بھارت نے پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت دیگر خطے کے دیگر ممالک پر اپنا اثر رسوخ قائم رکھنے کیلئے پراکسی وار اور دہشت گردی کو اپنا ہتھیار بنایا ہوا ہے اور بھارت سرحد پار سے دہشت گردی کے ساتھ ساتھ ٹرانس نیشنل ٹیررازم کا سہارا بھی لے رہا ہے۔
اس کی سب سے بڑی مثال ہردیپ سنگھ نجر کا قتل ، جس کا تذکرہ کینیڈا جیسے ملک کے وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر بھارت سے منسوب کیا اور بتایا کہ وہ قتل کیسے ہوا اور اس میں بھارت کس طرح ملوث تھا اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفارت کاروں کو بھی ملک بدر کردیا۔ اس کے علاوہ امریکا اور برطانیہ سے بھی ایسے ہی کیسز کی مثالیں دی جاسکتی ہیں ۔ بھارتی حکومت کے سابق را افسر وکاش یادو نے امریکی شہری گرپتونت سنگھ پنوں پر قاتلانہ حملے کی سازش کی تاہم یہ سازش ناکام رہی ۔واضح رہے کہ پاکستان کے 20 افراد کو بھی بھارت کی خفیہ ایجنسی کے ایما پر ٹارگٹ کیا گیا جس کا فٹ پرنٹ اور پیٹرن بنگلہ دیش میں شہید کیے گئے طلبہ رہنما عثمان ہادی کے قتل کیلئے استعمال کیا گیا۔
اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عثمان ہادی نے بھارت کی پراکسی کے طور پر بنگلہ دیش کی حکومت سنبھالنے والی معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے کلیدی کردار ادا کیا، جو بھارت کی خفیہ انٹیلی جنس ایجنسی راکو ہضم نہیں ہورہا تھا۔ عثمان ہادی بطور ایک فعال رہنما الیکشن کی مہم بھی چلا رہا تھا جس نے بنگلہ دیش کی آئندہ منتخب ہونے والی حکومت میں آنا ہی تھا تو ایک جانب پاکستان اور پھر دوسری جانب سے بنگلہ دیش کی حکومتیں جو آپس میں بہتر تعلقات کو فروغ دینے کیلئے کوشاں بھی ہیں، آپس میں مل کر بھارت کو سینڈوچ نہ بنا دیں، اورکیونکہ عثمان ہادی جیسا بھارت مخالف رہنما حکومت میں آنے کا قوی امکان تھا، جس کی وجہ سے ایک طویل عرصے تک بھارتی حکومت کا بنگلہ دیش سے نام و نشان تک مٹ جاتا اور یہی وہ ڈراؤنا خواب تھا جس سے بچنے کیلئے بھارتی ایجنٹس نے یہ انتہائی قدم اٹھانا شروع کردیا۔
اس کے علاوہ بھارتی خفیہ ایجنسی را سمیت دیگر ایجنسیوں کی اسٹرٹیجک کارکردگی پر نظر رکھنے والے اجیت ڈوول جو نریندر مودی کے دورِ حکومت میں قومی سلامتی ایڈوائزر کا کردار نبھا رہے ہیں، بنگلہ دیش کی معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو بھارت کا مہرہ بنانے کیلئے وقتاً فوقتاً ان سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں۔ یہ وہی شیخ حسینہ واجد ہیں جن کے دور میں بنگلہ دیش پر تو بھارت کا اتنا اثر رسوخ رہا ہے کہ مختلف وزارتوں میں سیکریٹریز تک بھارتی ایجنسیوں کی کلیرنس کے بعد پوسٹ کیے جاتے تھے اور شیخ حسینہ واجد کے دور میں عوام پر جو ظلم کے پہاڑ توڑے گئے اور خاص طور پر شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹنے سے بچانے کیلئے نہتے عوام پر فائرنگ سمیت جو دیگر مظالم ہوئے، اس میں بھی را سمیت دیگر بھارتی اداروں کا کردار نظر انداز نہیں کیاجاسکتا جبکہ عثمان ہادی کا قتل اس کی تازہ ترین مثال ہے جو کھل کر بنگلہ دیشی حکام کے سامنے آچکی ہے جو بھارت سے عثمان ہادی کے قاتلوں کی حوالگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دراصل مسئلہ یہ تھا کہ عثمان ہادی سمیت دیگر طلبہ رہنماؤں نے شیخ حسینہ واجد کے خلاف جو ملک گیر تحریک چلائی اور پھر پورے ملک میں بھارت کے خلاف جو فضا بن گئی ، اسے دیکھتے ہوئے بھارت عثمان ہادی کے علاوہ بھی دیگر شخصیات کو نشانہ بنا سکتا ہے ، اگر یہ سازشیں جلد بے نقاب نہ کی گئیں۔ آج بنگلہ دیش میں وہ لوگ سامنے آرہے ہیں جو بانیانِ پاکستان کی اولادوں میں سے ہیں جن میں سے بطور خاص حسین شہید سہروردی اور مولانا فضل الحق کے نام لیے جاسکتے ہیں۔
شیخ حسینہ واجد کی حکومت گرتے ہی دارالحکومت ڈھاکہ میں پاکستان کے نعرے لگنا شروع ہوگئے تھے۔ بنگلہ دیشی پریس کلب میں پاکستان کے جھنڈے لہرائے گئے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ بنگلہ دیش جو ایک لحاظ سے 1971 کی جنگ میں پاکستان کا بچھڑا ہوابھائی قرار دیا جاسکتا ہے، اور اب بنگلہ دیش میں بھارت کے خلاف تحریک جس رفتار سے شروع ہوئی ہے، اگر بنگلہ دیشی قوم اسے برقرار رکھتی ہے تو پھر بھارت سے متأثرہ سازشی عناصر کو بنگلہ دیش میں کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ اپنے آخری دور حکومت میں بنگلہ دیش پر مسلسل 15سال تک برسر اقتدار رہنے والی شیخ حسینہ واجد کی معزول حکومت کے تانے بانے اب بھی بنگلہ دیش میں موجود ہیں جن سے بنگلہ دیشی قوم کو ہوشیار رہنا اور اپنے نئے انقلابی دور کو جاری رکھناہوگا۔
دوسری جانب بھارت کی سازشوں کو بے نقاب کرنے کیلئے پاکستان بھی سرگرمِ عمل ہے جس نے عالمی سطح پر تسلسل اور شفافیت کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کیا اور پہلگام دہشت گردی سے لے کر آسٹریلین شہر سڈنی میں ساحل پر ہونے والی دہشت گردی کا الزام بغیر کسی ثبوت و شواہد کے پاکستان پر عائد کرنے والے بھارتی سازشی عناصر کو عالمی سطح پر بے نقا ب کیا جس کی تائید عالمی سطح پر ہوئی اور بھارت کی سازشوں کے نتیجے میں جب پاکستان نے آپریشن سندور کا جواب معرکہ حق سے دیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ختم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ چھڑ سکتی تھی جو جوہری جنگ میں تبدیل ہوسکتی تھی ، انہوں نے اسی لیے اسے بند کروادیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ معرکہ حق کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی خارجہ پالیسی نئی بلندیوں پر پہنچی اور سڈنی میں ہونے والی دہشت گردی کا تعلق جب بھارت سے ثابت ہونے کا شاخسانہ مل گیا تو ا س سے عالمی سطح پر بھارت کی جتنی سبکی ہوئی ہے، پاکستان کے مؤقف کو اتنی ہی تائید اور حمایت حاصل ہوئی ہے اور یہی صورتحال بنگلہ دیش میں عثمان ہادی کے قتل کے بعد بھی بھارت کو درپیش ہے اور جہاں بھارت کیلئے چار دروازے بند ہوئے ہیں ، وہاں پاکستان کو ایک نیا راستہ مل گیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اس صورتحال کا فائد ہ اٹھائے اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اسے استعمال کرے ، حتیٰ کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں باب 7 کے تحت قرارداد بھی پیش کرنے کا یہی بہترین موقع ہے تاکہ عالمی برادری کشمیر میں جاری ظلم و ستم کا نوٹس لے اور بھارتی ظلم وجبر کی یہ تاریک رات تھم سکے جو گزشتہ سات دہائیوں سے مقبوضہ وادی پر سایہ کیے ہوئے ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں