ملک میں جاری سیاری رسہ کشی کسی ایسے تفریحی ٹی وی شو سے کم نہیں جسے دیکھ کر عام انسان نہ ہنس سکتا ہے اور نہ رو سکتا ہے، جیسے اسے گھٹنے میں چوٹ لگ گئی ہو۔
عوام الناس اور سیاستدان مل کر مسائل کا حل چاہتے ہیں، عوام اپنے اور سیاستدان اپنے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں لیکن اس پر چھوٹی موٹی بحث کی بجائے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا، پوری قوم کی قسمت کا کیا ہوگا، یہ سوچنا چاہئے۔
پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ ملکی سیاست شیطان کی آنت کی طرح پیچیدہ ترین مسائل سے لبریز سہی، خاکسار کی خدمات آپ کی رہنمائی کیلئے حاضر ہیں۔ تو چلیئے، ملک کی سیاسی صورتحال کو ایک نئے زاوئیے سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگر ہم سب سے پہلے ملکی معیشت کی بات کریں تو اس کی مثال ایک ایسی گاڑی کی طرح ہے جو انجن سے پاک ہے۔ یہ جہاں سے چلی تھی، آج اسی جگہ بلکہ اس سے کہیں پیچھے پہنچ چکی ہے۔ مہنگائی کا جن بوتل سے باہر، بے روزگاری عروج پر جبکہ ملکی کرنسی کسی دریا میں گرے ہوئے انسان کی طرح مسلسل غوطے کھاتی جارہی ہے، جو تھوڑے بہت ہاتھ پاؤں مارے تو اس کی قدر بھی کچھ کچھ بہتر ہوتی ہے لیکن چونکہ اس انسان کو تیرنا کبھی آتا ہی نہیں تھا، اس لیے اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں۔
پھر بھی ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے، بقول سابق وزیر اعظم عمران خان، آپ نے ایک کام کرنا ہے۔ گھبرانا نہیں ہے۔ ہمارے تمام قائدین کے پاس معاشی صورتحال کا ایک ہی حل ہے، وہ یہ کہ جب بھی برسر اقتدار آئیں، کوئی نہ کوئی سڑک بنا دیں تاکہ عوام کو محسوس ہوتا رہے کہ ملک ترقی کر رہا ہے۔
دراصل ہمارے بقراط قسم کے سیاسی رہنماؤں کا ماننا یہ ہے کہ ملکی بحران کو کوئی چیز اتنا ٹھیک نہیں کرسکتی جتنا کہ ایک چمکتی دمکتی سڑک جہاں سے ان کی چم چماتی گاڑیاں فراٹے بھرتی ہوئی گزر جائیں۔
وزیر اعظم کی کرسی کیلئے سیاسی رسہ کشی کی بات کریں تو وہ میوزیکل چیئرز کا کبھی نہ ختم ہونے والا کھیل دکھائی دیتی ہے۔ کیا کسی وزیر اعظم نے 5 سال پورے کیے؟ جی نہیں۔ کیونکہ اسے پتہ تھا کہ اس کی جگہ کسی اور کی باری ہے۔ میوزیکل چیئرز کے مقابلے میں فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں موسیقی کی بجائے بدعنوانی کے الزامات بجتے ہیں۔
ہر بار جب میوزیکل چیئرز کا یہ کھیل کسی نئے مرحلے تک پہنچتا ہے تو ایک نیا رہنما گزشتہ سیاستدان کے تمام خراب اور گھٹیا اقدامات کو اپنی نادرونایاب پالیسیوں کی مدد سے ٹھیک کرنے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن ہوتا کیا ہے؟ ہر چیز بد سے بد تر اور پھر بد ترین ہوتی چلی جاتی ہے۔
سیاستدانوں کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دینا زیادتی ہوگی بلکہ ہمارا پورا جمہوری نظام ہی کسی ٹوٹی ہوئی اور خراب مشین کی طرح چلتا آرہا ہے جسے ٹھیک کرنے کا فارمولہ کسی بڑے سے بڑے ٹیکنیشن بلکہ انجینئر کے پاس بھی نہیں۔
امیر امیر تر ہوتا جارہا ہے۔ غریب، غریب تر جبکہ متوسط طبقہ جو اپنی جان بچانے کی کوشش میں ہے، وہ اب خود غریبوں میں شامل ہوگیا ہے جو آج کی روٹی کسی طرح پوری کر لے تو اگلے دن کی فکر ستانے لگتی ہے کہ آگے کیا ہوگا۔
سچ یہی ہے کہ ملکی سیاسی نظام بنا ہی اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے کیلئے ہے، پھر بھی ہم ان لوگوں کو بار بار ووٹ دیتے ہیں اور بار بار یہ امیدیں لگاتے ہیں کہ چلو آج نہیں تو کل سہی، ہمارے ملک میں بھی بہار آئے گی اور خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی، بقول شاعر:
جھونکے کچھ ایسے تھپکتے ہیں گلوں کے رخسار
جیسے اِس بار تو پت جھڑ سے بچا ہی لیں گے
من حیث القوم ہم طنز و مزاح کو پسند کرتے ہیں اور خراب سے خراب حالات بھی ہنسی خوشی کاٹ لیتے ہیں۔ خود پر ہنس کر وقت گزار لینا ہم سے زیادہ کسی قوم کو نہیں آتا اور کیوں نہ ہو، یہی تو ہمارے پاکستانی ہونے کی پہچان ہے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری محسوس ہوتا ہے کہ ملکی سیاست نے عوام کو مایوس ضرور کیا ہے، پھر بھی ہم لوگ آنے والے حالات سے بہتری کی امید کیے بیٹھے ہیں۔ امیدیں اپنی جگہ، لیکن خود بھی کچھ کیجئے۔ گھروں سے نہیں نکلے اور اپنے حقوق کی بد ترین پامالی پر احتجاج نہ کیا تو ہماری تمام تر قربانیوں اور تکالیف پر تکالیف سہنے کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا، بقول مرزا غالبؔ :
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں