افغانستان حالیہ دنوں میں مختلف شہروں میں یکے بعد دیگرے دھماکوں کی زد میں ہے۔ پاکستان میں سرحد پار سے حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور کئی پاکستانی فوجی شہید ہو چکے ہیں اوردونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک بار پھر سر دمہری کی طرف جارہے ہیں۔
افغان حکومت کالعدم ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے جو سیکورٹی فورسز کے خلاف حملوں میں اضافے کے ذمہ دار ہیں۔ ابھی چند روز قبل دہشت گردوں نے سرحد پار سے ایک سیکورٹی چیک پوسٹ پر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی تھی جس سے تین فوجی جوان شہید ہو گئے تھے ۔
افغانستان کے اندر اور سرحد کے اس پار حملوں میں زبردست اضافہ طالبان حکمرانوں کو درپیش بڑھتے ہوئے سیکورٹی چیلنجوں کو نمایاں کرتا ہے۔ داعش سے وابستہ ایک تنظیم جس نے حالیہ حملوں کا دعویٰ کیا ہے وہ طالبان حکومت کے لیے ایک پیچیدہ سیکورٹی چیلنج ثابت ہو ر ہی ہے۔
طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ کوئی بھی مسلح گروپ اس کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنے کے لیے اڈے کے طور پر استعمال نہیں کرے گا لیکن ابھی تک افغانستان میں ٹی ٹی پی کے کسی رہنما کیخلاف کارروائی، گرفتار یا پاکستان کے حوالے نہیں کیا بلکہ افغانستان نے دہشت گرد گروپوں کو سرحدی علاقوں سے منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔
جب طالبان اقتدار میں واپس آئے تو پاکستان کو امید تھی کہ وہ ان دہشت گرد گروہوں سے نمٹ لیں گے لیکن انہوں نے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے کوئی فیصلہ کن اقدام نہیں کیااورافغان حکومت نے پاکستان کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے سخت پیغام جاری کیا ہے۔
طالبان نے ابتدائی طور پر پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان امن معاہدہ کرانے کی کوشش کی جو ایک ماہ طویل جنگ بندی کے بعد جلد ہی ناکام ہو گئی۔ پاکستان ٹی ٹی پی اور دیگر گروپوں کو ختم کرنے میں طالبان کی ہچکچاہٹ سے مایوس ہو چکا ہے۔
کارروائی کرنے کے بجائے طالبان کے وزیر دفاع نے متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کی طرف سے ‘حملوں کو برداشت نہیں کرے گا اور پاکستان پر مبینہ فضائی حملے کا الزام لگایا ہے۔
پاکستان نے اس دھمکی کا سفارتی طور پر جواب دیا اور کہا کہ دونوں ’برادر ملک‘ ہیں اور امن کی کوششوں میں مشغول ہیں۔ پاکستان نے افغان حکومت سے درخواست کی کہ وہ پاک افغان سرحدی علاقے کو محفوظ بنائے اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے۔
کئی ماہ کی ناکام کوششوں کے بعد افغانستان اور پاکستان کے تعلقات ایک بار پھر کشیدہ ہو گئے ہیں۔ پاکستان اس غلط تاثر کا شکار تھا کہ افغان حکومت اس کے سیکورٹی خدشات کا خیال رکھے گی۔
صورتحال کی خرابی سے نہ صرف طالبان کی عالمی شناخت حاصل کرنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے بلکہ خطے میں امن کو بھی خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔ اب پاکستان میں نئی حکومت کے لیے اس مسئلے سے نمٹنا بہت بڑا چیلنج ہو گا ۔