اہم تقرر کا نزاع

تازہ ترین

تازہ ترین

نئے آرمی چیف کی تقرری کا عمل شروع کر دیا گیا ہے کیونکہ موجودہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت 29 نومبر کو ختم ہو رہی ہے۔وزیراعظم آفس (پی ایم او) نے تصدیق کی کہ اسے اگلے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی تقرری کی سمری موصول ہو گئی ہے۔

اگرچہ اس عہدے کے لیے ناموں کا باضابطہ طور پر اعلان نہیں کیا گیا تاہم اعلیٰ ترین دو عسکری مناصب کیلئے انتخاب کی دوڑ میں لیفٹیننٹ جنرلز عاصم منیر، ساحر شمشاد مرزا، فیض حمید، محمد عامر، اظہر عباس اور نعمان محمود شامل ہیں۔

اس تقرری نے صحیح اور غلط دونوں وجوہات کی بناء پر کچھ عرصے سے ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ اب معاملہ اختتام کی طرف بڑھتا نظر آ رہا ہے، جس کے بعد توقع ہے کہ اس سلسلے میں جاری بے چینی کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔

یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ اس تقرری کو سیاسی رنگ دیا گیا اور عرصے سے افواہوں اور قیاس آرائیوں کے ذریعے اس معاملے کو متنازع بنایا گیا۔ اب تقرر چند ہی گھنٹوں کے فاصلے پر ہے، جس کے بعد امید ہے کہ دوسرے اہم معاملات اور بحرانوں پر توجہ کیلئے اسٹیک ہولڈرز کو وافر موقع میسر آئے گا۔

اس واقعہ کے ارد گرد غیر متناسب توجہ اور گفتگو ہماری ترجیحات اور بالغ نظری پر سوالیہ نشان  ہے، حالانکہ ہم اس منصب پر ایسی ہر تقرری کو میرٹ کے مطابق کر کے بہ آسانی کسی بھی تنازع سے اپنا اور ادارے کا دامن بچا سکتے ہیں۔

اس سے قبل وزیر دفاع نے واضح کیا تھا کہ اس معاملے پر کوئی سول ملٹری تناؤ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نواز شریف کا احترام کرتے ہیں۔

بہر حال جس جنرل کا بھی تقرر ہوگا، یہ بات طے ہے کہ وہ منصب سنبھالتے ہی اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریوں کی طرف متوجہ ہوگا۔ نیا سربراہِ عسکر جو بھی ہو، اس کیلئے سب سے اہم چیلنج پاکستان کی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے مضبوط موقف اپنانا ہے کیونکہ جنوبی ایشیا کے خطے میں سیکورٹی کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں بدامنی بدستور جاری ہے، یہ صورتحال ہماری سرحدوں پر بھی ٹینشن بڑھا سکتی ہے، نیز نئی دہلی کے انتہا پسندانہ موقف کا حکمت سے انسداد کرنا بھی وقت کی ضرورت ہے۔ پاک افغان سرحد پر بھی صورتحال مستحکم نہیں ہے کیونکہ طالبان حکومت کی جانب سے ڈیورنڈ لائن پر لگی خاردار باڑ کو ہٹانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، یہ حالات نئے چیف کیلئے پیشہ ورانہ ذمے داریوں کے تناظر میں خاصے معرکہ آرا ہوں گے۔ 

Related Posts