بالی ووڈ فلم انڈسٹری میں ہر ستارہ جو عروج پر پہنچتا ہے، وہ زوال کا منہ بھی ضرور دیکھتا ہے۔ کچھ ایسا ہی اداکارہ ملائکہ اروڑا کے ساتھ بھی ہوا ہے جو فلموں میں کام ملنے کے حوالے سے بے روزگاری کا شکار رہیں، تاہم اپنا ریسٹورنٹ کھولنے کے بعد ملائکہ اروڑا کو ریسٹورنٹ میں بیچی جانے والی اشیاء کے نرخوں پر تنقید کا سامنا ہے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ملائکہ اروڑا بیٹے ارہان خان اور بزنس مین ادیشی اور ملایا ناگپال کے ساتھ ریسٹورنٹ چلا رہی ہیں، جبکہ یہ ریسٹورنٹ گزشتہ سال دسمبر میں کھولا گیا تھا، جس کا نام اسکارلیٹ ہاؤس رکھا گیا ہے۔ یہاں ایک وقت کا کھانا بھی کسی متوسط طبقے کے فرد کی جیب پر بھاری پڑ سکتا ہے۔
اسکارلیٹ ہاؤس کوئی عام ریسٹورنٹ نہیں بلکہ 2ہزار 500 مربع فٹ پر پھیلا ہوا طویل و عریض ریسٹورنٹ ہے۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس ریسٹورنٹ میں ایک فوڈ سیکشن، کافی بار، وائن روم اور کھانے کیلئے الگ جگہ مختص کی گئی ہے۔ حال ہی میں اس ریسٹورنٹ کا مینو کارڈ سوشل میڈیا صارفین کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ملائکہ اروڑا کے ریسٹورنٹ میں چقندر، انار، تربوز اور لیموں سے تیار کردہ جوس 450روپے میں ملتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ بھارتی میڈیا کے مطابق ملائکہ اروڑا کے ریسٹورنٹ میں غیر الکوحل مشروبات کی قیمت 650 روپے سے 700 روپے کے درمیان ہے۔ کھانے کی 2 سے 3 چیزوں کا آرڈر دینے کا بل ہزاروں میں ہوگا۔
مینو کارڈ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اداکارہ ملائکہ اروڑا کو عوامی تنقید کا بھی سامنا ہے۔ بھارتی سوشل میڈیا صارفین کا ماننا ہے کہ کوئی عام شخص تو ان کے ریسٹورنٹ میں گھسنے کا سوچ بھی نہیں سکتا بلکہ یہ خاص طور پر امیر کبیر شخصیات اور بالی ووڈ کے فنکاروں کیلئے بنایا گیا ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








