کھیل، شوبز اور سیاست

تازہ ترین

تازہ ترین

جس طرح ہماری داخلی سیاست میں ایک عدد اسٹیبلشمنٹ وجود رکھتی ہے جو سیاست کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لئے سیاسی پلیئرز کے دودھ میں مینگنیاں ڈال کر ثواب دارین حاصل کرتی ہے۔ بعینہ عالمی سیاست پر بھی ایک عدد اسٹیبلشمنٹ کا کنٹرول ہے اور اس کا ذکر آپ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے نام سے سنتے ہی رہتے ہیں۔

کہنے کو تو یہ عالمی اسٹیبلشمنٹ انگریزی بولنے والے پانچ ممالک پر مشتمل ہے لیکن اصل کھلاڑی اس میں امریکہ اور برطانیہ ہی ہیں اور ایسا ان دنوں ممالک کی عالمی اثر پذیری اور طاقتور انٹیلی جنس ایجنسیز کے سبب ہے۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی عالمی ادارہ یا ایونٹ اس اسٹیبلشمنٹ کے دائرہ اثر سے باہر ہے تو یہ غلط فہمی دور فرما لیجئے۔

جب سیاستدان پیپلز ٹو پیپلز کونٹیکٹ کی بات کرتے ہیں تو اس پیپلز ٹو پیپلز کونٹیکٹ کی شروعات شوبز کے اسٹیجز اور کھیل کے میدانوں سے ہی ہوتی ہیں۔ سو یہ سوچنا بھی حماقت ہے کہ شوبز یا اسپورٹس کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔

شوبز اور اسپورٹس کے سیاسی استعمال کو اس کی تاریخ سے سمجھا جاسکتا ہے۔ مثلا آپ یہ دیکھ لیجئے کہ جب سوویت یونین ٹوٹا تو ہمارے اس خطے میں واقع بھارت کی اہمیت عالمی اسٹیبلشمنٹ کے لئے دو چند ہوگئی۔ تب بھارت سوویت یونین کی اداس بیوہ کی طرح تھا مگر بیوہ وہ جو جوان بھی تھی اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کی اسے دیکھ کر رال ٹپک رہی تھی۔

اس دور میں بھارت امپورٹ کے بجائے اپنی مصنوعات کی صورت خود انحصاری کی پالیسی پر گامزن تھا۔ چنانچہ اس کی سڑکوں پردوڑتی گاڑیاں تک وہی تھیں جو خود بھارت بنا رہا تھا۔ بھارت کے حکمران بھی ماروتی میں پھرا کرتے تھے۔ یہی صورتحال دیگر مصنوعات کے حوالے سے بھی تھی۔ امپورٹ وہ وہی چیز کیا کرتے جو بھارت میں نہیں بنتی یا نہیں اگتی تھی۔ لیکن عالمی اسٹیبلشمنٹ کی دلچسپی کی دو بڑی اہم وجوہات میں سے ایک یہ تھی کہ اسے فری مارکیٹ اکانومی کی طرف لاکر اس کے دروازے اپنی مصنوعات کے لئے کھلوانے تھے۔

ایک ارب سے زائد انسانوں پر مشتمل مارکیٹ کوئی معمولی شئی تو نہ تھی۔ چنانچہ اس دور میں بھارت کو چارہ ڈالنا شروع کردیا گیا۔ اسے علاقے کا پولیس مین بنوانے کا خواب بھی دکھایا گیا۔ سو سب سے پہلے اس کے فنکاروں کو عالمی ا سٹیج پر متعارف کروانے کی اسکیم ہی نہ بنی بلکہ اسے ایک عالمی ایونٹ کے اسٹیج سے “ملکہ حسن” بھی عطاء کردی گئی۔ رہی سہی کسر اس کے سیاستدانوں کو بھاری رشوت آفرز کرکے پوری کردی گئی۔ یوں بھارت نے اپنے خصم کے طور پر عالمی اسٹیبلشمنٹ کو قبول کرلیا۔ چنانچہ یہ امریکہ اور برطانیہ ہی تھے جو اس رشتہ ازدواج میں سب سے زیادہ سرگرم نظر آئے۔

نائن الیون کے بعد کی صورتحال میں تو بھارت کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی۔ اسے چین کے مقابلے پر جو کھڑا کرنا تھا۔ چنانچہ اوپر تلے تین مزید ملکہ حسن کے کارڈ کھیل دیئے گئے۔ اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ ملکہ حسن جیسے ایونٹ اور اس کے فیصلے کسی آزاد اور خود مختار ادارے کے آزاد اور خود مختار جج کرتے ہیں تو اسے چاہئے کہ خوبصورت ترین خواتین کے حوالے سے دنیا کے تین ٹاپ ممالک کے نام معلوم کرکے یہ دیکھ لے کہ ان ممالک سے اب تک کتنی حسیناؤں کے سر وں کو ملکہ کا تاج نصیب ہوا ہے ؟۔

جس خاص پیریڈ میں اچانک اوپر تلے بھارت سے “عالمی حسینائیں” سامنے آنی شروع ہوئیں عین اسی پیریڈ میں گجرات کا قتل عام ہوا۔ ہمیں تو دیسی لبرلز کی جانب سے یہ باور کراگیا ہے کہ دنیا میں اگر کہیں انسانی حقوق کا ادنیٰ سا معاملہ بھی پیش آجائے تو مغرب میں سب کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں اور وہ دن رات مظلوم کی داد رسی کے لئے ایک کر دیتے ہیں مگر آپ منافقت ملاحظہ کیجئے کہ سوات میں خاتون کے کوڑوں والی جعلی ویڈیو کیس میں مغربی میڈیا کی پھرتیوں کا لیول کیا تھا۔

اس معاملے کو پوری دنیا کے میڈیا پر کتنا اچھالا گیا مگر کیا یہی بے قراری گجرات کے ہزاروں مقتولوں کو نصیب ہوسکی ؟ کیا بھارت پر کوئی پابندیاں لگیں ؟ کیا کسی عالمی ادارے نے اس پر کوئی سخت ایکشن لیا ؟۔ کیا کسی نے یہ تک کہا کہ اس واقعے سے بھارت کا ایمج خراب ہوا ہے ؟ ایمج والا لولی پاپ ہمیشہ صرف پاکستان میں بکتا ہے۔

وہی گجرات کا قصاب وزیر اعظم بنا تو مغرب کی آنکھ کا تارا بنا یا نہیں ؟ اس نے وزیر اعظم بننے کے بعد بھی اقلیتوں کو نہیں بخشا۔ وہ اب بھی انہیں کچل رہا ہے۔ کیا کسی عالمی ادارے نے صرف زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ کیا ؟ کشمیر کا مسئلہ حل کرنا تو دور کی بات، کیا لاکھوں انسانوں پر مسلط کیا گیا لاک ڈاؤن ختم کرانے کے لئے ہی عالمی برادری نے کچھ کیا ؟ نہیں، نہ تو یہ ہوا ہے اور نہ ہی یہ تب تک ہوگا جب تک بھارت عالمی اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت ہے۔

یہی صورتحال کھیل کے میدان میں بھی ہے۔ اسپورٹس سے زیادہ اہم عالمی ایونٹس کونسے ہوسکتے ہیں ؟سو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی اثر اور سیاسی استعمال سے بچ جائیں ؟ ہمارے لبرل میڈیا نے ہمیں باور تو یہ کرا رکھا ہے کہ پوری دنیا میں بس بھارت ہی ہے جو کھیلوں میں بھی سیاست کو لاتا ہے۔

ہمارے میڈیا پر باقاعدہ یہ الفاظ استعمال ہوتے رہے ہیں “دنیا میں کہیں بھی کھیلوں میں سیاست کا دخل نہیں ہوتا، صرف بھارت ہی ایسا کرتا ہے” اس جملے کے ذریعے دراصل ہمارا لبرل میڈیا اور اس میں بیٹھے دیسی لبرلز تاریخ کو ہی مسخ کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ہوتے بلکہ مغرب کے لئے اچھی والی معاشرتی علوم بھی ترتیب دے رہے ہوتے ہیں۔

انہیں ویسے ہی ایک طبقہ “دجالی میڈیا” تو نہیں کہتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر عالمی ایونٹ کی طرح کھیلوں کے عالمی ایونٹ بھی نہ صرف یہ کہ سیاسی مقاصد کے لئے ہوتے ہیں بلکہ بوقت ضرورت سیاست اتنی آگے آجاتی ہے کہ خود اسپورٹس پیچھے رہ جاتے ہیں۔

مثلا یوں تو المپک گیمز کا چھ مرتبہ سیاسی بنیادوں پر بائیکاٹ ہوا ہے لیکن ان میں دو بائیکاٹ بڑے ہیں۔ پہلا بڑا بائیکاٹ 1980 کے ماسکو اولمپکس کا ہے، جس کا 65 ممالک نے امریکہ کی قیادت میں بائیکاٹ کیا۔ جواز افغانستان پر سوویت حملے کو قرار دیا گیا۔ بھئی اگر اسپورٹس سے سیاست کا کوئی لینا دینا نہیں تو 65 ممالک نے 1980 کے ماسکو اولمپکس کا بائیکاٹ کیوں کیا ؟ ردعمل میں 1984ء کے لاس اینجلس اولمپکس کا سوویت یونین اور اس کے زیر اثر ممالک نے بائیکاٹ کر ڈالا۔

خود حالیہ ٹوکیو اولمپکس کا ہی حال دیکھ لیجئے۔ اپنی اتحادی اکثریت کے زور پر یہ اصول خود امریکہ نے طے کروایا تھا کہ اولمپکس چارٹ پر ملکوں کی صف بندی اس بنیاد پر نہ ہوگی کہ کس ملک نے سب سے زیادہ مجموعی میڈلز جیتے ہیں بلکہ اس بنیاد پر ہوگی کہ کس نے سب سے زیادہ گولڈ میڈلز جیتے ہیں۔ چنانچہ ہمیشہ اولمپکس مقابلوں کے نتائج اسی ترتیب کے مطابق چارٹ کی صورت ڈسپلے ہوتے رہے ہیں۔

اس سال ٹوکیو المپکس کے اختتام سے چار روز قبل تک چین کو امریکہ پر 6 گولڈ میڈلز کی برتری حاصل تھی۔ لیکن چاندی اور کانسی کے تمغے ملا کر میڈلز کی مجموعی تعداد امریکہ کی زیادہ تھی۔ چنانچہ اچانک ہی امریکہ کے بڑے میڈیا ہاؤسز نے نہ صرف یہ کہ صرف گولڈ میڈلز کی بنیاد پر ملکوں کی کی درجہ بندی کو غلط قرار دیا بلکہ اپنی ٹی وی اسکرین اور اخبارات میں جو چارٹ پیش کرنے شروع کئے، ان میں مجموعی میڈلز کی بنیاد پر امریکہ کو نمبر ون پوزیشن پر بھی دکھانا شروع کردیا لیکن ٹوکیو اولمپکس کے اختتام پر امریکہ گولڈ میڈلز کے معاملے میں بھی چائنا پر معمولی سبقت حاصل کرگیا سو جواب میں چینی میڈیا نے بھی امریکہ کو رج کر شرمندہ کیا اور یہاں تک لکھا اور کہا گیا کہ جلد بازی کے سبب امریکہ نے کھیل کے میدان میں بھی اپنی بدمعاشی اور دوغلے پن کو ثابت کردیا۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ سب کیا بھی امریکی میڈیا کے اس حصے نے جس پر چھاپ ہی یہ ہے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کے نمائندہ میڈیا ہاؤسز ہیں۔ مثلاً واشنگٹن پوسٹ، نیو یارک ٹائمز اور اے بی سی نیوز وغیرہ۔ اگر آپ اولمپکس سے باہر نکل کر دیکھیں تو جس زمانے میں امریکہ کے سیاہ فاموں کی تحریک زوروں پر تھی، اسی زمانے میں ایک سیاہ فام باکسنگ رنگ میں ہیرو بن کر یوں ابھرنا شروع ہوا کہ خود گورے بھی اس کے سحر میں مبتلا ہوتے چلے جا رہے تھے۔ چنانچہ اس ہیرو کو منظر سے ہٹانے کے لئے اسے ویتنام بھیجنے والی اسکیم لاکر اس کے تین سال برباد کئے گئے یا نہیں ؟گویا عظیم محمد علی بھی کھیل میں سیاست کے دخل سے نہ بچ سکا اور وہ بھی عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں۔

سو جو نیوزی لینڈ نے اپنی کرکٹ ٹیم کے دورے کی منسوخی کی صورت کیا وہ بھی سیکورٹی نہیں بلکہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی بدمعاشی کا ایشو ہے۔ ذرا ایک نظر عالمی منظر نامے پر ڈالئے۔ افغانستان والی ذلت بنیادی طور پر عالمی اسٹیبلشمنٹ یعنی پانچ انگریزی بولنے والے ممالک کے ہی حصے میں تو آئی ہے۔ باقی ممالک میں سے بیشتر 2014 سے بھی قبل وہاں سے کھسک لئے تھے جبکہ جو نیٹو ممبر تھے وہ 2014 میں نکل لئے۔

جرمنی سپین اور ترکی کے فوجی 2014ء کے بعد بھی افغانستان میں رہے مگر صرف برائے نام تعداد میں اور اس برائے نام تعداد نے بھی فائنل ایونٹ سے قبل ہی افغان سرزمین چھوڑدی تاکہ آخری لمحوں والی شرمساری سے بچ سکیں۔

یوںانخلاء کے حتمی مرحلے میں پیچھے صرف انگریزی بولنے ممالک ہی رہ گئے تھے جو 15 اگست کو رسوا ہوئے۔ یہ تپی ہوئی کھسیانی بلی اب اپنی خفت مٹانے کے لئے عجیب و غریب احمقانہ حرکتیں کر رہی ہے جو اس کے لئے مزید ذلت کا باعث بن رہی ہیں۔

بیس سال میں کامیابی خود حاصل نہ کرسکے اور الزام پاکستان پر دھر رہے ہیں کہ اس کی وجہ سے ہارے۔ بھئی پاکستان اگر کچھ کر بھی رہا تھا تو کیا وہ امریکہ سے بھی بڑی سپر پاور تھا کہ تم اس سے ہار گئے ؟ہمارا کیا ہے، ہمیں تو ہیرو ثابت کرنے کے لئے یہ خود ہی کافی ہیں۔

ان کا کہا اور لکھا تاریخ کا حصہ ہی بن رہا ہے۔ اور یہ ہم سے اس کا بدلہ بس یوں ہی لے سکتے ہیں کہ انگریزی بولنے والے ملک نیوزی لینڈ سے اچانک دورہ منسوخ کروا دیں۔ اگر انہیں لگتا ہے کہ اس سے ہماری سبکی ہوئی ہوگی تو یہ خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں۔

سبکی وہ ہے جو ٹخنوں سے اونچی شلوار والے ملاؤں نے عالمی اسٹیبلشمنٹ کی تاریخ میں درج کردی ہے۔ دنیا سوشل میڈیا کے دور میں جی رہی سو پبلک خوب جان کار رہتی ہے کہ کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے ؟۔

Related Posts