گراس روٹ کرکٹ کی بحالی

تازہ ترین

تازہ ترین

 پاکستان میں کرکٹ مقبولیت کے ساتھ ساتھ تنازعات سے بھی گھری ہوئی ہے، وزیراعظم پاکستان نے بطور پیٹرن انچیف پاکستان کرکٹ بورڈ کی لائن اپ کو تبدیل کر دیا ہے اور احسان مانی کی جگہ پاکستان کے سابق کپتان اور موجودہ کمنٹیٹر رمیز راجہ کو پی سی بھی کے چیئرمین کیلئے منتخب کیاہے۔

وزیراعظم کے اقدامات کو ملک میں کرکٹ کے فروغ اور گراس روٹ لیول پرکرکٹ کی بحالی سے نتھی کیا جارہا ہےاور یہ خیال کیا جارہا ہے کہ رمیز راجہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنے تجربے کی وجہ سے پاکستان کے لیے بہتر کام کر سکیں گے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اسکول اور ڈومیسٹک کرکٹ کے فروغ کے لیے ایک فریم ورک کی منظوری دے کر نچلی سطح پر کرکٹ کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ یقینی طور پر یہ نوجوانوں کے لیے اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور مستقبل کے کرکٹرز بننے کے لیے ایک طرح کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

اگرچہ ہم سب تسلیم کرتے ہیں کہ کرکٹ اس ملک میں مذہب کی طرح ہے اور یہ ایک جذبہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں، ہمارے پاس انفراسٹرکچر اور گراس روٹ ڈویلپمنٹ کا فقدان ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جو بھی اس کھیل سے محبت رکھتا ہے اسے سہولیات تک آسان رسائی ملے گی۔

عام طور پر کرکٹ سمیت کسی بھی کھیل میں اگر کسی بچے کو اوائل عمری میں تربیت دی جائے تو وہ مستقبل میں سود مند ثابت ہوتی لیکن پاکستان کے کھیلوں کا انفرااسٹرکچر آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ ، انگلینڈ ودیگرممالک کی مضبوط نہیں ہے اور انفرااسٹرکچر میں اس فرق نے کھیلوں کے حوالے سے ہمارے اور دیگربین الاقوامی ہم منصبوں کے درمیان بہت بڑا خلا پیدا کر دیا ہے۔ اس حقیقت کو واضح طور پر چھوٹی عمر میں شروع ہونے کی اہمیت کی وضاحت کرنی چاہیے جو کہ عام طور پر اس طرح نہیں کی جاتی جتنی کہ ہمارے ملک میں ہونی چاہیے۔

دنیا بھر میں بہت سارے باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں جو عالمی سطح پر اپنا ٹیلنٹ ظاہر کرنے میں  ناکام رہتے ہیں کیونکہ ان کی صلاحیتیں کم عمری میں بہتر نہیں ہوتی تھیں۔ وجہ یہ ہے کہ یا تو ان کے قریب کوئی تربیتی سہولت دستیاب نہیں تھی یا ان کے پاس وہاں جانے کے لیے مناسب مالی حالت نہیں تھی۔

پاکستان میں نچلی سطح پر کرکٹ بڑی حد تک ٹوٹ چکی ہے تاہم کارپوریٹ ڈھانچے نے اسے اوپر رکھا ہوا ہے۔ پاکستان کو بھی ٹیلنٹ کی کمی کا سامنا ہے۔ ہنر موجود ہے لیکن ہمارا متعصب بورڈ یا جانبدارانہ سلیکشن کمیٹی اکثر اسے دیکھنے میں ناکام رہتی ہے اور وہی پرانے چہرے منتخب کرتی رہتی ہے جنہیں بارہا آزمایا جاچکا ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے پچھلے 70 سالوں سے کہ پاکستان کرکٹ کھیل رہا ہے، ہم آج بھی بنیادی مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہیں ،یہ ضروری ہے کہ ہمیں کلب ، اسکول ، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر کرکٹ کو مضبوط بنانا چاہیے تاکہ موجودہ ڈومیسٹک ڈھانچے کو آنکھ بند کرکے تبدیل کرنے کے بجائے نئے ٹیلنٹ کو سامنے لایا جا سکے۔

Related Posts