افغانستان کے صوبہ بدخشان میں مقامی کمانڈر اور طالبان فورسز کے درمیان کئی دن گزرنے کے باوجود خونریز جھڑپیں جاری ہیں۔
افغان میڈیا کے مطابق بدخشان کے ضلع شہرِ بزرگ میں مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح طالبان کے دستوں اور مقامی کماندار عبدالرحمان عمار کے افراد کے درمیان ایک بار پھر جھڑپ ہوئی ہے۔ عبدالرحمان عمار طالبان کے سابق سربراہِ معادن (معدنیات کے محکمے کے نگران) ہیں۔ ذرائع کے مطابق اب تک اس جھڑپ میں ہونے والے جانی نقصان کی تفصیل معلوم نہیں ہو سکی، تاہم عبدالرحمان عمار کے لوگ طالبان فورسز کے محاصرے میں ہیں۔
افغان میڈیا کے مطابق طالبان کے سربراہ فوج قاری فصیح الدین فطرت منگل کے روز ان جھڑپوں کو ختم کرنے کے لیے بدخشان پہنچے اور دونوں فریقوں سے بات چیت کی۔ تاہم طالبان کے چیف آف اسٹاف کی یہ کوششیں ناکام رہیں اور جھڑپوں کا سلسلہ ختم نہیں ہو سکا۔
رپورٹوں کے مطابق عبدالرحمان عمار کے زیرِ کمان افراد شہر بزرگ کی پہاڑیوں میں مورچہ زن ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سابق طالبان کمانڈر مقامی عوام کی ایک بڑی تعداد کی حمایت بھی حاصل کیے ہوئے ہے۔
عبدالرحمان عمار اور بدخشاں میں طالبان کے موجودہ سربراہِ معادن شفیقاللہ حفیظی کے درمیان سونے کی کانوں پر قبضے کے تنازعے پر کئی روز سے لڑائی جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ عمار کو طالبان کے چیف آف اسٹاف فصیح الدین فطرت کی حمایت حاصل ہے۔
دیکھئے ویڈیو: طالبان مخالف افغان رہنما احمد مسعود نے پاکستان کی حمایت کردی
طالبان انتظامیہ نے تاحال اس جھڑپ کے حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔ واضح ہو کہ گذشتہ چار برسوں کے دوران طالبان انتظامیہ نے افغانستان کے مختلف صوبوں میں معدنی وسائل کی کھدائی پر خاص توجہ دی ہے۔ بدخشاں میں طالبان کمانڈروں کے درمیان ان وسائل کی تقسیم پر کئی مرتبہ خونی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








