آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) پر برہمی کا اظہار کیا ہے کہ اس نے 17 ستمبر کو دبئی میں متحدہ عرب امارات کے خلاف ایشیا کپ میچ سے قبل میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ اور پاکستان ٹیم مینجمنٹ کے درمیان ہونے والی ملاقات کو ویڈیو پر ریکارڈ کیا۔
بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق جمعرات کو آئی سی سی کے سی ای او سنجوگ گپتا نے ایک سخت لہجے پر مشتمل ای میل میں پی سی بی کو آگاہ کیا کہ کھلاڑیوں اور میچ آفیشلز ایریا (PMOA) میں موبائل فون استعمال کرکے اس گفتگو کو فلمانا ضابطے کی خلاف ورزی ہے۔
ای میل کے مطابق یہ ملاقات اسی ایریا میں ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں پائی کرافٹ کے ساتھ پاکستان کے کپتان سلمان آغا، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن، ٹیم منیجر نوید اکرم چیمہ اور میڈیا منیجر نعیم شریک تھے، جبکہ آئی سی سی کے جنرل منیجر کرکٹ وسیم خان بھی موجود تھے۔
اللہ کا شکر ہے پاکستان سرخرو ہوا، امپائر کی معافی پر محسن نقوی کا ردعمل
ای میل کے مطابق جب نعیم گیلانی نے ملاقات کو فلمانا چاہا تو انہیں بتایا گیا کہ انسدادِ بدعنوانی (اینٹی کرپشن) کوڈ کے تحت PMOA میں موبائل فون لے جانا ممنوع ہے۔ تاہم پی سی بی اس بات پر بضد رہا کہ ملاقات ریکارڈ ہوگی ورنہ پاکستان یو اے ای کے خلاف میچ نہیں کھیلے گا۔ بالآخر ایک سمجھوتہ ہوا اور گیلانی کو آڈیو کے بغیر ویڈیو ریکارڈ کرنے کی اجازت دے دی گئی۔
گپتا نے ای میل میں اس عمل کو بدسلوکی (misconduct) قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی سی بی نے PMOA پروٹوکول کی “متعدد خلاف ورزیاں” کی ہیں۔ ملاقات کے دوران پائی کرافٹ نے پاکستان مینجمنٹ کو بتایا کہ وہ محض یہ پیغام پہنچا رہے تھے کہ بھارتی کپتان سوریا کمار یادو پاکستان کپتان سلمان آغا سے ہاتھ نہیں ملائیں گے، یہ ہدایت انہوں نے جاری نہیں کی بلکہ انہیں دبئی کے وینیو مینیجر نے ٹاس سے چند منٹ پہلے دی تھی۔ انہوں نے “غلط فہمی اور غلط پیغام رسانی” پر افسوس کا اظہار کیا لیکن معافی نہیں مانگی۔
تاہم ملاقات کے فوراً بعد پی سی بی نے بیان جاری کیا کہ پائی کرافٹ نے پاکستان ٹیم کے مینیجر اور کپتان سے معافی مانگ لی ہے۔ آئی سی سی نے اس موقف کی تردید کی اور گپتا نے اپنے ای میل میں دہرایا کہ پائی کرافٹ نے صرف غلط فہمی پر افسوس ظاہر کیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








