ملک کا موجودہ معاشرہ مردوں کے زیرِ تسلط سمجھا جاتا ہے جبکہ انتہائی قدامت پسند معاشرے میں مردوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔
حد تو یہ ہے کہ 2013 میں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنا، حکومت سے نقد گرانٹ اکٹھی کرنا اور مقامی ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز سے کال کرنے کی ہولناکیاں تاحال ہمارے سامنے ہیں۔ جنسی زیادتی اور سنگسار کرنے کے واقعات پر جتنی روشنی ڈالی جائے، کم ہے۔
صنفی تشدد کی یکطرفہ کارروائیاں معاشرے کے ضمیر پر بوجھ بنتی جارہی ہیں تاہم ایک نئے موڑ اور خواتین کو مرکزی دھارے میں لانے کی تحریکوں کے برعکس باجوڑ کے بزرگوں نے اپنی تحصیل میں خواتین سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔
ماضی میں بھی باجوڑ کے جاگیرداروں کو انتہائی پسماندہ فیصلوں کے باعث بدنام سمجھا گیا، جن میں سے کچھ پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار بھی کیا۔ جرگہ کی کارروائی کو سول اور فوجداری دائرۂ اختیار پر تجاوز اور قانون کی خلاف ورزی بھی قرار دیا گیا۔
تاہم حال ہی میں مقامی آبادی میں اس وقت بے چینی دیکھنے میں آئی جب ٹریژری بینچوں پر بیٹھے کسی سیاسی جماعت کے سرکردہ رکن کو مخالفین سے ہاتھ ملاتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ سیاح خواتین پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ زیادہ ناخوشگوار واقعہ ہے۔
پاکستان کی سیاسی اشرافیہ ماضی کی تاریک گلیوں سے نکل آئی، یہ سوچنے والا ہر شخص جرگے کے فیصلے کو خشمگیں نظروں سے دیکھنے پر مجبور ہے۔ جے یو آئی (ف) کی ضلعی قیادت اور خواتین کی آزادی پر قدغن لگانے کا جنون بھی سامنے آگیا۔
اسے ایک لچکدار مرد غالب معاشرے کی توانا آواز قرار دیا جاسکتا ہے جبکہ جرگے کے اعلان کو ملکی آئین یا قانون کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ بہرحال، خطرناک بیانات سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال معاشرے میں بے چینی کا باعث ہے۔
کیا یہ بات افسوسناک نہیں کہ عالمی سطح پر صنفی تضادات کی رپورٹ سامنے آنے پر مرد حضرات سمیت پورے معاشرے نے احتجاج کیا جبکہ رپورٹ میں خواتین پر پابندیاں عائد کرنے کی مذمت کی گئی تھی۔ یہ عجیب یکطرفہ تماشا ہے کہ آپ حقیقت کا سامنا کرنے کی بجائے اپنا سر ریت میں چھپا لیں۔