ایران امریکا محاذ آرائی اور خطے کا مستقبل

تازہ ترین

تازہ ترین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے سے متعلق خبروں پر سخت ردِعمل اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کے ساتھ اختلافی تاثر کی تردید نے واشنگٹن کی پالیسی سازی کے اندر جاری کشمکش کو بے نقاب کر دیا ہے۔

دوسری جانب تہران میں عدالتی اور معاشی حلقوں کی جانب سے یہ انکشافات سامنے آئے ہیں کہ ایران جنگی خطرات اور امریکی پابندیوں کے پیشِ نظر تیل کی فروخت کے لیے غیر شفاف “ٹرسٹی” نظام کو مزید وسعت دے رہا ہے، جبکہ اربوں ڈالر کی رقوم کی واپسی مشکوک ہو چکی ہے۔ یہ دونوں پیش رفتیں اس امر کی غماز ہیں کہ محض بیانات کی جنگ نہیں بلکہ عملی تیاریوں کا ایک مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی محض سفارتی تناؤ یا بیانیاتی سختی تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسے اسٹریٹجک تعطل میں داخل ہو چکی ہے جہاں عسکری آپشن کو باضابطہ طور پر میز پر رکھا جا چکا ہے۔ صدر ٹرمپ کی یہ خواہش کہ ایران یورینیم افزودگی کو “صفر” کی سطح تک لے آئے، اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو امریکی شرائط کے مطابق محدود کرے اور خطے میں اپنے ہم خیال  گروہوں سے قطع تعلق کر لے، درحقیقت ایرانی قومی سلامتی کے بنیادی ڈھانچے کو ازسرِنو متعین کرنے کا مطالبہ ہے۔ تہران نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ وہ  میزائل ڈویلپمنٹ سمیت اپنی خودمختاری اور دفاعی صلاحیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

بظاہر امریکا مذاکرات کو طول دے رہا ہے، جس سے ایک عمومی تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ شاید جنگ کا خطرہ ٹل گیا ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس اشارہ دیتے ہیں۔ واشنگٹن کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں افواج کی غیر معمولی نقل و حرکت، میزائل دفاعی نظام کی تعیناتی اور خطے میں اتحادیوں کے ساتھ ہم آہنگی کی کوششیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ عسکری منظرنامہ محض قیاس آرائی نہیں رہا۔ اگرچہ امریکی عسکری قیادت کے بعض حلقوں نے ایران کے خلاف بڑے آپریشن کو پیچیدہ اور طویل المدتی الجھاؤ کا سبب قرار دیا ہے، تاہم سیاسی سطح پر “فیصلہ کن برتری” کے بیانیے کو فروغ دیا جا رہا ہے، جو خطرناک حد تک اوور کانفیڈنس کی علامت ہے۔

ادھر ایران نے بھی حالات کو محض سفارتی بحران نہیں سمجھا۔ تیل کی فروخت کے لیے “سایہ نیٹ ورک” کی توسیع، جہازوں کی اسکریپ فروخت اور غیر پابندی زدہ بحری بیڑے کی خریداری، نیز بارٹر سسٹم کے ذریعے ضروری اشیا کی درآمد کے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایرانی حکومت ایک ممکنہ طویل تصادم کے لیے معاشی بقا کی حکمتِ عملی وضع کر رہی ہے۔ اگر ریاستی ڈھانچے کے اندر کرپشن اور غیر شفافیت کے خطرات کے باوجود یہ ماڈل اپنایا جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قیادت کو جنگی دباؤ کے بڑھنے کا حقیقی اندیشہ ہے۔

یہ تمام تر پیش رفتیں اس وسیع تر جغرافیائی و معاشی تناظر سے جدا نہیں کی جا سکتیں جس میں عالمی معیشت پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، سونے کی بڑھتی ہوئی قدر اور عالمی منڈیوں میں غیر یقینی کیفیت اس امر کی پیشگی علامت ہے کہ سرمایہ کار اور ریاستیں ممکنہ تصادم کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔ اگر خلیج فارس میں کسی بھی نوعیت کی عسکری کارروائی ہوتی ہے یا آبنائے ہرمز کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات محض خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یورپ، ایشیا اور ترقی پذیر معیشتوں تک پھیل جائیں گے۔

مزید برآں، امریکی مطالبات کا اسرائیلی ترجیحات سے ہم آہنگ ہونا بھی اس کشیدگی کو ایک وسیع تر علاقائی تنازع میں بدلنے کا امکان رکھتا ہے۔ ایران کے جوابی اقدامات، چاہے وہ براہِ راست ہوں یا پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے، خطے کو کثیرالجہتی محاذ آرائی کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ اس صورت میں جنگ کسی ایک جغرافیے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ لبنان، عراق، شام اور خلیجی ریاستیں بھی اس کے دائرۂ اثر میں آ سکتی ہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ دونوں فریقین ایک ایسی نفسیاتی حد عبور کر چکے ہیں جہاں “ڈیٹرنس” کی روایتی منطق کمزور پڑنے لگتی ہے۔ جب ایک جانب سیاسی قیادت اپنی شرائط کو حتمی قرار دے اور دوسری جانب ریاست اپنی خودمختاری کو ناقابلِ گفت و شنید اصول کے طور پر پیش کرے تو تصادم کے امکانات محض نظریاتی نہیں رہتے بلکہ عملی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سفارتی گنجائش سکڑ رہی ہے اور عسکری تیاریوں کی رفتار بڑھ رہی ہے، جو اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جنگی کیفیت قریب تر ہو رہی ہے، اگرچہ باضابطہ اعلان ابھی باقی ہے۔ایسے میں ناگزیر ہے کہ دونوں فریقین جذباتی بیانیے سے ہٹ کر حقیقت پسندانہ مذاکرات کی راہ اختیار کریں۔ بصورتِ دیگر یہ صورتحال کسی ایک ملک کے قابو میں نہیں رہے گی اور ایک محدود حملہ بھی وسیع علاقائی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے ڈھانچے کو دہائیوں تک متاثر کریں گے۔

Related Posts