دیوالیہ اور اشرافیہ

تازہ ترین

تازہ ترین

نا اہل اور مفاد پرست حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے سبب پاکستان کی معیشت آج اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں سے اگر چند قدم آگے اور بڑھا جائے تو خدا نخواستہ ملک کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے، ایسی بدتر صورتحال کے باوجود ملک پر قابض اشرافیہ کی تمام مراعات ناقابل برداشت بوجھ بنی ہوئی ہیں، اس اشرافیہ سے مراد وہ افراد ہیں جن کی تنخواہیں بھی لاکھوں میں ہیں اور حکومت کی جانب سے انہیں تمام سہولتیں میسر کی جارہی ہیں۔

جس میں انہیں گاڑی، پیٹرول، ڈرائیور، مکان، بجلی، گیس، پانی، مالی، خانساماں سمیت دیگر سہولتیں میسر ہوتی ہیں، اگر 30ہزار روپے لینے والا سرکاری ملازم اپنے گھریلو اخراجات اپنی اسی آمدنی سے پورا کرتا ہے تو لاکھوں روپے تنخواہ لینے والے اپنے اخراجات اپنی تنخواہوں سے پورے کیوں نہیں کرسکتے؟

یہ لوگ ملک کے خزانے پر بوجھ کیوں بنے ہوئے ہیں؟ موجودہ صورتحال میں غربت کی چکی میں پسے ہوئے کروڑوں پاکستانی اشرافیہ کی مفاد پرستی اور بے حسی کی منہ بولتی تصویر ہیں، قدرت کی بے پناہ مہربانیوں اور تمام تر وسائل رکھنے کے باوجود پاکستان کی موجودہ حالت ایک فقیر کی سی ہے، ملک کی موجودہ خارجہ پالیسی کا مقصد صرف یہ رہ گیا ہے کہ ہمیں کہیں سے قرضہ مل جائے۔

قرضہ حاصل کرنا کوئی بری بات نہیں ہے بہت سے ممالک نے عالمی مالیاتی اداروں کی مدد اور تعاون سے ترقی کی منازل حاصل کی ہیں، مگر ہم نے عالمی مالیاتی اداروں سے جو قرضے حاصل کئے ہیں انہیں ایمانداری سے خرچ کرنے کے بجائے اس سے مخصوص اشرافیہ کو نوازا گیا، ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ملک کا ایک چھوٹا سا طبقہ امیر سے امیر تر ہوتا جارہا ہے، جبکہ پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد تمام سہولیات سے محروم ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مڈل کلاس طبقے کو پاکستان میں مستحکم ہونے کا موقع ہی نہیں دیا گیا، ایک تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ 2008 تک پاکستان کا ہر شہری 500روپے کا مقروض تھا، آج 2022میں ہر شخص 2لاکھ 27ہزار روپے سے زائد کا مقروض ہوچکا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ حاصل کئے گئے قرضوں کی واپسی کرنا ناممکن ہوچکی ہے، بلکہ ان پر عائد سود کی ادائیگی بھی نہیں ہوپارہی ہے، قرضوں کا طوق غریب عوام کے گلے میں ڈال دیا گیا ہے۔

ملک کے مجموعی قرضے قومی پیداوار کے 87فیصد تک پہنچ چکے ہیں، بنگلہ دیش کے قرضوں کی شرح 30فیصد، چین 54فیصد اور روس کی شرح 19فیصد ہے، امریکہ کا شمار دنیا کے سب سے مقروض ممالک میں ہوتا ہے لیکن اس کی پالیسیز آزاد ہیں، ملک کی ترقی کے لئے اگر ترقیاتی منصوبے شروع کئے جائیں جن سے ملکی صنعت، زراعت اور انسانی وسائل کی ترقی ہو تو ملک ترقی کرتا ہے، جی ڈی پی کی گروتھ سے قرض کا حجم خود بخود کم ہوجاتا ہے۔

انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کو ملنے والا 90فیصد قرض غیر ترقیاتی کاموں میں خرچ کیا گیا، اس سے زیادہ قابل رحم بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ قرضوں کے بوجھ کے باعث پاکستان اپنی معاشی آزادی اور خودمختاری سے محروم ہوچکا ہے، جس کے باعث پاکستان ابھی تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے بھی باہر نہیں آسکا ہے۔

حال یہ ہے کہ ایسی بدتر صورتحال کے بعد بھی بڑے عہدوں پر موجود افراد ریٹائرمنٹ کے بعد بھی مراعات سے لطف اندوز ہورہے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی اخراجات میں کمی کی جائے اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرض لینے پر پابندی کی جائے۔ تاکہ ملک کو حقیقی بنیادوں پر دیوالیہ ہونے سے بچایا جاسکے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔

Related Posts