بھارت میں موسلا دھار بارش کا قیامت خیز وار؛ 40 سال پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ بھارتی میڈیا)

بھارت کی مختلف ریاستوں میں موسلا دھار بارشوں نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا جس کے نتیجے میں کرنٹ لگنے اور دیگر حادثات میں کم از کم 12 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

کولکتہ میں ہونے والی تمام ہلاکتیں بجلی کے کرنٹ لگنے سے ہوئیں۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ان حادثات کی ذمہ داری نجی بجلی کمپنی سی ای ایس سی لمیٹڈ پر عائد کی ہے۔ شدید بارشوں کی وجہ سے کولکتہ کی سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں ٹریفک جام ہو گیا اور ٹرینوں سمیت میٹرو سروسز بری طرح متاثر ہوئیں۔ شہر کے بیشتر حصوں میں بجلی اور انٹرنیٹ کی سہولیات بھی منقطع ہو گئیں۔

موسمیاتی ادارے کے مطابق کولکتہ میں گزشتہ 39 سالوں میں اتنی شدید بارش نہیں دیکھی گئی۔ یکم ستمبر سے 22 ستمبر تک 178.9 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ ایک دن میں اوسطاً 247.4 ملی میٹر بارش ہوئی۔ یہ بارش زیادہ تر رات گئے سے صبح تک چھ گھنٹوں کے دوران ہوئی اور کچھ علاقوں میں 300 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس سے قبل 1978 اور 1986 میں ستمبر کے مہینے میں 251 ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔

اس طوفانی بارش نے کولکتہ اور اس کے مضافاتی علاقوں میں کئی گھروں اور رہائشی عمارتوں میں پانی داخل کر دیا۔ ایئرپورٹ پر 11 پروازوں کی آمد اور 31 روانگیوں میں تاخیر ہوئی۔ رات بھر کی بارش کے بعد سیاسی جماعتوں نے اپنے تمام پروگرام منسوخ کر دیے۔

دوسری جانب تلنگانہ میں بھی شدید بارشوں کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات نے 30 ستمبر تک موسلا دھار بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔

حکام نے منچریال، نرمل، نظام آباد، جیا شنکر بھوپال پلی، ملگ، نلگنڈہ، سوریا پیٹ، محبوب آباد، ورنگل، ہنمکنڈہ اور جنگاوں اضلاع کے لیے شدید بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے اور ان علاقوں میں یلو الرٹ نافذ کر دیا گیا۔

جمعرات کو عادل آباد، آصف آباد، منچریال، نرمل، نظام آباد، پداپلی، جیا شنکر بھوپال پلی، ملگ، بھدرادری کتہ گوڑم، محبوب آباد، ورنگل اور ہنمکنڈہ اضلاع میں بھی شدید بارش متوقع ہے۔ جمعہ کے روز نرمل، نظام آباد، وقار آباد، سنگاریڈی، میدک، کاماریڈی اور محبوب نگر اضلاع میں انتہائی شدید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

گاڑیاں بہہ گئیں، بجلی بند، ٹریفک جام؛ کیا حیدرآباد ڈوب رہا ہے؟

یاد رہے کہ بھارتی شہر حیدر آباد دکن میں بھی موسلا دھار بارش نے تباہی مچائی ہوئی ہے گزشتہ روز سہ پہر سے شروع ہونے والی شدید بارشوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے جس کے باعث پورے شہر ندی نالوں کا منظر پیش کررہا ہے جبکہ زندگی کا نظام مفلوج ہوچکا ہے۔

شہر میں شدید بارشوں سے سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ کئی مقامات پر گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں جبکہ شہر کے پرانے علاقے کاروان، ٹولی چوکی، مہدی پٹنم، عنبر پیٹ، کاچی گوڑہ، سعید آباد، سنتوش نگر میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

Related Posts