امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے ساتھ ہی عالمی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں ایک طرف امریکا اور چین کے درمیان تجارتی، تزویراتی اور تکنیکی کشمکش میں کمی کی کوشش جاری ہے تو دوسری طرف ایران جنگ اور مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے اس دورے کو محض سفارتی ملاقات سے کہیں زیادہ اہم بنا دیا ہے۔ چین اور امریکا کے سربراہانِ مملکت کے درمیان ہونے والی اس ملاقات میں باہمی تعلقات، عالمی معیشت اور علاقائی تنازعات سبھی زیر بحث ہیں، تاہم سب سے زیادہ توجہ تجارتی معاملات اور اس کے عالمی اثرات کو حاصل رہی ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے اس موقع پر واضح کیا کہ امریکا اور چین کے تعلقات دنیا کے “سب سے اہم دوطرفہ تعلقات” ہیں اور دونوں ممالک کو ہر حال میں انہیں خراب ہونے سے بچانا ہوگا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے نہ صرف اپنے اپنے عوام کی فلاح کو یقینی بنانا ہے بلکہ عالمی استحکام کو بھی برقرار رکھنا ہے۔ شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں رہنما کئی ملاقاتوں اور رابطوں کے ذریعے تعلقات کو عمومی طور پر مستحکم رکھنے میں کامیاب رہے ہیں، تاہم موجودہ عالمی حالات اس رشتے کو مزید نازک بنا رہے ہیں۔
یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ آج سے پچیس سال قبل جہاں امریکا ٹیکنالوجی اور معیشت میں چین سے آگے تھا، وہیں آج چین ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھر چکا ہے اور امریکا کے لیے ایک سخت معاشی و تزویراتی حریف بن گیا ہے۔ اسی تناظر میں صدر ٹرمپ کے دورۂ چین کو محض سفارتی نہیں بلکہ معاشی دباؤ اور موقع دونوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس دورے میں امریکا کی جانب سے تجارتی محصولات کا مسئلہ، خاص طور پر زیر بحث آیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نایاب معدنیات کی تجارت بھی ایجنڈے کا حصہ رہی، جو جدید ٹیکنالوجی اور امریکی دفاعی صنعت کے لیے انتہائی اہم ہیں ۔
مزید برآں تائیوان کو امریکی اسلحہ فروخت کا معاملہ بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم نقطہ ہے۔ چین اس مسئلے کو اپنی خودمختاری سے منسلک کرتا ہے جبکہ امریکا اسے علاقائی توازن کا حصہ قرار دیتا ہے۔ ان تمام معاملات کے ساتھ ایران کی صورتحال اور آبنائے ہرمز کی جزوی بندش بھی ملاقات کے پس منظر میں موجود رہی، جہاں سے دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے اور میڈیا رپورٹس سے یہ واضح ہے کہ دونوں ممالک آبنائے ہرمز کھولنے پر زور دینے کیلئے ہم خیال ہوچکے ہیں جس کا اس سے قبل سامنے آنے والے بیانات میں بھی ذکر کیا گیا تھا، کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے چین کو بھاری نقصان ہورہا ہے۔ دوسری جانب یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ چین ایران کے معاملے میں اپنی سفارتی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے امریکا سے بعض رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، جن میں بعض تجزیہ کاروں کے مطابق تائیوان سے متعلق پالیسی میں نرمی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ اب صرف مشرق وسطیٰ کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ عالمی طاقتوں کے درمیان سودے بازی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی صرف ایران تک محدود نہیں رہی بلکہ اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور لبنان بھی اس صورتحال کا حصہ بن چکے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے مبینہ “خفیہ دورۂ متحدہ عرب امارات” کی خبریں بھی سامنے آئیں، تاہم متحدہ عرب امارات نے ان دعووں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کی کوئی خفیہ ملاقات نہیں ہوئی۔اسی طرح امریکی سینیٹ نے صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی قرارداد کو معمولی اکثریت سے مسترد کر دیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن میں بھی ایران پالیسی پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔
یہ بھی اہم پیش رفت ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے دورۂ چین کے دوران چینی صدر کو آئندہ ستمبر میں وائٹ ہاؤس کے دورے کی دعوت دی ہے اور چوبیس ستمبر کی ممکنہ تاریخ کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں لے جانے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے، جہاں کشیدگی کے ساتھ ساتھ مذاکرات کے دروازے بھی کھلے رکھے جا رہے ہیں۔
عالمی سطح پر یہ تاثر بھی مضبوط ہو رہا ہے کہ امریکا کی خارجہ پالیسی اب پہلے کی طرح جامد نہیں رہی بلکہ حالات کے مطابق فوری تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ پہلے جہاں خارجہ پالیسی دہائیوں تک مستقل رہتی تھی، اب عالمی طاقتیں لمحوں میں اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہی ہیں تاکہ بدلتے ہوئے جغرافیائی اور معاشی حالات کا مقابلہ کیا جا سکے۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باوجود سفارتی چینلز فعال ہیں۔ پاکستان کا کردار اس میں ایک مرکزی ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے جہاں پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے۔ اگرچہ فریقین اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں، تاہم مکمل جنگ بندی اب تک برقرار ہے، اور فوری طور پر کشیدگی کے دوبارہ بڑھنے کے آثار واضح نہیں ہیں۔
ان تمام عوامل کو دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کا دورۂ چین محض دوطرفہ تعلقات کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسے عالمی نظام کی عکاسی کرتا ہے جو تیزی سے تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ چین اور امریکا کے درمیان تعلقات نہ صرف عالمی معیشت بلکہ ایران، مشرق وسطیٰ اور توانائی کے عالمی نظام پر بھی براہ راست اثر انداز ہو رہے ہیں۔نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ہر فیصلہ، ہر بیان اور ہر ملاقات عالمی سیاست کے توازن کو کسی نہ کسی حد تک متاثر کر رہی ہے۔ ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی کشیدگی اور چین امریکا مذاکرات مل کر ایک ایسی نئی عالمی جہت تشکیل دے رہے ہیں جس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں