روس یوکرین جنگ بندی قریب۔۔۔ تیسری عالمی جنگ سے دوری

تازہ ترین

تازہ ترین

بین الاقوامی سطح پر جیو پولیٹیکل منظر نامہ نئی کروٹیں لے رہا ہے جبکہ 28دسمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی نے ملاقات اور مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا کہ یوکرین روس امن پلان پر 90فیصد حصے پر تو اتفاقِ رائے ہوا اور دونوں سربراہانِ مملکت کو امید ہے کہ امن کے معاہدے پر دستخط جلد ہوں گے لیکن کوئی  حتمی  بریک تھرو نہیں ہوسکا  اور یہاں بریک تھرو سے کیا مراد ہے؟ اور وہ کیوں نہیں ہوسکا، اس پر بھی روشنی ڈالنا ضروری ہوگا۔  

روس–یوکرین امن منصوبوں کے اہم نکات میں ڈونلڈ ٹرمپ کا امن منصوبہ سرفہرست ہے جس میں ابتدائی طورپر 28نکات شامل تھے، جس میں آگے چل کر 20 رہ گئے ہیں۔ اس کے ذیلی حصے کے مطابق موجودہ لائن آف کانٹیکٹ پر جنگ بندی اور علاقے کی فریزنگ ہوگی جس کا مطلب ڈی فیکٹو طور پر موجودہ قبضے کو تسلیم کرنا ہے، جس میں  روس کے زیرِ قبضہ علاقوں کو عارضی طور پر تسلیم کیا جانا شامل ہے جبکہ منصوبے میں یہ بھی شامل ہے کہ 100 دن کے اندر اندر یوکرین میں انتخابات ہوں گے اور ٹرمپ کے منصوبے میں واضح کیا گیا ہے کہ یوکرین نیٹو کی رکنیت حاصل نہیں کرے گا۔

ایک اضافی سخت نکتہ یہ ہے کہ اگر مستقبل میں روس دوبارہ حملہ کرے تو فوری فوجی ردِعمل، تمام عالمی پابندیاں بحال اور علاقائی تسلیم اور معاہدہ منسوخ ہوجائے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ یوکرین نیٹو میں شامل ہوسکے گا۔ یہی نکتہ یوکرین کے لیے ناقابلِ سمجھوتہ  لیکن روس اور امریکہ کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ روس کا مؤقف ہے کہ یہ شرط قبول کرنا براہِ راست تیسری عالمی جنگ کے خطرے کے مترادف ہوگا اور روس پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ نیٹو کی مداخلت کی صورت میں جوہری ہتھیار آخری آپشن ہو سکتے ہیں۔ امریکہ نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسی گارنٹی پر آمادہ نہیں تاہم 10 سالہ امریکی سیکیورٹی گارنٹی زیر غور ہے۔ زاپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ پر بھی تنازع ہے جو روس کے زیرِ قبضہ علاقے میں واقع ہے اور زیلنسکی کا مطالبہ ہے کہ پلانٹ کا کنٹرول یوکرین اور امریکہ مشترکہ طور پر سنبھالیں۔ روس  کنٹرول دینے سے انکاری ہے کیونکہ علاقہ پہلے ہی روس کے قبضے میں ہے اور یہ معاملہ سب سے حساس اور حل طلب نکات میں شامل ہے۔

غیر فوجی زون پر اختلاف اور  یوکرین کا مطالبہ ہے کہ روس کے زیرِ قبضہ تمام علاقے مکمل طور پر غیر فوجی کیے جائیں۔ روس کا مؤقف ہے کہ مکمل انخلا قبول نہیں بلکہ صرف فوجی موجودگی کم  کی جاسکتی ہے۔ مذاکرات کی پیش رفت  کے متعلق رپورٹس بتاتی ہیں کہ تقریباً 90 فیصد نکات پر اتفاق ہو چکا ہے اور صرف 10 فیصد نکات پر اختلاف باقی ہے جن میں سیکیورٹی گارنٹیز، نیوکلیئر پاور پلانٹ اور فوجی موجودگی شامل ہیں اور انہی 10 فیصد نکات پر فیصلہ عنقریب ہونے کا امکان ہے۔ روس پہلے ہی کریمیہ اور دیگر مشرقی علاقے اپنے پاس رکھ چکا ہے اور روس کا بنیادی ہدف ان علاقوں پر کنٹرول کا تسلیم ہونا ہے۔ روس نیٹو میں شامل نہ ہونے کی  گارنٹی کے بدلے علاقائی کنٹرول پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ امریکی کردار اور مالی حقائق یہ ہیں کہ امریکہ اب تک یوکرین پر 300ارب ڈالرز خرچ کرنے کا دعویدار ہے جبکہ بی بی سی نے تصدیق کی ہے کہ یہ خرچ 24جنوری 2022 سے 31اگست2025 تک 130ار ب ڈالرز رہا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ اگر امریکہ حمایت واپس لے تو یوکرین روس کے سامنے مزاحمت نہیں کر سکے گا اور یوکرینی صدر اپنے مزید علاقے کھو بیٹھیں گے، حتیٰ کہ اپنا ملک بھی کھو سکتے ہیں ۔اسی لیے زیلنسکی کو امریکی منظوری کے بغیر کوئی حتمی فائدہ ممکن نہیں۔ روسی فوجی دباؤ اور حالیہ حملے یہ ہیں کہ روس نے حالیہ دنوں میں یوکرین کے توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے تیز کر دیے ہیں جن کا مقصد زاپوریزیا نیوکلیئر سائٹ پر یوکرین یا امریکی کنٹرول کو روکنا ہے اور یہ دباؤ مذاکرات میں برتری کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ جنگ کے خاتمے کے امکانات بہت قریب ہیں لیکن حتمی رکاوٹیں نیٹو طرز کی سیکیورٹی گارنٹی، نیوکلیئر پاور پلانٹ کا کنٹرول اور غیر فوجی زون ہیں۔ امکان ہے کہ اگر کوئی درمیانی راستہ نکال لیا جائے تو امن معاہدہ  اگر چند دنوں میں نہیں تو چند ہفتوں میں ممکن ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ روس یوکرین جنگ نے عالمی برادری کو جن شدید معاشی نقصانات سے دوچار کیا ہے، توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، افراطِ زر اور بڑھتی ہوئی غربت نے دنیا بھر کی معیشتوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ روس یوکرین امن معاہدے سے ان تمام مسائل کے تدارک کی راہ ہموار ہوگی۔ امن معاہدہ طے پا جانے سے عالمی برادری کو معاشی استحکام اور جیو پولیٹیکل تناؤ میں کمی کا فائدہ ملے گا اور توانائی اور خوراک کی مارکیٹس میں بالآخر استحکام کی نوید سنائی دینے لگے گی۔

مسئلہ یوکرین کے حل کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا رخ کشمیر کی جانب بھی ہوسکتا ہے اور  یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کا دو بار تذکرہ کرچکے ہیں اور یہ بھی ذکر کرچکے ہیں کہ اگر وہ پاک بھارت جنگ نہ رکواتے تو دو نیوکلیئر ممالک ایٹمی توانائی استعمال کرسکتے تھے جس سے پوری کیلئے خطرات کے بادل چھا جاتے اور اقوام عالم کو یہ ہرگز قبول نہیں۔ لہٰذا مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے  جو اگر نہ نکلا تو ممکنہ جوہری جنگ کے نتیجے میں دنیا خود کو آتش فشاں کے دہانے پر بیٹھا محسوس کرتی رہے گی۔

Related Posts