طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان کو درپیش سب سے بڑی خرابی نوجوان لڑکیوں اور عورتوں کی تعلیم جاری رکھنے میں ناکامی ہے۔ بہت سے ممالک نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اوربعض ممالک نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے کئے وعدے پورے نہیں کئے جائیں گے۔
وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے اس کے باوجود نئی طالبان انتظامیہ نے ابھی تک یہ اعلان نہیں کیا ہے کہ وہ کب تک لڑکیوں کو اسکول واپس آنے دیں گے،اس حوالے سے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا ہے، طالبان نے سیکنڈری اسکولوں میں لڑکیوں کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی ہے جبکہ لڑکوں کو اسکول آنے کا موقع دیا گیا ہے۔ لاکھوں لڑکیاں جو اپنی تعلیم جاری رکھنے اور کامیاب ہونے کی خواہش مند تھیں، انہیں اب ایک غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے۔
اس مسئلے کو اب اہمیت حاصل ہوگئی ہے کیونکہ دنیا یہ جاننے کی کوشش میں ہے کہ آیا طالبان حکومت خواتین اور لڑکیوں کو 1990 کی دہائی کی طرح تعلیم سے محروم کردے گی یا آزادیاں فراہم کرے گی۔ طالبان کو انسانی امداد اور عالمی سطح پر پہچان کی اشد ضرورت ہے، اس لیے انہیں اپنے کردار کو بہتر بنانے کے لئے سخت امتحان کا سامنا ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں مگر اب بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
قطر، جس نے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، نے لڑکیوں کی تعلیم سے انکار پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور اسے ایک قدم پیچھے دھکیل دیا ہے، یہاں تک کہ وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں کہا تھا کہ خواتین کو تعلیم تک رسائی سے روکنا غیر اسلامی ہوگا اور طالبان کو دوبارہ قبول کرنے کے لیے انسانی حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔
افغانستان میں خواندگی کی شرح اور لڑکیوں کی تعلیم، اگرچہ اب بھی دنیا میں سب سے کم ہے، اس میں گزشتہ دو دہائیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، یو این ایچ سی آر کی سربراہ سے لے کر ملالہ یوسف زئی تک انسانی حقوق کے کارکنوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ پچھلے 20 سالوں میں حاصل ہونے والے فوائد خطرے میں ہیں اور انہیں آہستہ آہستہ مٹایا جا سکتا ہے۔
جب سے طالبان نے کنٹرول سنبھالا ہے، وہ شمولیتی حکومت، خواتین کے حقوق اور لڑکیوں کی تعلیم جیسے مسائل پر اپنا بیانیہ تبدیل کر رہے ہیں۔ اور ہر گزرتے دن کے ساتھ، ان کے عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے پرانے طریقوں کی طرف لوٹیں گے۔ یہ ان کے اتحادیوں اور ناقدین کے لیے مایوس کن رہا ہے۔ اگر وہ بنیادی حقوق کو قبول نہیں کرتے ہیں تو یہ قانونی حیثیت حاصل کرنے کی کوششوں کے لئے دھچکا ثابت ہوگا۔ اگر طالبان اپنے اقتدار کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں سادہ سی حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا اور لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دینی ہوگی۔