عالمی سیاست کی موجودہ ساخت اور طاقت کے بدلتے ہوئے مراکز کو اگر گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو یہ حقیقت کسی شک و شبہے کے بغیر سامنے آتی ہے کہ اکیسویں صدی میں جس ریاست نے نہ صرف عالمی نظام کو متاثر کیا بلکہ اسے ازسرِنو ترتیب دینے کی صلاحیت بھی حاصل کی، وہ عوامی جمہوریہ چین ہے، جس کا عروج محض ایک معاشی مظہر نہیں بلکہ تہذیبی تسلسل، تاریخی شعور اور اسٹریٹجک حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے جو صدیوں پر محیط تجربات سے کشید کی گئی۔
چین کی تاریخ تقریباً پانچ ہزار سال پر محیط ہے، اور یہی طویل تاریخی تسلسل اسے دیگر جدید ریاستوں سے ممتاز کرتا ہے، کیونکہ چین نے ریاست، قوم، تہذیب اور طاقت کے مفاہیم کو اس وقت سمجھ لیا تھا جب یورپ جدید قومی ریاست کے تصور سے بھی ناآشنا تھا، چنانچہ قدیم چینی سلطنتیں نہ صرف سیاسی و انتظامی لحاظ سے مضبوط تھیں بلکہ علمی، ثقافتی اور معاشی میدان میں بھی غیرمعمولی برتری رکھتی تھیں۔
قدیم چین، خصوصاً ہان (206 قبل مسیح – 220 عیسوی) اور تانگ (618–907) سلطنتوں کے ادوار میں، ایشیا کا طاقتور ترین سیاسی و ثقافتی مرکز تھا، جہاں منظم بیوروکریسی، تحریری قوانین، زرعی اصلاحات اور شاہراہِ ریشم جیسے بین الاقوامی تجارتی راستوں نے چین کو عالمی تجارت کا محور بنا دیا تھا، اور یہی وہ دور تھا جب چینی ریشم، کاغذ، بارود اور کمپاس جیسی ایجادات نے انسانی تاریخ کی سمت تبدیل کر دی۔
اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ پندرھویں صدی تک چین عالمی معیشت کا سب سے بڑا حصہ دار تھا، کیونکہ تاریخی تخمینوں کے مطابق 1820ء تک عالمی پیداوار (Global GDP) کا تقریباً 30 فیصد چین سے آتا تھا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ چین محض ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ عالمی نظام کا بنیادی ستون تھا۔
تاریخ کا جبر یہ ہے کہ کوئی بھی طاقت مستقل نہیں رہتی، اور چین بھی داخلی جمود، تکنیکی سست روی اور بیرونی دباؤ کے باعث آہستہ آہستہ زوال کی طرف بڑھنے لگا، خصوصاً انیسویں صدی میں جب یورپی سامراجی طاقتیں صنعتی انقلاب کے بعد جدید اسلحے اور منظم افواج کے ساتھ ایشیا میں داخل ہوئیں تو چین کی روایتی عسکری اور سیاسی ساخت ان کے سامنے بے بس نظر آئی۔
1839ء سے 1842ء تک ہونے والی افیونی جنگیں (Opium Wars) چین کی خودمختاری کے لیے ایک فیصلہ کن دھچکا ثابت ہوئیں، کیونکہ ان جنگوں کے نتیجے میں چین کو نہ صرف ہانگ کانگ سے ہاتھ دھونا پڑا بلکہ متعدد غیر مساوی معاہدے (Unequal Treaties) بھی قبول کرنا پڑے، جنہوں نے چینی ریاست کو معاشی، سیاسی اور قانونی طور پر کمزور کر دیا، اور یہی دور بعد ازاں چینی قومی بیانیے میں “ذلت کی صدی ” (Century of Humiliation) کے نام سے محفوظ ہو گیا۔
چین کی زبوں حالی نے بالآخر انقلابی تحریکوں کو جنم دیا، اور 1911ء میں چنگ سلطنت کے خاتمے کے بعد اگرچہ جمہوریہ چین کا قیام عمل میں آیا، مگر سیاسی عدم استحکام، خانہ جنگی اور جاپانی جارحیت نے ریاست کو مستحکم نہ ہونے دیا، حتیٰ کہ 1949ء میں ماؤ زے تنگ کی قیادت میں چینی کمیونسٹ پارٹی نے عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کیا، جو جدید چین کی تاریخ کا سب سے اہم موڑ ثابت ہوا۔
ابتدائی دہائیوں میں چین نے سخت نظریاتی راستہ اختیار کیا، اور اگرچہ گریٹ لیپ فارورڈ اور ثقافتی انقلاب جیسے تجربات نے ریاست کو شدید سماجی و معاشی نقصان پہنچایا، تاہم ان ادوار نے چین کو یہ سبق ضرور دیا کہ محض نظریہ، عملی حکمتِ عملی کے بغیر کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔
1978ء میں ڈینگ ژیاؤ پنگ کی قیادت میں شروع ہونے والی اصلاحات نے چین کی تقدیر بدل دی، کیونکہ پہلی مرتبہ ریاست نے نظریاتی سختی کے بجائے عملی معیشت کو ترجیح دی، اور “اصلاحات اور کھلے پن” (Reform and Opening-Up) کی پالیسی کے تحت نجی سرمایہ کاری، غیر ملکی سرمایہ، خصوصی اقتصادی زونز اور برآمدات پر مبنی ترقیاتی ماڈل اپنایا گیا۔
اس پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ صرف چار دہائیوں میں چین نے 80 کروڑ سے زائد افراد کو غربت سے نکالا، اس کی جی ڈی پی 1978ء کے 150 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2023ء میں 17 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی، اور وہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن گیا، جبکہ اس کی سالانہ ترقی کی شرح کئی دہائیوں تک اوسطاً 9 سے 10 فیصد رہی، جو عالمی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔
معاشی طاقت کے ساتھ ساتھ چین نے عالمی سیاست میں بھی فعال کردار ادا کرنا شروع کیا، اور اقوام متحدہ، عالمی تجارتی تنظیم (WTO)، شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس جیسے پلیٹ فارمز میں اس کی موجودگی نے اسے فیصلہ سازی کا اہم فریق بنا دیا، جبکہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو جیسے منصوبوں کے ذریعے چین نے ایشیا، افریقہ اور یورپ میں انفراسٹرکچر، تجارت اور اثر و رسوخ کے نئے دروازے کھول دیے۔
چین آج نہ صرف دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے بلکہ اس کی بحری، فضائی اور سائبر صلاحیتیں بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہیں، جس کے باعث عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ کے ساتھ اس کا تعلق تعاون اور مسابقت کے پیچیدہ امتزاج میں تبدیل ہو چکا ہے۔
عالمی سیاست میں چین کا کردار محض موجودہ طاقت کا مظہر نہیں بلکہ ایک ایسی تاریخی جدوجہد کا نتیجہ ہے جس میں عروج، زوال، ذلت، مزاحمت، اصلاح اور غیر معمولی بحالی شامل ہے، اور یہی تاریخی شعور چین کی خارجہ پالیسی، اس کے عالمی وژن اور اس کے اسٹریٹجک فیصلوں کی بنیاد ہے۔
چین کی تاریخ کو مثال بناتے ہوئے یہ سبق حاصل کیا جاسکتا ہے کہ اگر اقوام عالم اپنی تاریخ سے سیکھیں، طویل المدتی منصوبہ بندی اختیار کریں اور قومی اہداف کو ریاستی حکمتِ عملی سے ہم آہنگ کریں تو وہ انتہائی مختصر وقت میں عالمی نظام میں اپنی جگہ دوبارہ حاصل کر سکتی ہیں، اور اسی تناظر میں چین کا عروج اکیسویں صدی کی عالمی سیاست کا سب سے فیصلہ کن باب بن چکا ہے۔
اسی تاریخی تناظر میں اگر پاکستان اپنی موجودہ سیاسی، معاشی اور ادارہ جاتی کیفیت کا سنجیدہ جائزہ لے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ چین کا عروج محض خوش قسمتی کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل المدتی وژن، ریاستی تسلسل، ادارہ جاتی اصلاحات اور قومی ترجیحات کے واضح تعین کا حاصل ہے، اور یہی وہ عناصر ہیں جن کی کمی پاکستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ پاکستان بھی اگر وقتی سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر معیشت، تعلیم، ٹیکنالوجی، گورننس اور انسانی وسائل کو اپنی قومی سلامتی اور ریاستی پالیسی کا مرکزی ستون بنائے، اداروں کو مضبوط کرے، میرٹ اور احتساب کو یقینی بنائے اور ترقیاتی منصوبہ بندی میں تسلسل پیدا کرے تو وہ نہ صرف اپنی داخلی کمزوریوں پر قابو پا سکتا ہے بلکہ خطے میں ایک باوقار اور مؤثر معاشی طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ چین کی مثال یہ سبق دیتی ہے کہ ریاستیں نعروں، وقتی فیصلوں یا درآمد شدہ ماڈلز سے نہیں بلکہ اپنی زمینی حقیقتوں کے مطابق منظم اصلاحات، دانشمندانہ ری اسٹرکچرنگ اور قومی مفاد پر مبنی فیصلوں کے ذریعے ہی تاریخ کا رخ موڑتی ہیں، اور اگر پاکستان کی قیادت اس حقیقت کو مخلصانہ طور پر قبول کر لے تو عالمی معیشت میں باعزت مقام حاصل کرنا کوئی ناممکن ہدف نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں