آغا خان پنجم کا پہلا سرکاری دورہ

تازہ ترین

تازہ ترین

 حال ہی میں صدر مملکت آصف علی زرداری  نے 20 مئی کو اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا اور اے کے ڈی این کے روحِ رواں ، ہز ہائنیس  پرنس رحیم آغاخان کے پہلے سرکاری دورے کے موقعے پر ائیرپورٹ پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اگلے ہی روز وزیراعظم ہاؤس میں پرنس رحیم آغا خان کا  پرجوش خیر مقدم کیا اور ان کے اعزاز میں طعام کا اہتمام بھی کیا۔ اس دوران وزیراعظم نے امن و استحکام اور ترقی کے حوالے سے ان کے عزم اور بے پناہ خدمات  کو سراہا۔اس موقعے پر آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک پاکستان، بالخصوص گلگت بلتستان اور چترال میں اے کے ڈی این کے  پیشہ ورانہ اقدامات کی ستائش کرتے ہوئے زور دیا گیا کہ اپنے پیشہ ورانہ اقدامات اور شراکت داری کو مزید فروغ دیتے ہوئے ان علاقوں میں انسانی تعمیرو ترقی کے کاموں  کے دائرے کومزید وسعت دیں۔

 اس ملاقات میں وزیر اعظم نے دیہی ترقی، صحت، تعلیم اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اے کے ڈی این (AKDN) کی طویل المدتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ یہ ملاقات محض ایک رسمی تقریب نہیں تھی بلکہ یہ اس مضبوط بنیاد کی عکاسی تھی جو آغا خان خاندان نے دہائیوں سے پاکستان میں تعمیر کی ہے اور یہ شراکت داری خاص طور پر ان علاقوں کے لیے اہمیت کی حامل ہے جو جغرافیائی طور پر دور افتادہ اور پسماندہ سمجھے جاتے ہیں۔

 وزیر اعظم نے اس موقع پر پرنس رحیم کے والد، پرنس کریم آغا خان چہارم کی وفات پر تعزیت کی اور ان کی سات دہائیوں پر محیط انسانی ہمدردی پر مبنی خدمات کو  بے مثال قرار دیا۔ پاکستان نے پرنس کریم آغا خان کی خدمات کے اعتراف میں ایک خصوصی ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا ہے، جو ان کی پاکستان سے محبت اور  دیرینہ وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔

تاریخی اعتبار سے سر سلطان محمد شاہ آغا خان سوم نے 1906میں تحریک پاکستان کا ہراول دستہ بننے والی سیاسی تحریک مسلم لیگ کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا جو آل انڈیا مسلم لیگ کے بانی رکن اور پہلے صدر تھے جس نے نہ صرف قومی نظرئیے کی بھرپور حمایت کی بلکہ لندن میں گول میز کانفرنسز مسلمانانِ برصغیر کی بھی مؤثر نمائندگی کرتے رہے، بلکہ قیام پاکستان کے بعد گوادر کی پاکستان کو منتقلی میں بھی ان کا احسان ناقابلِ فراموش ہے کیونکہ انہوں نے بعض روایات کے مطابق اس وقت کے وزیراعظم فیروز خان نون کی درخواست پر عمان کو 3ملین ڈالرز کی ادائیگی کرکے گوادر خریدا اور اسے پاکستان کو عطیہ کردیا بلکہ ان کی دور اندیشی کایہ عالم تھا کہ انہوں نے دہائیوں پہلے اپنے پیروکاروں کو گوادر نہ چھوڑنے کی ہدایت کی جو آج سی پیک کی وجہ سے علاقائی روابط اور ملکی معیشت کا محور بن چکا ہے۔

اگر ہم اے کے ڈی این کی  پاکستان کیلئے خدمات اور ان کے اثرات و مضمرات کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو سب سے نمایاں تبدیلی تعلیم کے شعبے میں نظر آتی ہے۔ تاریخی اعتبار سے 1960 کی دہائی میں گلگت بلتستان کے ان دور افتادہ علاقوں میں ، جہاں شرح خواندگی تقریباً 3 فیصد تھی،  اس وقت کے حالات اس قدر کٹھن تھے کہ لوگوں کے پاس بنیادی سہولیات تک رسائی نہ تھی لیکن  آغا خان کے وژن اور انتھک محنت کے نتیجے میں آج یہ تصویر مکمل طور پر بدل چکی ہے۔

آج گلگت بلتستان کے  متعدد علاقوں میں شرح خواندگی 95 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان کے چین کے قریب  آخری سرحدی گاؤں مارخون، جہاں آکسیجن کی کمی کے سبب پرندے بھی خال خال نظر آتے ہیں،  کی مثال دی جائے تو وہاں بھی شرح خواندگی اب 95 فیصد ہے، جو کہ ایک معجزے سے کم نہیں۔ اے کے ڈی این نے نہ صرف اسکول تعمیر کیے بلکہ اساتذہ کی تربیت کے لیے ‘پروفیشنل ڈویلپمنٹ سینٹرز’ قائم کیے جن سے ہزاروں اساتذہ اور لاکھوں طلبہ مستفید ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت آغا خان اسکولوں کی تعداد کم و بیش 150 ہے جہاں 50,000 سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ یہ اعداد و شماراس بات کا بین ثبوت ہیں کہ تعلیم کے شعبے میں آنے والی یہ  تبدیلی محض بہتری نہیں بلکہ ایک مکمل انقلاب ہے۔

موجودہ دور میں جہاں حکومت کی توجہ  بینظیر انکم سپورٹ پروگرام  جیسے منصوبوں پر ہے جو لوگوں کو نقد رقم فراہم کرتے ہیں لیکن اس کے نتیجے کے طور پر ایسے لوگ صرف امداد کے دستِ نگر بن کر رہ جاتے ہیں، وہیں اے کے ڈی این کا فلسفہ اس سے بالکل مختلف اور پائیدار ہے، کیونکہ نقد رقم کی فراہمی عارضی سہارا تو ہو سکتی ہے، لیکن یہ انسان کو ہنر یا وہ ذہنی ترقی نہیں دیتی جس سے وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکے اور  اے کے ڈی این کا  بنیادی ماڈل لوگوں کو تعلیم و  ہنر اور خود انحصاری سکھاتا ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں ، انسانی وسائل  اور زورِ بازو کی بنیاد پر روزگارکے ساتھ ساتھ اپنی زندگی اور معاشرے کے باقی مراحل کو خوش اسلوبی سے نبھا سکیں ۔

پرنس رحیم آغا خان کے وژن کے مطابق صرف ایک صحت مند اور تعلیم یافتہ معاشرہ ہی پائیدار ترقی کی منزل حاصل کر سکتا ہے۔ اے کے ڈی این کے تحت کام کرنے والے مائیکرو فنانس بینک اور دیہی ترقی کے پروگرام لوگوں کو چھوٹے کاروبار شروع کرنے اور زراعت میں جدید طریقے اپنانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ ماڈل انسان کو نقد رقم کا محتاج بنانے کے بجائے اسے معاشرے کا ایک فعال اور خود مختار حصہ بناتا ہے اور بلاشبہ پاکستان اے کے ڈی این کے تجربات سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔

اے کے ڈی این نے ثابت کیا ہے کہ کس طرح مشکل ترین اور کٹھن  جغرافیائی حالات میں بھی تعلیم اور صحت کے عالمی معیار کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اگر حکومتِ پاکستان اے کے ڈی این کے منصوبوں کو ایک رول ماڈل کے طور پر اپنائے اور قومی سطح پر اسی طرح کے اقدامات کرے تو اہم قومی اداروں کی سمت درست کی جا سکتی ہے۔خاص طور پر تعلیم، صحت، سیاحت اور مائیکرو فنانسنگ کے شعبوں میں اے کے ڈی این کا وژن پاکستان میں تعمیر و ترقی ،سرمایہ کاری  اور  غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

اسی طرح  پرنس رحیم آغا خان کی  دور اندیش قیادت میں اے کے ڈی این موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے بھی بھرپور کام کر رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے پرنس رحیم کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان ہمیشہ ان کا دوسرا گھر رہے گا اور ان کے دورے  ان کے پاکستان کے ساتھ باہمی دیرینہ تعلقات کو مضبوط سے مضبوط تر کرتے رہیں گے۔

آغا خان پنجم پرنس رحیم آغا خان کی خدمات پر مبنی راقم الحروف کی کتاب آغا خان : اِک عہدِ تابندہ کا بنیادی مقصد امید کے تصور کو ایک فکری اور عملی فریم ورک کے طور پر پیش کرنا ہے جو ایک خواب یا خواہش نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے جو انسان کو امن، وقار اور عالمی ترقی کی طرف ایک واضح راستہ فراہم کرتی ہے، اسی تصور کے گرد پوری کتاب کا فکری ڈھانچہ تشکیل دیا گیا ہے۔کتاب میں زور دیا گیا ہے کہ  انسانی معاشرے کی ترقی صرف معاشی عوامل تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس میں انسانی اقدار، اخلاقیات، تعلیم، دیہی ترقی، پائیداری اور انسانیت کی خدمت جیسے بنیادی اصول بھی شامل ہونے چاہئیں۔یہ بھی واضح کرنے کی کوشش کی گئی کہ  حقیقی ترقیاتی ماڈل وہ ہے جو انسان کی مجموعی بہتری کو مدنظر رکھے، نہ کہ صرف وقتی یا مادی فائدے کو جس میں  آغا خان خاندان اور ان کی طویل فلاحی و سماجی خدمات کو بھی  تاریخی اور فکری تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔ پاکستان کے قیام کے ابتدائی دور سے لے کر مختلف ادوار تک ان کے کردار اور شراکت کو میں نے اس بات کے طور پر پیش کیا ہے کہ قیادت صرف اقتدار یا مراعات کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری اور خدمت کا نام ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے مختلف سماجی، تعلیمی اور ترقیاتی شعبوں میں اہم کردار ادا کیا۔

راقم الحروف  کے ذاتی تجربات کی بنیاد پر خاص طور پر شمالی پاکستان، خصوصاً چترال اور گلگت بلتستان میں ہونے والی ترقی کا مشاہدہ کتا ب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ وہاں تعلیم، صحت اور چھوٹے توانائی کے منصوبوں جیسے مائیکرو ہائیڈل پراجیکٹس نے مقامی آبادی کی زندگی میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جہاں ماضی میں تعلیمی شرح بہت کم تھی، وہاں اب صورتحال نمایاں طور پر بہتر ہو چکی ہے۔ میری نظر میں قیادت کی اصل روح  بے لوث  خدمت ہے اور  اصل قیادت وہ ہے جو مراعات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ذمہ داری قبول کرے اور معاشرے کے کمزور طبقات کوترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے  کام کرے۔ اس میں خاص طور پر تعلیم، صحت اور سماجی ترقی کے ذریعے خواتین اور بچوں کو بااختیار بنانا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کی خدمات دنیا بھر میں تسلیم شدہ ہیں، تاہم ان کی کم تشہیر کی وجہ سے انہیں اب تک وہ عالمی شناخت نہیں ملی جس کے وہ مستحق ہیں۔ اے کے ڈی این کی پالیسی ہمیشہ سے خاموش خدمت رہی ہے، جہاں مقصد نمائش نہیں بلکہ حقیقی انسانی بہتری ہے اور یہی بنیادی  فرق اس ماڈل کو منفرد اور قابلِ قدر بناتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بھی ضروری محسوس ہوتا ہے کہ پرنس رحیم آغا خان کی قیادت اور اے کے ڈی این کی خدمات پاکستان کیلئے کلیدی اہمیت کی حامل ہیں اور خاص طور پر  تعلیم کے میدان میں 3 فیصد سے 95 فیصد تک کا سفر یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر نیت سچی ، ارادے نیک اور مستحکم منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار وقت کی نزاکت کے عین مطابق ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ تعلیم ،روزگار اور کاروبار سمیت کسی بھی شعبے میں من چاہی کامیابی حاصل نہ کی جاسکے، اس لیے  پاکستان کو چاہیے کہ وہ محض امدادی کاموں کے بجائے اے کے ڈی این کے خود انحصاری کے ماڈل کو اپنائے تاکہ عام آدمی کی زندگی میں حقیقی اور دیرپا تبدیلی لائی جا سکے۔

Related Posts