بھارت کے جنگی جرائم

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جنگی جرائم اور کشمیریوں کی نسل کشی میں بھارتی کردارکے ساتھ ساتھ کشمیریوں کے ساتھ جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے متعلق ایک اور دستاویز دنیا کے پیش کردی ہے۔یہ بین الاقوامی انسانی قانون سے متعلق روایتی قوانین اور معاہدے کے قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں اور مودی حکومت کے خلاف ان کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

دستاویز میں 1989 کے بعد سے بھارتی مظالم کی بھیانک تفصیلات دی گئی ہیں جس میں جنگی جرائم ، اجتماعی قبروں ، تشدد ، جبری گمشدگیوں ، پیلٹ گنوں کا استعمال ، خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد اور شہریوں کے خلاف کلسٹر بموں کا استعمال شامل ہے۔

کلسٹر دھماکہ خیز ہتھیار ہیں جو شدید نقصان کا باعث ہیں اور بین الاقوامی کنونشنز کے تحت ان پر پابندی عائد ہے جبکہ بھارت اور پاکستان دونوں نے ابھی تک ان معاہدوں پردستخط نہیں کئے۔

پچھلے سال نومبر میں پاکستان کے سول اور عسکری رہنماؤں نے ایک ڈوزیئر پیش کیا تھا کہ کس طرح بھارتی انٹیلی جنس را افغانستان کی این ڈی ایس کے ساتھ تعاون کر رہی ہے اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے تربیتی کیمپ چلا رہی ہے۔

نیا ڈوزیئر اب بھارت میں داعش کے تربیتی کیمپوں کی موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے ، جس میں داعش کا وہ دھڑا بھی شامل ہے کئی دہشت گرد حملوں اور حال ہی میں کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکہ کیاتھا۔

یہ بھی واضح ہے کہ مودی حکومت نے کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو دہشت گردانہ سرگرمی کے طور پر پیش کرنے اور ان کی مقامی شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ 5 اگست 2019 سے کشمیر میں لاک ڈاؤن نافذ ہے اور 4اعشاریہ 2 ملین ڈومیسائل جاری کرکے آبادیاتی نظام کو تبدیل کردیا ہے۔ یہ صرف کشمیریوں کو اقلیت بنانے اور خطے میں ہندو تسلط قائم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

اگر عالمی برادری بھارتی مظالم کے خلاف مجرمانہ ثبوت اور دستاویزی شواہد کو نظر انداز کر تی ہے تو یہ بھارت کو مزید شہ دینے کا سبب بنے گا۔ اب یہ اقوام متحدہ، انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کی تنظیموں، میڈیا اور خود کو انسانی حقوق کا محافظ قرار دینے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیریوں کے خلاف ظلم اور جبر کو ختم کرنے کی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

اقوام متحدہ جنگی جرائم میں ملوث افراد اور اکائیوں کے نام ریکارڈ کرے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث ان پر پابندیاں عائد کرے۔

Related Posts