ٹوکیو:پاکستان کے اسٹار ارشد ندیم نے 85 اعشاریہ 28 میٹر کی تھرو کے ساتھ ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا، فائنل 18 ستمبر کو کھیلا جائے گا۔
ارشد ندیم حالیہ مقابلوں میں انجری کے باعث پیچھے ہٹ گئے تھے۔ ان کی پنڈلی کے آپریشن کے بعد وہ ڈائمنڈ لیگ کے سوئٹزرلینڈ اور پولینڈ مقابلوں میں شریک نہ ہوسکے تاہم اگست میں انہوں نے ٹریننگ دوبارہ شروع کی اور ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں اپنی بہترین فارم کے ساتھ واپسی کی۔
کوریا کے شہر گوٗمی میں انہوں نے سیزن کا بہترین تھرو 86.40 میٹر کیا، جو ان کی شاندار کارکردگی کی گواہی دیتا ہے۔
ارشد ندیم کے سابق کوچ فیاض بخاری کے مطابق ارشد کسی بھی وقت 90 میٹر تک کا تھرو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ارشد نہ صرف ابتدائی دو کوششوں میں ہی کوالیفائی کر سکتے ہیں بلکہ ان کے پاس میڈل جیتنے کے اتنے ہی مواقع ہیں جتنے دنیا کے کسی بھی بڑے ایتھلیٹ کے پاس ہوتے ہیں۔ بخاری نے کہا کہ ارشد بہترین فارم میں نظر آئے اور وہ فائنل میں جگہ بنانے کے لیے پر اعتماد ہیں۔
ایشیا کپ: پاکستان یو اے ای میچ کا فیصلہ نہیں ہوسکا، قومی ٹیم ہوٹل میں موجود، شائقین پریشان
ارشد ندیم اس بار بھی مردوں کے ایونٹ کے گروپ بی میں شامل ہیں، بالکل اسی طرح جیسے 2023 میں بوداپسٹ ورلڈ چیمپئن شپ میں تھے۔
وہ ہمیشہ سے جیک ری کارڈ 98.48 میٹر توڑنے کے خواب دیکھتے آئے ہیں، جو 1996 میں چیک ایتھلیٹ یان زیلزنی نے قائم کیا تھا۔ ارشد کا اب تک کا سب سے شاندار کارنامہ پیرس اولمپکس 2024 میں 92.97 میٹر کا تھرو تھا جس نے انہیں تاریخ میں امر کردیا۔
اس بار ارشد ندیم کا مقابلہ عالمی چیمپئن نیرج چوپڑا اور چیک ریپبلک کے جیکب ویڈلیج جیسے بڑے کھلاڑیوں سے متوقع ہے۔ گزشتہ برس بھی ارشد انجری کے باوجود سلور میڈل جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے اور اب وہ ایک بار پھر اپنی شاندار کارکردگی دہرانے کے لیے پرعزم ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نیرج چوپڑا اور ارشد ندیم کے درمیان دوستانہ تعلقات ماضی میں بہت اچھے تھے، مگر حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے بعد دونوں کھلاڑی ایک دوسرے سے فاصلہ رکھے ہوئے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








