بیرون ملک گداگری

تازہ ترین

تازہ ترین

بیرون ملک گرفتار ہونے والے 90 فیصد بھکاریوں کے پاکستانی شہری ہونے کے انکشاف پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، اس سے نہ صرف بیرون ملک پاکستان کے امیج کو نقصان ہورہا ہے بلکہ انسانی اسمگلنگ بھی بڑھ رہی ہے۔پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) کی قائمہ کمیٹی برائے سمندرپار پاکستانیز کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ کچھ عرب ممالک اور عراق میں گرفتار ہونے والے بھکاریوں میں سے 90 فیصد کا تعلق پاکستان سے ہوتا ہے۔

دیکھا گیا ہے کہ پاکستانی عمرہ یا زیارت کے بہانے سعودی عرب، ایران اور عراق کے ویزوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور وہاں بھیک مانگتے پائے گئے۔ایسے عناصر کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی وجہ سے متحدہ عرب امارات جیسے کئی ممالک نے بھیک مانگنے پر پابندی عائد کر دی ہے اور جیل کی سزائیں بھی عائد کر دی ہیں۔ ہر سال ہزاروں افراد کو ملک بدر کیا جاتا ہے لیکن اس سے وہ ایسی سرگرمیوں سے باز نہیں آتے۔ بہت سے لوگ مکہ اور مدینہ کے مقدس مقامات پر بھی جیب کاٹتے پائے گئے ہیں، اب دیکھا گیا ہے کہ یہ رجحان یورپی ممالک میں بھی دیکھنے میں آیا ہے جبکہ جاپان نئی منزل کے طور پر سامنے آیا ہے۔

اگرچہ اس رجحان کی مذمت کی جانی چاہیے، لیکن یہ پاکستان کی سنگین معاشی حالت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ ملک ہنر مند اور غیر ہنر مند افرادی قوت کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے جانا جاتا تھا۔ امیگریشن میں اضافے کی وجہ سے بہت سے ممالک انتہائی ہنر مند کارکنوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پاکستان اپنی مسابقتی برتری کھو چکا ہے اور غیر ہنر مند لوگوں کے پاس بیرون ملک رہتے ہوئے بھیک مانگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

پاکستان میں بیروزگاری کی سطح خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ اس وقت 50,000 سے زیادہ انجینئرز بے روزگار ہیں۔ پاکستانی شہری ہندوستان، نیپال اور بنگلہ دیش کے شہریوں سے کم اجرت پر کام کرنے کو تیار ہیں۔ تکنیکی مہارتوں کی کمی کی وجہ سے، پاکستان انتہائی ہنر مند ورکرز جیسے سافٹ ویئر انجینئرز یا ہنر مند ڈاکٹر پیدا کرنے سے قاصر رہا ہے اور قانونی ہجرت کے راستوں سے محروم ہو گیا ہے۔

حکومت کو پاکستانی کارکنوں کی مہارتوں اور اعتماد کے بارے میں غیر ملکی آجروں کے خدشات کو دور کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔یہ تعلیم اور تربیتی پروگراموں کے معیار کو بہتر بنا کر اور سب سے اہم ایمانداری کے کلچر کو فروغ دے کر کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں اقوام عالم میں اپنی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی سا لمیت کو برقرار رکھنا ہوگا۔

Related Posts