سندھ حکومت نے دسمبر 2025 میں پاکستان کی پہلی سرکاری ای- ٹیکسی (E-Taxi) اور الیکٹرک ٹیکسی سروس (EV Taxi) شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ اقدام صوبے میں جدید، ماحول دوست اور معیاری ٹرانسپورٹ کی فراہمی کی جانب ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
سندھ محکمہ اطلاعات کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان کے مطابق یہ فیصلہ صوبائی وزیرِ اعلیٰ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیرِ صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد زمین، سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی منیجنگ ڈائریکٹر کنول نظام بھٹو سمیت دیگر اہم افسران شریک ہوئے۔
حکومت سندھ نے پاکستان کی پہلی حکومتی ٹیکسی سروس شروع کرنے اور ای وی ٹیکسی لانچ کرنے کی تیاریاں تیز کر دی ہیں
حکومت سندھ کی جانب سے دسمبر میں ای وی ٹیکسی متعارف کروانے کا فیصلہ
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت اہم اجلاس، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سندھ ماس… pic.twitter.com/2kXO7h6QRW
— Sindh Information Department (@sindhinfodepart) September 29, 2025
اجلاس کے دوران شرجیل انعام میمن کو سندھ میں جاری مختلف ٹرانسپورٹ منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت پہلی بار پاکستان میں اپنی سرکاری ٹیکسی سروس متعارف کروا رہی ہے جس کا مقصد عوام کو جدید اور ماحول دوست سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ یہ سروس دسمبر 2025 تک شروع کر دی جائے گی۔
شرجیل میمن نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس منصوبے میں خاص دلچسپی لی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ عوام کو ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر باعزت اور محفوظ ٹرانسپورٹ دستیاب ہو۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں آنے والی کچھ ای وی ٹیکسیاں خصوصی طور پر خواتین کے لیے مختص کی جائیں گی۔ اُن کے مطابق، سندھ حکومت ماضی میں بھی اس شعبے میں کئی انقلابی اقدامات کر چکی ہے جن میں خواتین کے لیے پنک بس سروس، ماحول دوست الیکٹرک بسیں اور خواتین و طالبات کے لیے پنک اسکوٹی اسکیم شامل ہیں جنہیں عوام کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی۔
الیکٹرک بائیکس، رکشہ اور لوڈرز! سود سے پاک آسان قسطوں پر، جانیں اپلائی کرنے کا طریقہ
انہوں نے مزید کہاکہ اب حکومت سندھ نہ صرف خواتین کے لیے پنک ای وی ٹیکسی سروس لا رہی ہے بلکہ پاکستان کی پہلی مکمل EV ٹیکسی سروس کا آغاز بھی کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے مسائل کو کم کرنے کے لیے ڈبل ڈیکر بسیں اور مزید الیکٹرک بسیں شامل کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے انفراسٹرکچر اور چارجنگ اسٹیشنز کی تعمیر پر بھی تیزی سے کام جاری ہے تاکہ یہ منصوبہ مستقل اور پائیدار انداز میں چلایا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








