ایران سعودی عرب دوستی اور چین کا کردار

تازہ ترین

تازہ ترین

عالمی سفارتکاری کے منظرنامے میں چین کا بڑھتا ہوا اثر ورسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں جو پہلے صرف اقتصادی و معاشی افق پر نظر آتا تھا تاہم جب سے ایران اور سعودی عرب کے مابین مفاہمت کی خبر زباں زدِ عام ہوئی ہے، چین کا اثر و رسوخ سیاسی و سفارتی محاذ پر بھی واضح نظر آنے لگا ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران اور سعودی عرب کبھی قریب نہیں آئے اور دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات پیچیدگیوں اور بدگمانیوں کا شکار رہے ہیں تاہم چین نے دور حاضر کے علاقائی اور بین الاقوامی سیاسی منظر نامے پر یہ ثابت کردیا کہ چین ایک ایسے بلاک کا اہم ترین اور کلیدی ملک بن چکا ہے جو خطے کی ایک اہم طاقت بن کر عالمی منظر نامے پر ابھرا۔

اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں بھی چین کا کردار پہلے سے بڑھ کر اہمیت اختیار کر گیا ہے جہاں اس کی رکنیت کی ساکھ سب کو معلوم ہوچکی ہے۔ چین ایک ایسے بلاک کا حصہ بن چکا ہے جو خطے کی اہم طاقتیں سمجھی جاسکتی ہیں۔

سعودی عرب کا او آئی سی اور عرب لیگ جیسی تنظیموں میں متمول مقام بھی اہمیت کا حامل ہے۔ دوسری جانب اسرائیل اور چین بہت اچھے دوست ممالک سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے مابین تجارت اور عسکری تعاون سمیت ہر اہم سطح پر دو طرفہ تعلقات موجود ہیں جس میں ان دونوں کے مابین بظاہر کوئی مسئلہ نہیں۔

یہ بھی واضح رہے کہ ماضی قریب میں اسرائیل نے عسکری نوعیت کے وہ ساز و سامان چین کو پہنچادیئے جو کہ امریکا نے اسرائیل کو فراہم کئے تھے اس پر امریکا نے اسرائیل سے ناراضگی کا اظہار بھی کیا تھا۔

راقم الحروف کو یقین ہے کہ چین مستقبل قریب میں ایران کی ایٹمی ڈیل جو کہ پی 5 پلس 1 ممالک کے درمیان جاری و ساری ہے اور اب تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی اس پر بھی  اپنی ثالثی کی بل بوتے پر اہمیت اختیار کرتا جائیگا۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد اسلامی ممالک نے چین کی ثالثی کے معاملے کا خیر مقدم کیا ہے اورتینوں ممالک کو مبارکباد بھی دی۔

آئندہ چند سالوں میں خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں جبکہ امریکا کے بھی اس خطے میں اپنے مفادات ہیں جن کے تحفظ کیلئے امریکا اپنے سفارتی، معاشی اور عسکری وسائل کو بروئے کار لانے کی کوشش کرتا رہے گا۔

سعودی عرب اور ایران کا قریب آنا علاقائی ممالک اور خاص طور پر ہمارے لئے بھی خوش آئند ہے، حال ہی میں سعودی عرب اور امریکا کے درمیان تیل کی پیداوار کم کرنے کے حوالے سے تنازعات نے خطے کے منظر نامے کو تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری و ساری رہتا نظر آرہا ہے۔

امریکا، اسرائیل اور اتحادیوں نے ایران کی نیوکلیئر طاقت ختم کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور گزشتہ دنوں ایران کیخلاف مشقیں بھی کیں لیکن جب سعودی عرب کو یہ کوششیں سود مند ثابت ہوتی نہیں دکھائی دیں تو اس نے خطے میں نئی طاقت کے طور پر ابھرتے ہوئے چین کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالنے کو ترجیح دی۔

امریکی خارجہ پالیسی کا اہم ترین حصہ چین کے خطے میں عمل دخل اور بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے جس کیلئے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور موجودہ جوبائیڈن حکومت نے بھی اقدامات اٹھائے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری و ساری رہ سکتا ہے ۔

کم و بیش 35 سے 40 سال بعد روس کو بحیرۂ روم میں اپنے جہاز نکالنے کا موقع میسر آیا۔ چین کے ثالثی کے اقدام سے بہت سے ممالک ایک ساتھ آئے ہیں جس سے خطے میں اس پورے بلاک کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ امریکا، اتحادی ممالک، نیٹو اور یورپی یونین کو کھٹکنے لگا ہے۔

ایسے میں مغرب کی جانب سے کسی بھی ممکنہ رد عمل سے بچنے کیلئے نئے اتحادی ممالک کو چین کی جانب سے معاشی و عسکری تعاون بلکہ حفاظتی اقدامات بھی درکار ہوں گے۔ فی الحال چین شاید اس پوزیشن میں نہ ہو، تاہم بہت جلد چین اور روس کی جانب سے ایسے اقدامات سامنے آسکتے ہیں۔

ابراہم اکارڈسمیت خطے میں اپنے دیگر مفادات کے پیشِ نظر اسرائیل خلیجی ممالک سمیت مزید مسلمان ممالک سے اپنے تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے اور اس کی سب سے بڑی دلچسپی یہ ہے کہ پاکستان سمیت خطے بلکہ دنیا بھر کے تمام ممالک اسے بطور مملکت تسلیم کریں۔

متحدہ عرب امارات، ترکیہ، بحرین، سوڈان، مراکش اور دیگر ممالک کے پہلے ہی اسرائیل سے دو طرفہ مراسم ہیں جبکہ امریکا اس خطے میں 4 ٹریلین ڈالر سے زائد رقم جھونک چکا ہے جس کی مثال عراق اور افغانستان میں جنگوں سے دی جاسکتی ہے۔ خاص طور پر افغانستان میں تو 20 سال تک امریکی فوج مسلط رہی۔

ایسے میں خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی طاقت سے خائف امریکا کی جانب سے مداخلت پر مبنی معاندانہ اقدامات اور پھر بھارت اورروس سمیت دیگر طاقتوں کی باہمی ہم آہنگی ، رسہ کشی اور چپقلش سے خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال آئندہ دور میں کوئی بھی رخ اختیار کرسکتی ہے۔

پاکستان کیلئے توازن برقرار رکھنا ماضی میں کسی حد تک مشکل ہوتا تھا لیکن اب ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہونے کے ساتھ ہی پاکستان کو اپنا واضح مؤقف اپنانے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آئیگی۔

یہ بھی ممکن ہے کہ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلیاں لانی پڑیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر قیادت موجودہ حکومت کو ایسے تمام نکات پر اپنی گہری نظر رکھناہوگی ، اپنے مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا اور موجودہ معاشی مخدوشیت سے نکلنے کیلئے بھی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

Related Posts