ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ سرحد کے پار خراب ہوتی صورتحال کے باعث، پاکستان کو نتیجہ خیزی اور عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ دہشت گردی کے متعدد واقعات ہوئے ہیں جن کا تعلق افغانستان کی موجودہ صورتحال سے ہوسکتا ہے۔
پاک فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور سیکیورٹی فورسز پر حالیہ حملوں کا تعلق افغانستان کی صورتحال سے ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کا کوئی منظم ڈھانچہ موجود نہیں ہے اور سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو ہندوستان کی حمایت حاصل ہے۔پاکستان نے افغان سرحد کو سیل کردیا ہے اور باغیوں کی دراندازی کو روکنے کے لئے سرحد پر فوج کی تعداد بھی بڑھادی گئی ہے، ملک میں کسی بھی ناخوشگوار واقع کی روک تھام کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ رہنا ہوگا۔
پاک فوج کی جانب سے سرحدی محافظوں کی تعیناتی میں اضافہ کیا گیا ہے، کیونکہ حال ہی میں افغانستان میں سیکیورٹی کی صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے اور طالبان ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید علاقوں کو اپنے قبضے میں لے رہے ہیں۔ اب وہ چمن کے قریب ملک کے آدھے اضلاع اور یہاں تک کہ ایک اہم بارڈرکو بھی کنٹرول کرچکے ہیں، اب موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر افغانستان کے پڑوسی ممالک فوجیوں کی تعیناتی کر رہے ہیں۔
سلامتی کا بنیادی چیلنج افغان تنازعہ اور بلوچستان میں دہشت گرد گروہوں کے نیٹ ورکس کے دوبارہ ابھرنے میں ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صوبے میں سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ضروری ہے کہ چوکس رہا جائے اور کسی بھی مذموم حرکت کو ناکام بنانے کے لئے صورتحال کی مکمل نگرانی کی جائے۔
وزیر اعظم عمران خان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر طالبان افغانستان پر قبضہ کرتے ہیں تو پاکستان سرحد کو سیل کردے گا۔ اگرچہ اس سے محفوظ رہنے کے لئے پاکستان اپنی پوری کوشش کر رہا ہے، لیکن یہ بات یقینی ہے کہ دشمن قوتیں صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گی۔ پاکستان بھی مہاجرین کی آمد کے لئے کوششوں میں مصروف ہے اور ساڑھے پانچ لاکھ افراد کی میزبانی کے لئے انسانیت کے ناطے منصوبہ تیار کررہا ہے۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کو افغانستان کی جانب سے بگڑتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ہوسکتا ہے کہ سرحد کو سیل اور بند کردیا جائے لیکن اس کے باوجود بھی شرپسندوں کو موقع مل سکتا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جنگ لڑی ہے اور ہم اپنے جوانوں کی قربانیوں کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔