نیوجرسی: 27 سالہ پاکستانی ڈاکٹر مریم شوکت جو امریکہ میں اپنی ریزیڈنسی مکمل کر رہی تھیں، آج جگر کی پیوندکاری کے عمل سے صرف تیس منٹ قبل انتقال کر گئیں، وہ جگر فیل ہونے کے باعث اسپتال میں داخل تھیں اور ان کی زندگی بچانے کا واحد راستہ جگر کی پیوندکاری قرار دیا گیا تھا۔
ڈاکٹر مریم جو خدمتِ انسانیت کے خواب کے ساتھ امریکہ پہنچی تھیں، اپنی منزل حاصل کرنے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
رواں ماہ کے آغاز میں ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور نیوآرک، نیوجرسی کے رٹگرز یونیورسٹی اسپتال میں داخل کیا گیا۔ چند ہی دنوں میں حالت تشویشناک ہوگئی اور ڈاکٹروں نے فوری پیوندکاری کو ناگزیر قرار دیا۔
اس نازک مرحلے پر ان کے شوہر ڈاکٹر حمزہ ظفر نے ایسوسی ایشن آف فزیشنز آف پاکستانی ڈیسنٹ آف نارتھ امریکا (اے پی پی این اے) سے مدد کی اپیل کی۔
تنظیم نے فوری طور پر ہنگامی مہم شروع کی اور صرف ایک دن میں 2 لاکھ 73 ہزار ڈالر جمع کر لیے، جو بعد میں بڑھ کر تقریباً 4 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے۔ اس غیر معمولی تعاون کے نتیجے میں اسپتال نے پیوندکاری کے اخراجات 9 لاکھ ڈالر سے کم کرکے ساڑھے 4 لاکھ ڈالر کر دیے۔
بھارتی اداکار و سیاستدان وجے تھلاپتی کے جلسے میں بھگدڑ، 31 ہلاک اور 50 سے زائد زخمی
اے پی پی این اے نے فوری طور پر ایک لاکھ ڈالر اسپتال کو ادا کیے جس کے بعد ڈاکٹر مریم کا نام باضابطہ طور پر پیوندکاری لسٹ میں شامل کیا گیا۔ جلد ہی موزوں ڈونر بھی دستیاب ہوگیا۔
اے پی پی این اے کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد ثنااللہ، صدر ڈاکٹر حمیرا قمر، اور دیگر اراکین ڈاکٹر ذیشان، ڈاکٹر بابر راؤ، ڈاکٹر فتح شہزاد اور ڈاکٹر صدیق خرم نے اس کوشش میں مرکزی کردار ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پوری تنظیم اس امید کے ساتھ ایک ہوگئی تھی کہ ایک زندگی بچانے کے بعد وہ ڈاکٹر مریم کے ذریعے مزید کئی زندگیاں بچا سکیں گے۔
افسوسناک طور پر جب ڈاکٹر مریم کو آپریشن تھیٹر منتقل کیا جا رہا تھا تو ان کی حالت اچانک بگڑ گئی اور وہ صرف تیس منٹ قبل ہی انتقال کر گئیں۔
اے پی پی این اے کے رہنماؤں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مریم شوکت کی کہانی قربانی، ہمت اور امید کی کہانی ہے۔ وہ دوسروں کو شفا دینے آئیں، مگر اپنی آخری گھڑیوں میں خود شفا کی محتاج بن گئیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








