ایران امریکا جنیوا ڈائیلاگ اور جنگ کی کالی گھٹائیں

تازہ ترین

تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کے دہانے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے اور سفارتی حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ آئندہ چند روز میں امریکہ کی جانب سے ایران پر ایک نہایت بڑا اور کئی دنوں یا ہفتوں پر محیط فیصلہ کن حملہ ہوسکتا ہے۔گزشتہ 3روز کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے کہ واشنگٹن اب محض سفارتی دباؤ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عسکری آپشن بھی سنجیدگی سے زیرِ غور ہے۔

رائٹرز کی 2روز قبل سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کے نمائندے اسٹیو وِٹکوف اور جیریڈ کوشنر منگل کو جنیوا میں ایران کے ساتھ مذاکرات کریں گے، جس میں عمان  ڈائیلاگ فیسلٹیٹر  کا کردار ادا کرے گا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کو خبردار کیا کہ اگرچہ ٹرمپ کی ترجیح تہران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا ہے، تاہم دونوں ممالک کسی معاہدے تک پہنچیں، یہ بہت مشکل نظر آتا ہے ۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے علاقے میں فوجی قوتیں بڑھا دی ہیں، جس سے ایران کے خلاف نئی عسکری کارروائی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ امریکی حکام نے جمعہ کو کہا کہ پینٹاگون مشرق وسطیٰ میں ایک اضافی طیارہ بردار جہاز بھیج رہا ہے، جس کے ساتھ ہزاروں مزید فوجی، لڑاکا طیارے، گائیڈڈ میزائل ، تباہ کن جہاز اور دیگر اسلحہ بھیجا جا رہا ہے جو حملے کرنے اور ان سے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب خلیج میں امریکی جنگی تیاریوں میں تیزی دیکھی جارہی ہے۔ پینٹاگون کی جانب سے اضافی بحری بیڑے، طیارہ بردار جہاز اور میزائل دفاعی نظام خطے میں منتقل کیے جاچکے ہیں۔ عسکری ماہرین کے مطابق یہ محض علامتی اقدامات نہیں بلکہ ممکنہ ”فیز ٹو“ کی تیاری کا حصہ ہیں، جس کا ذکر خود صدر ٹرمپ بھی کرچکے ہیں۔ ان کے بقول، اگر معاملات سفارت کاری سے حل نہ ہوئے تو اگلا مرحلہ ایران کیلئے ”انتہائی سخت“ ہوگا۔

آج  سے 10روز قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس میں ایران کے حوالے سے جاری قومی ہنگامی صورتحال کی  تصدیق کی گئی اور ایسے ممالک پر محصولات عائد کرنے کے لیے ایک طریقہ کار قائم کیا گیا جو ایران سے کسی بھی قسم کی اشیاء یا خدمات حاصل کرتے ہیں، تاکہ امریکہ کی قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور معیشت کا تحفظ کیا جا سکے۔اس آرڈر کے تحت ایک نظام نافذ کیا گیا ہے جو امریکہ کو اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے ملک سے درآمدات پر اضافی محصولات عائد کرے جو براہِ راست یا بالواسطہ ایران سے کسی بھی قسم کی اشیاء یا خدمات خریدتا، درآمد کرتا یا حاصل کرتا ہے۔ایران کی قومی سلامتی کونسل کے اعلیٰ عہدیداروں اور خود سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب سے حالیہ بیانات میں امریکی دباؤ کو ”ڈیڈ لائن پر مبنی دھمکی“ قرار دیا گیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ وہ ایٹمی مسئلے پر بات چیت کیلئے تیار ہے، تاہم اپنی دفاعی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہی وہ نکتہ ہے جو موجودہ بحران کو نہایت نازک بنا رہا ہے۔

ایٹمی معاہدے کے حوالے سے ایران کا مؤقف نسبتاً واضح ہے۔ تہران نہ صرف 2015 کے جوائنٹ کمپریہنسیو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) کی بحالی پر آمادہ ہے بلکہ یورینیم افزودگی کی سطح کم کرنے جیسے اضافی اقدامات پر بھی بات چیت کیلئے تیار ہے۔ یہ وہی معاہدہ ہے جس سے امریکہ 2018 میں یکطرفہ طور پر علیحدہ ہوگیا تھا۔

الجزیرہ کے مطابق آج ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی دوسرے اہم نیوکلیئر مذاکراتی دور کیلئے جنیوا پہنچ گئے، جس میں امریکہ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور نئی عسکری جھڑپ سے بچنے کی کوشش کی جائے گی، جس کے بارے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا کہ یہ علاقائی تنازع میں بدل سکتا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے پیر کو اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ میں جنیوا میں ایک منصفانہ اور برابر کے معاہدے کیلئے موجود ہوں لیکن ہم دھمکیوں کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کریں گے۔  اگر دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہے تو خطے میں تصادم کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے خلاف کوئی فیصلہ کن کارروائی کرتا ہے تو یہ محاذ آرائی خطے میں ایک نئے عدم استحکام کا سلسلہ شروع کر سکتی ہے۔ اس صورت میں خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت نہ صرف محدود بلکہ بند ہو سکتی ہے، جس سے عالمی تیل کی رسد اور قیمتوں پر فوری اثرات مرتب ہوں گے۔ مزید یہ کہ خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا ایران نے پہلے ہی عندیہ دے دیا ہے، اور خطے میں چھوٹی  یا بالواسطہ فوجی جھڑپیں بھی شروع ہونے کا خطرہ ہے، جو علاقائی طاقتوں کو اپنے دفاعی اقدامات بڑھانے پر مجبور کر سکتی ہیں۔اگرچہ سفارتی محاذ پر مذاکرات جاری ہیں، مگر موجودہ کشیدگی کے تناظر میں ممکنہ طور پر امریکہ ایران پر دباؤ بڑھا کر ایک قلیل مدتی عسکری کارروائی کی راہ اختیار کر سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایران اپنی بقا کیلئے دفاعی طور پر سخت ردعمل دے سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا اور عالمی معیشت تک محسوس ہوں گے۔ ایسی صورتحال میں خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے اور بین الاقوامی طاقتیں متحرک ہو کر حالات کا رخ پلٹ سکتی ہیں۔

Related Posts