پاکستان بھر میں انسداد پولیو مہم جاری ہے لیکن سیکورٹی کے مسائل ماضی کی طرح برقرار ہیں کیونکہ حال ہی میں بنوں میں پولیو ٹیم کو سیکورٹی فراہم کرنے کے لیے تعینات ایک پولیس اہلکار کو شہید کردیا گیا ہے۔
پاکستان خصوصاً کے پی کے میں انسداد پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم کو سیکورٹی کی فراہمی ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کے حکام نے اکتوبر میں 16,000 سے زیادہ ایسے واقعات ریکارڈ کیے جن میں لوگوں نے سازشی نظریات کے پس منظر میں انسداد پولیو کے قطر بچوں کو پلوانے سے انکار کیا۔
بدقسمتی کی بات ہے کہ اس سال بھی پاکستان میں اس متعدی بیماری کے پانچ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ پولیو کے خاتمے کی تازہ ترین مہم ملک کے بیشتر حصوں کے ساتھ ساتھ آزاد جموں و کشمیر میں 44 ملین سے زائد بچوں کو کور کرے گی۔
گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشیٹو (جی پی ای آئی) نے پاکستان میں 10500 پولیو ورکرز میں 216 ملین روپے تقسیم کرکے اس اہم مقصد کے ساتھ اپنی غیر متزلزل لگن کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ بہت ہی اہم اقدام ہے، اس سے یقینا اس اہم مقصد سے وابستہ کارکنوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
پاکستان جو ان آخری دو ممالک میں سے ایک ہے، جہاں پولیو اب بھی موجود ہے، کو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شدید خطرات کا سامنا ہے۔ موسمیاتی تغیر کی بنا پر آنے والے خطرناک سیلابوں نے پولیو کے خاتمے کے پروگرام کیلئے بھی آزمائش کھڑی کی ہے، مگر سیلابی صورتحال کی وجہ سے پیدا ہونے والے مشکل اور نامساعد حالات کے باوجود جی پی ای آئی نے انسداد پولیو کی ہنگامی مہمات کو جاری رکھا، مہمات کو کامیاب بنانے کیلئے نت نئی حکمت عملی لانچ کی، متاثرہ علاقوں میں ہیلتھ کیمپ قائم کیے اور ہر پاکستان سے پولیو کے خاتمے کی اپنی کوششوں میں کوئی کمی کی اور نہ غفلت برتی۔
پاکستان میں انسداد پولیو مہم کو درپیش سیکورٹی اور موسمیاتی چیلنجز کا تقاضا ہے کہ حکومت ہر ممکن طریقے سے اس مہم کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے پر سنجیدہ توجہ دے، کیونکہ یہ قوم کے مستقبل کا سوال ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں