کراچی بی آر ٹی گرین بس منصوبے کے متعلق بری خبر آگئی

تازہ ترین

تازہ ترین

کراچی بی آر ٹی گرین لائن بس، فائل فوٹو

کراچی بی آر ٹی گرین بس منصوبے سے متعلق ایک اہم خبر نے سب کو چونکا دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق نمائش چورنگی سے جامع کلاتھ تک توسیعی منصوبے کے تحت جاری تعمیراتی کام اچانک روک دیا گیا ہے۔ یہ وہ منصوبہ تھا جسے مکمل ہونے کے بعد شہریوں کے لیے سفر مزید آسان بنانے کا ذریعہ قرار دیا جا رہا تھا، تاہم تعمیراتی سرگرمیوں کی بندش نے شہریوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ تعطل کا شکار رہا تو ٹرانسپورٹ کے مسائل ایک بار پھر بڑھ جائیں گے اور بی آر ٹی کی افادیت پر بھی سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق کراچی میونسپل کارپوریشن نے توسیعی منصوبے پر کام کرنے والے کنٹریکٹرز کو ایم اے جناح روڈ پر تعمیراتی کام کرنے سے روک دیا ہے اور اس حوالے سے پاکستان انفرااسٹرکچر کمپنی لمیٹیڈ (پی آئی ڈی سی ایل) حکام کو خط لکھ کر بھی آگاہ کر دیا ہے۔

کراچی کے عوام کیلئے خوشخبری، یلو لائن منصوبہ دسمبر میں مکمل ہونے کا امکان، بس کے روٹس ودیگر معلومات

کام کیوں روکا گیا ہے؟

کام روکے جانے پر پی آئی ڈی سی ایل حکام کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے 2017 میں ایم اے جناح روڈ پر تعمیرات کی اجازت دی تھی۔

پی آئی ڈی سی ایل حکام کا موقف ہے کہ بڑے تعمیراتی منصوبوں کے لیے جاری کی جانے والی این او سی ایک بار کے لیے ہوتی ہے اور اس طرح کے منصوبوں کے اجازت نامے کی کوئی مدت نہیں ہوتی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بی آر ٹی کے منظور شدہ توسیعی منصوبے کا تعمیراتی کام شروع کرنے سے قبل جولائی 2025 میں تمام متعلقہ اداروں کو مراسلہ لکھ کر آگاہ بھی کر دیا تھا۔

دوسری جانب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ مذکورہ منصوبے کے لیے 2017 میں این او سی جاری کی گئی تھی، جس پر سات سال بعد کام شروع کیا گیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا کہ ایم اے جناح روڈ شہر کی مرکزی شاہراہوں میں سے ایک ہے اور اس پر سفر کرنے والے شہری تعمیراتی کام سےمتاثر ہو رہے ہیں۔ یہاں تعمیراتی کام سے قبل منصوبہ بندی کی جانی چاہیے تھی۔ بلدیہ عظمیٰ نے بھی کہا تھا کہ متبادل سڑک کی تعمیر کے بعد تعمیراتی کام شروع کیا جائے۔

کراچی بی آر ٹی

واضح رہے کہ کراچی بی آر ٹی (گرین لائن بس) منصوبہ وفاق کی جانب سے 2016   شروع کیا تھا۔

ابتدائی طور پر یہ منصوبہ سرجانی ٹاؤن سے ٹاور تک منظور ہوا تھا۔ بعد ازاں نظر ثانی کر کے اس کو جامع کلاتھ مارکیٹ ایم اے جناح روڈ تک محدود کر دیا گیا تھا۔ تاہم 2021 میں اس کو نمائش تک مکمل کرنے کے بعد 2021 کے آخر میں اس کا افتتاح کیا گیا تھا۔

تین سال بعد رواں برس کے آغاز میں گرین لائن بس کا انتظام سندھ حکومت کے سپرد کر دیا گیا تھا اور کئی سال تک تعطل کا شکار رہنے کے بعد اس منصوبے کے باقی ماندہ حصے پر گزشتہ ماہ سے تعمیراتی کام شروع کیا گیا تھا، جو ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔

Related Posts