تاجکستان پر بلااشتعال حملہ: افغانستان کا اگلا نشانہ کون ہوگا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

افغان سرحد سے 26نومبر کی شب کو چینی کمپنی کے کیمپ کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 3 چینی شہری ہلاک ہوگئے،واضح رہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان بتدریج دہشت گردی کا نشانہ بنتا جارہا ہے۔

تاجک حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ افغان سرزمین سے دہشت گرد گروہوں نے کیا، افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف تاجکستان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ افغانستان کی عبوری حکومت سرحد پر امن برقرار رکھنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے اور دہشت گردی کو روکے۔

اس سے قبل افغانستان نے پاکستان کو نشانہ بنایا تھا، جس کا پاک فوج نے بھرپور جواب دیا اور دونوں ممالک کے مابین قیام امن کیلئے طویل مذاکرات بھی ہوئے جو بے نتیجہ ثابت ہوئےہیں، تاہم تاجکستان پر حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کی عبوری  حکومت کی حکمتِ عملی بنی ہوئی ہے ، جس سے پاکستان  کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک بھی نشانہ بنتے جارہے ہیں۔

اگر تاجکستان کی بات کی جائے تو یہ وسطی ایشیا کا خشکی میں گھرا ہوا ملک ہے جس کی سرحدیں جنوب میں افغانستان ، مغرب میں ازبکستان، شمال میں کرغزستان اور مشرق میں چین سے جا ملتی ہیں۔ سوویت اتحاد سے آزادی کے بعد تاجکستان 1992 سے 1997 تک زبردست خانہ جنگی کا شکار رہا جس کے خاتمے کے بعد سیاسی استحکام ، غیر ملکی امداد اور ملک کے دو بڑے قدرتی ذرائع کپاس اور المونیم نے ملکی معیشت کی بہتری کیلئے اہم کردار ادا کیا۔ افغانستان اور تاجکستان کے مابین سفارتی تعلقات 1992 میں قائم ہوئے اور مختلف ادوار میں دونوں ممالک کے پناہ گزین بھی ایک دوسرے سے سرحد پار جا کر پناہ حاصل کرتے رہے ہیں۔ مثلاً 1992 کی خانہ جنگی کے دوران 80 ہزار تاجک پناہ گزین افغانستان منتقل ہوئے اور افغان جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری پاکستان کے ساتھ ساتھ تاجکستان میں بھی پناہ گزین ہوئے، جو افغانستان کے ساتھ پاکستان اور تاجکستان دونوں کے تعلقات کا مشترکہ نکتہ قرار دیا جاسکتا ہے۔

افغانستان اور تاجکستان کے مابین سرحد کی طوالت تقریباً 1300کلومیٹر ہے جو زیادہ تر پہاڑی اور دشوار گزار علاقہ ہے جسے منشیات کی اسمگلنگ کا ہم راستہ سمجھا جاتا ہے جو افغانستان سے روس اور پھر یورپ تک جا پہنچتا ہے۔ تجارتی تعلقات کی بات کی جائے تو افغانستان اور تاجکستان نے توانائی کے شعبے میں کئی معاہدے کیے، ستمبر 2007 میں 500ملین امریکی ڈالرز کے معاہدے کے تحت تاجکستان اور کرغزستان سے افغانستان تک بجلی کی ترسیل کا منصوبہ بھی بنایا گیا اور دونوں ممالک اپنی پن بجلی کی صلاحیت کو جنوبی ایشیا تک برآمد کرنے کے خواہش مند ہیں، اس کے باوجود افغانستان کا بھارتی خفیہ تنظیم را کی ہم آہنگی سے  تاجکستان پر حملہ اس حقیقت کا غماز ہے کہ افغانستان پاکستان اور تاجکستان دونوں سے محاذ آرائی مول لے کر خطے میں کسی بڑی آگ کو ہوا دے رہا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان اور تاجکستان تو دہشت گردی کا نشانہ بنیں گے ہی، خطے کے دیگر ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں اور یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ خود افغانستان اس آگ کی لپیٹ میں آنے سے محفوظ رہے جو امریکا کی 20 سالہ جنگ کے بعد پہلے ہی تبا ہ و برباد قوم کی صورت اختیار کرچکا ہے جس کے بچوں اور نوجوانوں  کے ہاتھوں میں قلم کی بجائے ہتھیار تھما دئیے گئے ہیں اور وہ خون آشام نظروں سے اپنے اردگرد کے ممالک کودیکھ رہے ہیں۔

 یہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان اور تاجکستان کے بعد افغانستان کی اشتعال انگیزیوں کا اگلا نشانہ کون بنے گا؟ تو افغانستان کی سرحدیں پاکستان اور تاجکستا ن کے علاوہ ایران، چین، ازبکستان اور ترکمانستان سے ملتی ہیں جنہیں یہ ملک سرحد پار سے دہشت گردی کا نشانہ بنا سکتا ہے جبکہ یہ تمام ممالک برسوں سے افغان صورتحال کے اثرات بھگت رہے ہیں—کبھی مہاجرین کی شکل میں، کبھی اسلحے اور منشیات کی اسمگلنگ کی صورت میں اور کبھی دہشت گردی کے حملوں کے ذریعے جو خطے کے امن و امان کیلئے ہمیشہ سے خطرہ رہے ہیں۔

ایک اور سوال یہ بھی جنم لیتا ہے کہ افغان حکومت کی جانب سے اس اشتعال انگیزی کی وجوہات کیا ہوسکتی ہیں تو طالبان کی داخلی تقسیم، دہشت گرد گروہوں پر کنٹرول میں ناکامی اور بیرونی اثرات یعنی بھارت کی منافقانہ حکمتِ عملی جو پورے خطے میں بد ترین دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہے۔ پاکستان کے خلاف آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد پاک فوج نے جس عزم و ہمت اور بہادری کے ساتھ وطن کی سرحدوں کا دفاع کیا، اس سے دشمن کے دانت کھٹے ہوگئے اور اب یہ بزدل دشمن کھل کر سامنے آنے کی بجائے افغانستان کے کاندھوں پر بندوق رکھ کر خطے کے امن و سلامتی پر حملہ آور ہے ۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں 26نومبر کو فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں نیشنل گارڈز کی خاتون اہلکار ہلاک ہوگئیں۔ 20سالہ سارہ بیکسٹارم کے علاوہ ایک اور نیشنل گارڈ24سالہ اینڈریو وولف بھی اس حملے میں شدید زخمی ہوا جس پر 29سالہ افغان شہری رحمٰن اللہ نے فائرنگ کی تھی۔ حملہ آور ماضی میں افغانستان میں امریکی خفیہ ایجنسی ’سی آئی اے‘ کے لیے کام کرتا رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے کے بعد افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے اس ملک کو زمین پر جہنم سے تعبیر کیا۔

امریکی سی آئی اے کی ایک رپورٹ کے مطابق 2021 میں 55افغان مہاجرین دہشت گردی کی واچ لسٹ پر تھے جن میں سے 46 کو ایف بی آئی کی جانچ کے بعد خطرہ نہ ہونے کی بنیاد پر واچ لسٹ سے ہٹا دیا گیا جبکہ 9اب بھی زیر نگرانی ہیں ، یہ واقعہ افغان مہاجرین کی نگرانی میں خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔رپورٹ میں دوحہ ایگریمنٹ کے تحت طالبان کو دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے وعدوں پر قائم رکھنا اور ان کے امریکی فنڈڈ پراجیکٹس بند کرنے کی سفارش کی گئی تاکہ طالبان کو فائدہ نہ پہنچے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان کی عبوری طالبان حکومت بھارت جیسے کینہ پرور اور بزدل دشمن کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بننے کی بجائے اپنی قوم کے بہتر مستقبل کا سوچے اور تاجکستان اور پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک پر بلا اشتعال حملوں سے گریز کرے جو خطے کی اسٹرٹیجک اہمیت اور جغرافیائی صورتحال کے پیش نظر آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ اگر افغان حکومت نے آج ہوش کے ناخن نہ لیے تو اشتعال انگیزیوں کا یہ سلسلہ پاکستان یا تاجکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کو نہیں بلکہ خود افغانستان اور اس کے نوجوانوں کو جلا کر راکھ کرسکتا ہے۔

افغانستان کی طالبان حکومت کو شاید اس بات کا ادراک نہیں کہ امریکا کی انٹیلی جنس رپورٹ کے ساتھ اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس بھی اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ افغانستان میں بتدریج دہشت گرد گروپوں کا اضافہ ہوتا جارہا ہے اور امریکی انٹیلی جنس نے اس طرف اشارہ کہ اگر افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کو لگام نہ دی گئی تو یہ امریکا سے لے کر دنیا کے دیگر ممالک کیلئے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ ایسی صورت میں کوئی بعید نہیں کہ دوبارہ کثیر جہتی فورسز کو استعمال کرتے ہوئے کہیں افغانستان پر دوبارہ چڑھائی نہ شروع کردی جائے۔ ایسے میں افغانستان کے عوام پھر اس ظلم و بربیت اور مفلسی کا شکار ہوجائیں گے جو پہلے ہی دنیا میں سب سے زیادہ مفلسی اور تنگدستی کا شکار ہیں اور ایسی صورتحال میں ان کے پاس سوائے اس کے اور کوئی راستہ نہ ہوگا کہ وہ دوبارہ اپنے ملک سے کوچ کرجائیں اور گردونواح کے ممالک کا رخ کریں اور پاکستان جیسے ملک پر پناہ گزینوں کا بوجھ ایک بار پھر نہ صرف پڑ سکتا ہے کیونکہ طالبان حکومت کی جانب سے  دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیشِ نظر ٹی ٹی پی کو لگام دینے کا کوئی عندیہ تاحال نظر نہیں آتا۔

Related Posts