بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت اڑھائی لاکھ خواتین کو ڈیجیٹل اسکلز سکھانے کا اعلان، آپ بھی فائدہ اٹھائیں

تازہ ترین

تازہ ترین

فائل فوٹو

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت ڈھائی لاکھ مستفیدین کو جون 2026 تک ڈیجیٹل مالیاتی مہارتوں کی تربیت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ انہیں سماجی تحفظ کی ادائیگیوں کے لیے نئے بینکوں اور فِن ٹیک پلیٹ فارمز استعمال کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔

اس اقدام کا مقصد مالی شمولیت کو فروغ دینا اور امدادی رقوم کی تقسیم کے نظام کو زیادہ شفاف، آسان اور جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق حکومت بی آئی ایس پی کی ادائیگیوں کو موجودہ محدود ڈھانچے سے نکال کر ایک ایسے کھلے اور مسابقتی ماڈل میں منتقل کر رہی ہے جہاں مستفیدین اپنے قومی شناختی کارڈ سے منسلک ڈیجیٹل والٹس یا اکاؤنٹس کے ذریعے براہِ راست رقم وصول کر سکیں گے۔ یہ رقم کمرشل بینکوں، برانچ لیس آپریٹرز، اے ٹی ایمز، ایجنٹس اور دیگر مجاز ڈیجیٹل ذرائع سے بھی نکالی جا سکے گی۔

اہم بات یہ ہے کہ حکومت مستفیدین کو نئے نظام کے محفوظ استعمال کے لیے تربیت بھی فراہم کرے گی۔ اس مقصد کے لیے مالیاتی خواندگی کا قومی پروگرام تشکیل دیا گیا ہے، جس کے تحت بی آئی ایس پی کے 2 لاکھ 50 ہزار افراد کو ڈیجیٹل لین دین، مالی منصوبہ بندی، گھریلو فیصلوں میں شمولیت، اور سرکاری آن لائن سہولیات تک رسائی جیسے موضوعات پر تربیت دی جائے گی۔

شناختی کارڈ و دیگر ڈاکومنٹس کیلئے گھنٹوں قطار میں لگنے کی جھنجھٹ ختم، نادرا نے زبردست سہولت لانچ کردی

یہ پروگرام جنوری 2024 میں مکمل ہونے والے ایک پائلٹ منصوبے کی توسیع ہے، جس میں 4 ہزار خواتین کو اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) اور جرمن ترقیاتی ادارے (GIZ) کے تعاون سے تربیت دی گئی تھی۔ اب یہی تربیتی ماڈیولز اردو اور علاقائی زبانوں میں تیار کر کے بڑے پیمانے پر نافذ کیے جائیں گے تاکہ خواتین اور دیہی گھرانے بھی آسانی سے استفادہ کر سکیں۔

ایک سرکاری اہلکار کے مطابق، ’’مالیاتی خواندگی، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے محفوظ اور مؤثر استعمال کی بنیاد ہے۔ اگر مستفیدین ڈیجیٹل والٹس کا صحیح استعمال سیکھ جائیں تو یہ تبدیلی ان کی معاشی خود مختاری میں سنگِ میل ثابت ہو گی۔‘‘

حکام کا کہنا ہے کہ اس پروگرام سے خاص طور پر دور دراز علاقوں میں رہنے والی خواتین کو فائدہ پہنچے گا جو فی الحال نقد امداد حاصل کرنے کے لیے مرد رشتہ داروں یا غیر رسمی ذرائع پر انحصار کرتی ہیں۔ شناختی کارڈ سے منسلک ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے وہ اپنی رقم براہِ راست حاصل کر سکیں گی، بچت کر سکیں گی اور دیگر مالیاتی سہولیات تک رسائی حاصل کر پائیں گی۔

این ڈی ایم اے کے مطابق تربیت کے دوران فیلڈ ٹیمیں اور کمیونٹی سیشنز ان علاقوں تک بھی جائیں گے جہاں بینکوں کی شاخیں موجود نہیں، تاکہ کوئی بھی مستفید پیچھے نہ رہ جائے۔

حکومتی حکام نے بتایا کہ نیا ادائیگی ماڈل اور اس سے منسلک خواندگی پروگرام جون 2026 تک مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔ بعد ازاں پروگرام کو ملک بھر میں وسعت دی جائے گی، نقد رقم نکالنے کے مزید پوائنٹس قائم کیے جائیں گے، اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کے اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق، یہ اقدام نہ صرف بی آئی ایس پی کے مستفیدین کو بااختیار بنائے گا بلکہ ملک میں مالیاتی نظام کی ڈیجیٹل منتقلی اور شفاف گورننس کے عمل کو بھی تیز کرے گا۔

Related Posts