آرمی چیف کی تقرری کو متنازعہ نہ بنایا جائے

تازہ ترین

تازہ ترین

بلاشبہ اندرونی اور بیرونی سلامتی کے خطرات کے پیش نظر فوج کا طاقتور ہونا پاکستان کی ضرورت ہے۔معاشی مشکلات کے باوجود قوم ہر بار سالانہ بجٹ میں دفاع کے لیے خطیر رقم مختص کرنے پر مجبور ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ ان مالی قربانیوں کے ساتھ ساتھ قوم کی محبت اور مکمل تعاون کی وجہ سے پاکستان آرمی کو دنیا کی بہترین اور طاقتور افواج میں سے ایک مانا جاتا ہے۔

یقیناً کسی بھی ملک کی فوج کو چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھرپور عوامی حمایت ضروری ہے۔بصورت دیگر کوئی بھی فوج اس حمایت کے بغیر اندرونی اور بیرونی سلامتی کے چیلنجوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔رواں ماہ کے آخر میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ ریٹائر ہونے والے ہیں اور قوم کو اپنی طاقتور فوج کا نیا سربراہ مقرر کرنا ہے۔ ملک کے آئین کے مطابق موجودہ وزیر اعظم کو کو نیا آرمی چیف منتخب کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

وزارت دفاع چند لیفٹیننٹ جنرلز کی فہرست جو آرمی چیف بننے کے اہل ہیں، وزیراعظم کو بھیجتی ہے جو اس فہرست میں سے کسی ایک کا نام منتخب کرتے ہیں، نئے آرمی چیف کی تقرری مثالی طور پر ایک معمول کا کام ہونا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے ملک میں کچھ سیاسی عناصر صرف اپنے مفادات کے لیے اس اہم تقرری کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ رواں سال اپریل میں وفاقی حکومت کی تبدیلی کے بعدسوشل میڈیا پر فوج اور اس کی قیادت کے خلاف ایک سمیر مہم شروع کی گئی جس سے ہر محب وطن پاکستانی کو شدید دکھ پہنچا۔

اب اس بدنظمی کے پیچھے موجود عناصر نئے آرمی چیف کی تقرری کو متنازعہ بنانا چاہتے ہیں۔اگر یہ عناصر اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہو گئے تو اس سے قوم اور ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا کیونکہ فوج کے کمزور ہونے کا مطلب ملک کا کمزور ہونا ہے، لہٰذا اس نازک وقت میں ہر محب وطن سیاستدان کے ساتھ ساتھ میڈیا کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوج اور ملک کے خلاف ہونے والی اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور ان عناصر کی حوصلہ شکنی کریں جو اس کے پیچھے ہیں۔

Related Posts