یکساں نصابِ تعلیم کا نفاذ

تازہ ترین

تازہ ترین

گزشتہ کئی دہائیوں سے سب سے اہم تعلیمی پالیسی قرار دیا جانے والا یکساں قومی نصابِ تعلیم صوبائی حکومت سمیت دیگر سے تنقید کا سامنا کر رہا ہے۔ بہت سے اعلیٰ تعلیمی اداروں نے یکساں نصاب کو اپنانے سے انکار کردیا ہے۔

پی ٹی آئی حکومت نے 3 سال قبل اقتدار میں آنے کے بعد یہ پراجیکٹ شروع کیا جو عوام سے کیے گئے وعدے کی تکمیل قرار دیا جاسکتا ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں پرائمری سطح پر یکساں نصابِ تعلیم کا نفاذ عمل میں لایا جاچکا ہے۔ درسی کتب کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کے باعث حکومت کو کئی رکاوٹوں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ بہت سے مضامین جن میں مطالعۂ پاکستان، اسلامیات اور معلوماتِ عامہ کو اردو میں پڑھایا جارہا ہے۔ انگریزی کو نصاب کی زبان کی بجائے ایک عام زبان سمجھ کر تعلیم دی جارہی ہے۔

پنجاب میں پرائیویٹ اسکولوں کی ایک بڑی تعداد نے تاحال یکساں نصابِ تعلیم پر پوری طرح عمل نہیں کیا جس سے حکومت کا تعلیمی منصوبے خطرے میں پڑ گیا ہے۔اسکول مالکان کا کہنا ہے کہ  متبادل نصابی کتب فراہم نہیں کی گئیں اور تمام تر تعلیمی اداروں سے کسی بھی معاملے کیلئے منظوری لینا ضروری ہے۔ پنجاب حکومت نے پرائیویٹ اسکولز کے خدشات دور کرنے کی بجائے نصاب نافذ کرنے میں ناکامی پر اسکولز کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔

یکساں نصابِ تعلیم کو خواتین کے کردار کے حوالے سے رجعت پسندانہ اقدار کی ترویج کے حوالے سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ درسی کتب کے سرورک میں ایک تصویر میں حجاب پوش لڑکیاں فرش پر جبکہ مرد صوفے پر بیٹھے نظر آتے ہیں جس سے نئے اعتراضات جنم لے رہے ہیں۔ کتابوں نے گھر میں خواتین کی ذمہ داریوں کی وضاحت کی ہے اور انہیں مردوں کا ماتحت بنا دیا ہے جس سے خواتین کو بااختیار بنانے اور مساوی معاشرے کی تعمیر میں رکاوٹ سمجھا جارہا ہے۔

سندھ حکومت نے بھی یکساں قومی نصاب رائج کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ یہ موجودہ نصاب کے مقابلے میں بہتر ہے یا نہیں۔ بہت سے اسٹیک ہولڈرز کو تشویش ہے کہ حکومت یکساں نصابِ تعلیم نافذ کرکے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے۔ بہت سے طلبہ ار اساتذہ کیلئے انگریزی سے اردو میں منتقلی کافی مشکل مرحلہ ثابت ہوسکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا جدید دور کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہمارا تعلیمی معیار باقی دنیا کے برابر ہے یا نہیں۔

ایک قوم ایک نصاب کا نعرہ متاثر کن ضرور لگتا ہے تاہم اس پر عملدرآمد مشکل ثابت ہورہا ہے۔ ہم قدیم خیالات و تصورات سے لیس نسل کو آگے نہیں بڑھا سکتے۔ حکومت کو نصاب کو ترقی پسند بنانے پر توجہ دینا ہوگی کیونکہ پاکستان کو عالمی برادری میں اپنا ایک نام اور مقام بنانا ہے اور ہم تعلیم کے میدان میں پیچھے رہنے کے متحمل بھی نہیں ہوسکتے۔ 

Related Posts