کشتی ڈوبنے کا دلخراش واقعہ

تازہ ترین

تازہ ترین

ماضی میں دریائے سندھ میں کشتی الٹ جانے کے باعث متعدد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ ایسے ہی ایک اور دلخراش واقعے میں رحیم یار خان کے علاقے ماچھکے میں اوور لوڈ کشتی الٹ جانے کے باعث 50 سے زائد خواتین اور بچے جان کی بازی ہار گئے۔

ریسکیو آپریشن کے تحت متعدد لاشیں نکال لی گئیں اور متعدد افراد زندہ بھی بچا لیے گئے تاہم افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان میں حفاظتی انتظامات کے حوالے سے شعور و آگہی کا فقدان ہے اور اگر لوگوں کو آگہی دی بھی جائے تو وہ نظر انداز کردیتے ہیں۔

تشویشناک طور پر من حیث القوم ہم پاکستانیوں کو بہت سے سنجیدہ اسباق سیکھنے کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں ہر سال اذیت ناک اموات سے بچا جاسکتا ہے۔ پیر کے روز صادق آباد میں دریائے سندھ میں اوور لوڈ کشی 100 کے قریب مسافروں کو لے کر جاتے ہوئے الٹ گئی۔

دراصل ہجوم کے باعث کشتی والوں میں سے ایک نے کنٹرول کھو دیا جس کے نتیجے میں کشتی الٹنے کا واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 50خواتین اور 2 بچے جاں بحق ہو گئے کیونکہ ہر شخص پانی کے خلاف اپنی زندگی کی جنگ لڑنے میں مصروف تھا۔

یہاں حکومت کی جانب سے نگرانی اور تحفظ کے زمرے میں احمقانہ حد تک سنگین غفلت بھی بے نقاب ہوتی ہے۔ کشتی چلانے والا پہلے ہی تیز لہر سے جنگ کے دوران کشتی کا سفر جاری رکھنے کی جدوجہد میں مصروف تھا، تاہم اوور لوڈنگ کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں۔

مبنی بر حقیقت بات یہ ہے کہ اس قابلِ گریز سانحے کی تمام تر ذمہ داری کشتی چلانے والے ملاحوں، مسافروں اور حکومت پر عائد ہوتی ہے جن کی جانب سے حفاظتی انتظامات کے سلسلے میں غفلت کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔

گزشتہ کم و بیش 75سال کی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانیوں نے اپنے مجموعی روئیے میں حفاظتی انتظامات سمیت زندگی کے ہر شعبے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ تو کیا تاہم جب اپنی حفاظت کی بات آئی تو متعدد اقدامات نظر انداز کیے گئے۔ 

ملک بھر میں بارشوں کے باعث ندی نالوں اور دریاؤں میں طغیانی ہے۔ اس دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی دھیان رکھنا ہوگا کہ کشتی جیسے غیر محفوظ سفر کی حفاظت کیلئے ہر ممکن انتظامات کا اہتمام کیا جائے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ من حیث القوم پاکستانی شہری بھی اپنے فرائض کو سمجھیں اور ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جن کے تحت اس قسم کے حادثات میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع سے بچا جاسکے۔ 

Related Posts