سابق وزرائے اعظم کی سکیورٹی

تازہ ترین

تازہ ترین

تحفظ ہر شہری کا بنیادی حق ہے تاہم حکومت میں اہم عہدوں پر فائز افراد کیلئے اس کی اہمیت بے حد زیادہ ہوجاتی ہے جبکہ پاکستان کے سابق وزرائے اعظم بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔

تاریخ نے قدم قدم پر ثابت کیا کہ موجودہ اور سابق وزرائے اعظم ہمیشہ سے دہشت گردوں اور ملک دشمن عناصر کے نشانے پر رہے ہیں۔ ان کی حفاظت کو انتہائی اہمیت دینا ضروری ہے۔ ملکی تاریخ سے بھی ایسے واقعات کی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔

مثال کے طور پر سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007ء کو حملہ کرکے سیاسی جلسے سے خطاب کے دوران قتل کیا گیا۔ یہ حملہ نہ صرف ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم کی جان لے گیا بلکہ ملک بھر میں اس سے پیدا ہونے والے صدمے کی لہریں آج بھی محسوس کی جاتی ہیں۔

قوم آج تک لیاقت علی خان کے قتل اور ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو نہیں بھولی۔ سابق صدر پرویز مشرف پر بھی حملہ کیا گیا، تاہم وہ محفوظ رہے۔

ماضی میں لاہور میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے قافلے پر بھی حملہ ہوا، جس سے ن لیگ کے تاحیات قائد نواز شریف بچ نکلے تاہم اس سے ملک میں سیاسی رہنماؤں کو درپیش خطرات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ کے دھمکی آمیز بیان کے بعد عمران خان کی جانب سے سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست کی سماعت کی اور سابق وزرائے اعظم کو فراہم کردہ سکیورٹی کے رولز بھی طلب کیے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت عمران خان کو بھی مناسب سکیورتی فراہم کرے۔ ان کی رہائش گاہ محفوظ بنائے اور ان کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھے۔

ممکنہ سکیورٹی خدشات سے نمٹنے کیلئے سکیورٹی اہلکاروں کی تربیت بے حد ضروری ہے۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بھی ملک میں سرگرمِ عمل ان انتہا پسندوں پر کڑی نظر رکھنا ہوگی جو ہمارے سیاسی رہنماؤں کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں نہ صرف ملکی سلامتی کی صورتحال پر سوال اٹھتے ہیں بلکہ ملک انتہائی عدم تحفظ، معیشت کی تباہی اور بدحالی جیسے چیلنجز کا سامنا کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ 

حکومت غربت، ناخواندگی اور مذہبی انتہا پسندی جیسے مسائل سے نمٹنے کیلئے ملکی سلامتی کی مجموعی صورتحال بہتر بنانے کیلئے کام کر رہی ہے تاہم ماضی کے واقعات کے تناظر میں سابق وزرائے اعظم کی سکیورٹی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ 

Related Posts