگر اس وقت یہ ووٹ نہ پڑتے تو شاید آج کا نقشہ مختلف ہوتا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے بھی مسیحیوں کی خدمات کا اعتراف کیا اور یقین دہانی کرائی کہ نئے ملک میں سب شہری برابر ہوں گے۔ اس وعدے پر یقین کر کے مسیحی برادری نے دل و جان سے پاکستان کے لیے کام کیا۔
قیامِ پاکستان کے بعد تعلیمی اور صحت کے شعبے میں مسیحیوں کا کردار بے مثال تھا۔ کراچی کے مسیحی تعلیمی ادارے ہوں یا لاہور کا فورمین کرسچن کالج، ایڈورڈز کالج پشاور، گورمین کالج سیالکوٹ، سینٹ میری اسکول، سینٹ انتھونی اسکول ، یہ سب ادارے مسیحی انتظامیہ کے تحت ایسے معیاری تعلیم فراہم کر رہے تھے جو پورے برصغیر میں مشہور تھی۔
اسپتالوں میں مسیحی نرسز اور ڈاکٹرز اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور خدمت کے جذبے سے جانیں بچا رہے تھے۔ کراچی کا ہولی فیملی اسپتال، لاہور کا سروسز اسپتال اور درجنوں دیگر مراکز صحت میں مسیحی خواتین اور مرد مریضوں کی خدمت کو عبادت سمجھ کر انجام دے رہے تھے۔
وقت گزرتا گیا، وعدے کاغذوں میں دفن ہوگئے اور مساوات کا خواب مسیحیوں کے لیے ایک طنزیہ فسانہ بن گیا۔ ریاستی سطح پر ان کے لیے ترقی کے دروازے آہستہ آہستہ بند کیے گئے۔
آج بھی جب سرکاری ملازمتوں کے اشتہار آتے ہیں تو ان میں ’’صرف مسیحیوں کے لیے‘‘ کا خانہ اکثر صرف ایک پوسٹ کے لیے مخصوص ہوتا ہے اور وہ پوسٹ ہے ’’خاکروب‘‘۔ گویا ریاست نے فیصلہ کر لیا کہ تعلیم، صحت اور سیاست میں قربانیاں دینے والی برادری کا اصل مقام صرف جھاڑو پکڑنا ہے۔
یہاں سے کہانی اور تلخ ہوتی ہے۔ معاشرے میں مسیحیوں کے ساتھ ناروا سلوک عام سی بات بن گیا۔ ان کے مذہبی تہواروں پر تعصب کے مظاہرے، عبادت گاہوں کی بے حرمتی، اور سب سے خوفناک مسیحی بچیوں کے اغوا اور جبری مذہب تبدیلی۔
آئے دن خبروں میں سننے کو ملتا ہے کہ فلاں شہر میں 13 سالہ یا 14 سالہ مسیحی بچی اغوا ہوئی، مسلمان لڑکے سے نکاح کرا دیا گیا اور عدالت میں بیان دلوایا گیا کہ اس نے ’’اپنی مرضی سے‘‘ اسلام قبول کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ 13 سال کی بچی کس قانون کے مطابق بالغ ہے؟ لیکن یہاں قانون بھی اکثر اکثریت کی مرضی سے چلتا ہے۔
پھر وہ سانحات ہیں جن کا ذکر کرتے ہوئے دل کانپ اٹھتا ہے۔ 1997 کا سانحہ شانتی نگر جہاں سیکڑوں گھروں کو جلا کر راکھ کر دیا گیا، درجنوں بائبل جلا دی گئیں اور معصوم لوگ اپنے ہی ملک میں پناہ ڈھونڈتے پھرے۔ 2009 کا سانحہ گوجرہ ایک افواہ کی بنیاد پر پورا محلہ جلا دیا گیا، عورتوں اور بچوں سمیت 7 افراد زندہ جلائے گئے۔
سال 2013 میں پشاور چرچ دھماکہ ہوا جس میں 100 سے زائد لوگ مارے گئے، جن میں بچے بھی شامل تھے۔ 2015 کا سانحہ یوحنا آباد چرچ حملوں کے بعد احتجاج کرنے والوں کو سرِعام مارا گیا اور لاشوں کو گھسیٹا گیااور پھر 2023 کا سانحہ جڑانوالہ جہاں سیکڑوں گھروں، درجنوں گرجا گھروں اور بائبلوں کو آگ لگا دی گئی، صرف ایک الزام پرلیکن مجرم کو عدالتوں سے رہائی مل گئی۔
ان سب کے بعد سوال یہ ہے کہ ہمارے اقلیتی نمائندے کہاں تھے؟ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے وہ افراد، جنہیں مسیحی برادری کی نمائندگی کے لیے چُنا جاتا ہے، ہر سانحہ کے بعد چند رسمی بیانات جاری کرتے ہیں، میڈیا پر دو منٹ کی نمائش کرتے ہیں، اور پھر دوبارہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ انہیں وزارتیں ملیں تو وہ اپنے عہدے بچانے میں مصروف رہے، عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے میں نہیں۔ شاید ان کے لیے سیاست ایک کیریئر ہے، خدمت نہیں۔
آج یومِ آزادی پر یہی نمائندے سبز کپڑے پہن کر، ہاتھ میں پرچم لے کر، کیمرے کے سامنے کھڑے ہو کر تصویریں بنواتے ہیں لیکن کیا یہ کبھی اپنے دل سے پوچھتے ہیں کہ آزادی کا مطلب کیا ہے؟ کیا یہ مساوات اور انصاف کے بغیر ممکن ہے؟ کیا آزادی صرف اکثریت کی ہے یا ہر اس شہری کی بھی ہے جو اپنے آپ کو پاکستانی کہتا ہے؟
78 سال میں مسیحیوں کو بار بار یہ احساس دلایا گیا کہ وہ اس ملک کے ’’اصل مالک‘‘ نہیں، بلکہ کرایہ دار ہیں اور کرایہ دار بھی وہ، جن کا کرایہ بڑھانے کی بجائے عزت کم کر دی جاتی ہے۔ ان سے قربانیاں لیں، ان سے خدمت کرائیں لیکن برابری کا حق نہ دیں۔
پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کوئی اور کمیونٹی ہو جس نے اس ملک کی تعمیر میں اتنا حصہ ڈالا اور بدلے میں اتنی ناانصافی دیکھی ہو۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سب آج بھی جاری ہے۔ ریاستی بیانیہ بدلتا نہیں، معاشرتی رویہ بدلتا نہیں، اور ہمارے نمائندے بدلنا نہیں چاہتے۔
یومِ آزادی کے موقع پر ہم سب کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ہم جشن منانے کے ساتھ ساتھ یہ سوچیں کہ اگر آزادی کا مطلب صرف جھنڈا لہرانا اور نعرے لگانا ہے تو پھر یہ آزادی ادھوری ہے۔ حقیقی آزادی وہ ہے جہاں ہر شہری چاہے وہ مسلمان ہو، مسیحی، ہندو یا سکھ خود کو برابر کا پاکستانی سمجھے، اور قانون بھی اسے اسی طرح دیکھے۔
78 سال کے بعد بھی اگر مسیحیوں کے لیے یہ ملک خوف، تعصب اور ناانصافی کی علامت ہے تو پھر شاید ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہم نے آزادی کو صرف کاغذ پر حاصل کیا ہے، دلوں میں نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں