فیلڈ مارشل کا دورہ سعودی عرب: مشرق وسطیٰ کیلئے تازہ ہوا کا جھونکا

تازہ ترین

تازہ ترین

اییران پر اسرائیلی و امریکی حملوں کے جواب میں سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت دیگر ممالک پر ایرانی جوابی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ ایک بڑے معاشی بحران کا سامنا کر رہا تھا اور اسی دوران پاکستان کی خارجہ پالیسی اور ملٹری ڈپلومیسی نے اپنی اہمیت ثابت کردی ، کیونکہ اس نے نہ صرف خطے میں توازن قائم کرنے میں مدد دی بلکہ مختلف طاقتوں کے پیچیدہ مفادات کے درمیان مؤثر ثالثی کا کردار بھی ادا کیا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا سعودی عرب کا حالیہ دورہ اسی حکمت عملی کا عملی مظہر ہے۔ یہ دورہ معرکہ حق کے بعد سے اڑان بھرنے والی پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کا ایک اور اہم سنگ میل سمجھا جا سکتا ہے۔ فیلڈ مارشل کی یہ مصروفیات صرف رسمی سفارتی ملاقاتیں نہیں بلکہ ایک جامع منصوبہ بندی اور طویل شٹل ڈپلومیسی کا نتیجہ ہیں، جس کا مقصد خطے میں امن اور استحکام کا قیام اور جارحانہ اقدامات کو قابو میں رکھنا ہے۔

ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے مملکت پر ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں سے پیدا ہونے والی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ بلا اشتعال جارحیت علاقائی استحکام اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور اس سے تنازعات کے پرامن حل کے مواقع محدود ہوتے ہیں۔ ملاقات میں مشترکہ دفاعی اقدامات کے لیے اسٹرٹیجک معاہدے کے تحت ضروری طریقہ کار اور پلان پر بھی غور کیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران کی صورت میں بروقت اور مؤثر ردعمل ممکن ہو۔ سعودی وزیر دفاع نے اس ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے کسی بھی جارحانہ اقدام کے جواب میں خطے میں سلامتی قائم رکھنے کے لیے ضروری اقدامات پر بات ہوئی اور امید ظاہر کی کہ ایرانی قیادت دانشمندی کا مظاہرہ کرے گی۔

پاکستان کی ثالثی نے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کی راہ ہموار کی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے حالیہ بیان میں پڑوسی ممالک پر حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی اور واضح کیا کہ ایران کا مقصد جارحیت نہیں بلکہ دفاع اور خودمختاری کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبوری قیادت کونسل نے پڑوسی ممالک پر حملے نہ کرنے کی منظوری دے دی ہے، اور ایران کسی جارحانہ مہم میں شامل نہیں ہوگا جب تک اس کی سرزمین کو خطرہ نہ ہو۔ یہ بیان نہ صرف ایران کے مؤقف کو واضح کرتا ہے بلکہ خطے میں استحکام کے امکانات میں بھی اضافے کا سبب ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سعودی عرب جانا اور وہاں خلیجی ممالک کی معاہداتی پابندیوں کو سمجھنا اور ایران کو بھی سمجھانا منفرد اہمیت رکھتا ہے۔ اس کی بدولت ایران نے پڑوسی ممالک سے معذرت کی اور یقین دہانی کرائی کہ وہ کسی بھی ملک پر حملہ نہیں کرے گا جب تک کہ اسے اپنی سرزمین سے خطرہ نہ ہو۔ اس اقدام کے نتیجے میں قطر سمیت دیگر خلیجی ممالک میں فلائٹ آپریشنز کی بحالی بھی شروع ہوگئی، جو صیہونی لابی کی منصوبہ بندی کے مطابق نہیں تھی۔

خطے میں کشیدگی کے پس منظر میں عرب لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے اعلان کیا کہ عرب لیگ کے وزرائے خارجہ ایک ہنگامی اجلاس میں شریک ہوں گے، جس میں ایران کے حالیہ حملوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یہ اجلاس ویڈیو کانفرنس کے ذریعے کویت، سعودی عرب، قطر، عمان، اردن اور مصر کی درخواست پر منعقد کیا جائے گا تاکہ خطے میں اقتصادی اور سیکیورٹی بحران کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے عرب ممالک ایران کی کارروائیوں کے حوالے سے فکر مند ہیں اور انہیں اس کے اثرات کی شدت کا اندازہ ہے۔

امریکا کی پالیسی بھی ایران کے حوالے سے واضح ہے۔ مارکو روبیو نے واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی ایٹمی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور ایران خلیجی ممالک میں ایسے مقامات پر حملے کر رہا ہے جن کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے مطابق ایران اب “مشرقِ وسطیٰ کا غنڈہ” نہیں رہا بلکہ “مشرقِ وسطیٰ کا ہارنے والا” بن چکا ہے اور مذاکرات اس وقت تک نہیں ہوں گے جب تک ایران مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈال دیتا ۔ ایسے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں ایران کے میزائل پروگرام اور ایٹمی صلاحیت پر قابو پانے کی کوششیں جاری رکھیں گی۔

پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ پاکستان کی ذمہ داری ہے، مگر اس کا مقصد جارحیت نہیں بلکہ خطے میں استحکام قائم رکھنا ہے۔ صیہونی طاقتیں چاہتی تھیں کہ پاکستان ایران سے دست و گریباں ہو جائے، جس سے داخلی اور خارجی مسائل پیدا ہوتے۔ جبکہ ایران پر جو امریکی اڈے حملے کے لیے استعمال ہوئے، وہ خلیجی ممالک میں طویل عرصے سے موجود تھے اور ان ممالک کے شہریوں کو بھی ان اڈوں تک رسائی کی اجازت نہیں تھی۔ پاکستان نے اس صورتحال کو سمجھتے ہوئے اپنی ثالثی کی ذمہ داری پوری کی اور ایران کے رویے میں مثبت تبدیلی کے آثار سامنے آئے۔

یہ تمام حقائق یہ واضح کرتے ہیں کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سعودی عرب کا دورہ  موجودہ بھونچالی صورتحال میں ایک کلیدی کامیابی ہے بلکہ ملٹری ڈپلومیسی کی احسن مثال بھی ہے۔ اس دورے کے نتیجے میں نہ صرف ایران اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ مڈ بھیڑ رکی بلکہ خلیجی ممالک میں امن اور استحکام کی بنیاد بھی مضبوط ہوئی۔ پاکستان کی ثالثی نے ایک پیچیدہ بین الاقوامی منظر نامے میں توازن قائم کیا اور مسلم امہ کے لیے امید اور تحفظ کا پیغام دیا اور  خطے میں اپنی خارجہ اور دفاعی حکمت عملی کے ذریعے ایک قابل قدر کردار ادا کیا ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف مسلم امہ کے لیے سلامتی اور استحکام کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی پیچیدہ چالوں کے درمیان ایک متوازن موقف اختیار کرنے کا عملی ثبوت بھی فراہم کرتے ہیں، اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ دورہ مشرق وسطیٰ کیلئے ہوا کے تازہ جھونکے سے کم نہ تھا، تو بے جا نہ ہوگا، اگر خلیجی ممالک کی سرزمین سے ایران پر میزائل نہ داغے گئے، بقول شاعر:

ہوائے تازہ کا جھونکا ادھر سے کیا گزرا
گرے پڑے ہوئے پتوں میں جان آ گئی ہے

واضح رہے کہ امریکا کی ایران کے خلاف مہم جوئی میں اس سے کسی قسم کی کمی کی آس لگانا فضول ہوگا چونکہ امریکا کے صدر ٹرمپ واضح اور پرشگاف الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ ایران کے پاسداران اور باقی حکام نے جب تک ہتھیار نہ ڈالے، اس وقت تک ان پر چڑھائی اور تباہی و بربادی کا عمل جاری رہے گا۔

Related Posts