ایک بڑے رقبے، موافق جغرافیائی محل وقوع، لاتعداد قدرتی وسائل اور وسیع افرادی قوت کا حامل ملک و قوم ہونے کے باوجود پاکستان کا روز اول سے معاشی مشکلات کا شکار ایک مقروض، پسماندہ اور محتاج ملک چلا آنا بڑا المیہ ہے۔
حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، اقتدار کی میوزیکل چیئر گھومتی رہتی ہے، بڑے بڑے دعووں کے ساتھ نامی گرامی حکمران آتے جاتے رہے ہیں، مگر اس کے باوجود پاکستان کی بے زری، محتاجی، معاشی و سماجی پسماندگی اور اقتصادی مشکلات ہیں کہ بڑھتی ہی جا رہی ہیں، آنے والا ہر دور گزرے دور سے بدتر ثابت ہورہا ہے، نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ قرض اور امداد دینے والے بھی اب پاکستان سے کنی کتراتے نظر آتے ہیں، یوں قوموں کی صف میں پاکستان ایک بے حیثیت اور بے وقعت ملک بن کر رہ گیا ہے۔
حالت یہ ہے کہ دنیا کے ایک اہم جغرافیہ پر موجود اور بہت سے اہم بین الاقوامی معاملات میں شریک ہونے کے باوجود پاکستان کی کسی بات اور رائے کی چنداں اہمیت نہیں رہی اور نہ ہی خطے اور دنیا کی تجارت، معیشت اور سیاست کے متعلق فیصلوں میں اس کا کوئی قابل ذکر کردار ہے۔
المیہ یہ ہے کہ پاکستان کی ساری تگ و دو اپنے حسابات جاریہ کے اخراجات پورے کرنے اور ریاست کو جیسے تیسے چلانے کیلئے درکار فنڈ کی بہم رسانی تک ہی محدود ہوکر رہ گئی ہے، جس کے نتیجے میں پیداواری سرگرمیاں اپنی موت آپ مرتی جا رہی ہیں اور اندرون ملک حالات مسلسل بدتر ہو رہے ہیں، معاشی مسائل کا حجم ملک و قوم کے وجود پر بھاری ہو رہا ہے، غربت کی شرح روز افزوں ہے اور بے روزگاری کا جن قابو سے باہر ہو رہا ہے۔
اس منظرنامے میں گزشتہ دن عالمی بینک کے نائب صدر نے پاکستان کی معاشی زبوں حالی کا بہت ہی معروضی تجزیہ پیش کیا ہے اور نہ صرف ملکی معیشت کی نبض پر ہاتھ رکھ کر مرض کی درست تشخیص کردی ہے بلکہ بیماری کے خاتمے کیلئے بہت حد تک مناسب علاج بھی تجویز کردیا ہے۔
عالمی بینک کے نائب مارٹن ریزر نے گزشتہ دن اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی معاشی بدحالی کے عوامل اور عناصر پر بہت ہی جامع گفتگو کی۔
اس گفتگو کے دوران انہوں نے جہاں ملکی معیشت کی بدحالی کے کئی اسباب گنائے، وہاں انہوں نے سیاسی عدم استحکام کو بھی بطور خاص ملکی معیشت کی تباہی کے اسباب میں نمایاں سبب قرار دیا۔
اس میں شک نہیں کہ سیاسی عدم استحکام ام الامراض ہے، معیشت کو لاحق تمام بیماریاں اسی عدم استحکام کی کوکھ سے برآمد ہوئی ہیں اور یہی معیشت کا قبلہ درست کرنے کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے۔ سیاسی عدم استحکام سے ہی جڑا اور اس کا لازمی نتیجہ پالیسیوں کا عدم تسلسل اور دیرپا اور طویل المدتی پالیسیوں کا فقدان ہے۔ ایک حکومت اپنے ”ماہرین“ بٹھا کر معاشی مسائل کے حل کیلئے جو ”ناگزیر“ اور ”تیر بہدف“ پالیسی بنا کر اس پر عمل شروع کرتی ہے، تو دوسری حکومت آکر اس پر یکلخت خط تنسیخ پھیر دیتی ہے اور نئی راہوں پر چل پڑتی ہے۔ پھر ایک اور نئی حکومت آکر اب تک بُناہوا سارا تانا بانا کاٹ کر پھینک دیتی ہے اور معاملات پھر صفر پر آکھڑے ہوتے ہیں۔ عشروں سے یہی عاقبت نااندیشانہ مشق جاری ہے، جس کے باعث ہنوز معیشت کی فاونڈیشن تک درست اور دیرپا سمت میں استوار نہیں ہوسکی ہے۔
مالی بدعنوانی، کرپشن اور ٹیکس چوری بھی ملکی خزانے اور معیشت کو نقصان پہنچانے والے بنیادی عناصر میں شامل ہیں، ملک آج قرضوں کے انبار تلے سسک رہا ہے تو اس کی وجہ کرپشن اور ٹیکس چوری سے قومی خزانے کو پہنچنے والا وہ نقصان ہے، جس کا کنواں بھرنے کیلئے ہر حکومت بے تحاشا مہنگے سودی قرضے لینے پر مجبور ہے اور ان قرضوں سے مزید مشکلات ہی ملکی معیشت کا مقدر بن جاتی ہیں۔
ٹیکس چوری اور محکمہ جاتی کرپشن کا نقصان بھرنے کیلئے حکومتیں تیل، گیس اور بجلی مہنگی کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہتی ہیں، جس کے نتیجے میں توانائی کے ان ذرائع کی گرانی ہر حد کو عبور کرچکی ہے اور اب اس باب میں ہونے والا ہر اضافہ المیوں کو ہی جنم دے رہا ہے، جبکہ بطور خاص بجلی کی مد میں لائن لاسز کو دور کرکے عوام کا بوجھ بہت حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس قیمتیں بڑھانے کی پالیسی سے مزید لائن لاسز اور بجلی چوری جنم لیتی ہے اور مسائل مزید گمبھیر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ عالمی بینک کے عہدیدار نے اس مسئلے کی طرف اچھی توجہ دلائی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے پاکستان کو ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 3 فیصد تک بڑھانا ہوگا، محض ٹیکس وصولیاں کافی نہیں، اخراجات اورٹیکس اصلاحات پر کام کرنے کی ضرورت ہے، زرعی شعبے کو سہولیات دیے بغیر ٹیکس ریونیو میں اضافہ مشکل ہوگا۔ ورلڈ بینک کے عہدیدار کا یہ کہنا ”پاکستان کی زراعت میں پیداواری صلاحیت نہیں رہی، کسان پرانے طریقے ہی استعمال کر رہے ہیں۔“ تازیانہ عبرت ہے، تاہم یہ صرف شعبہ زراعت کا ہی المیہ نہیں، معیشت کے ہر شعبے میں ایسے ہی اندھیر مچی ہوئی ہے۔
اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں الیکشن کی طرف جانے سے پہلے معیشت کے متعلق ماہرین کی آرا کی روشنی میں کچھ رہنما اصول طے کریں، جن پر عملدرآمد سب کی ذمے داری ہو اور یہ عہد لیا جائے کہ الیکشن کے بعد خواہ کسی کی بھی حکومت قائم ہو، وہ معیشت کے حوالے سے طے شدہ اصولوں سے انحراف نہیں کرے گا اور معیشت پر کوئی سیاست نہیں کی جائے گی۔ دفع وقتی کی پالیسیوں سے معیشت کا بیڑا بحرانوں کے گرداب سے کبھی نہیں نکل پائے گا بلکہ الٹا حالات مزید بدتر اور سنگین ہوتے چلے جائیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں