چین اور بنگلہ دیش کے درمیان سفارتی تعلقات کی 50 ویں سالگرہ پر صدر شی جن پنگ اور بنگلہ دیشی صدر محمد شہاب الدین نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا کہ پچاس برسوں پر محیط دوستی نے عالمی اور علاقائی تبدیلیوں کے باوجود پرامن بقائے باہمی کے پانچ اصولوں باہمی احترام، خودمختاری کا اعتراف، عدمِ مداخلت، مساوات، اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون پر استوار ہو کر مزید مضبوطی حاصل کی ہے۔
برطانیہ میں امیگریشن قوانین سخت، مستقل رہائش حاصل کرنا مزید مشکل
صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور بنگلہ دیش کی دوستی باہمی اعتماد اور مشترکہ ترقی کی ایک روشن مثال ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت باہمی شراکت کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ دونوں ملکوں کے عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔
صدر محمد شہاب الدین نے اپنے پیغام میں کہا کہ بنگلہ دیش، چین کے اس کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو وہ علاقائی امن، استحکام اور اجتماعی خوشحالی کے فروغ میں ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیش کی پائیدار ترقی کے لیے چین کی طویل المدتی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے “دوستی کی ایسی بنیاد قرار دیا جو وقت کے ساتھ اور مضبوط ہوئی ہے۔”
اسی موقع پر چینی وزیرِاعظم لی چھیانگ اور بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ محمد یونس نے بھی پیغامات کا تبادلہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک باہمی تعاون، مساوی شراکت اور خطے کی ترقی کے لیے ایک ساتھ آگے بڑھیں گے۔
چین اور بنگلہ دیش کے تعلقات کی یہ نصف صدی دراصل اس اصولی شراکت کی گواہی ہے جو مفادات کے بجائے احترام، تعاون اور پرامن بقائے باہمی پر مبنی ہے — ایک ایسی مثال جس سے پورا خطہ سیکھ سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








