بھارت کی مذمت

تازہ ترین

تازہ ترین

یہ حیرت کی بات ہے کہ گزشتہ ہفتے غلطی سے پاکستان پر میزائل فائر کرنے پر بھارت کی سخت سرزنش یا بین الاقوامی سطح پر اس کی مذمت نہیں کی گئی، پاکستان نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے لیکن اس بات کا امکان نہیں ہے کہ بھارت اس پر راضی ہو جائے۔

امریکہ نے بھی ہندوستان کے میزائل تجربے پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض ایک حادثہ تھا۔ دنیا نے اس بات پر کوئی خاص تشویش کا اظہار نہیں کیا کہ آیا ہندوستان کا ہتھیاروں کا پروگرام اور دفاعی نظام محفوظ ہاتھوں میں ہے؟۔ یورینیم کی اسمگلنگ میں گروہوں کے ملوث ہونے کے متعدد واقعات رونماء ہوچکے ہیں لیکن اس نے نیوکلیئر سیفٹی پر بھی کوئی بات نہیں کی۔

پاکستان نے میزائل لانچنگ پر ہندوستانی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان کو مسترد کردیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان طریقہ کار کا جائزہ لے رہا ہے اور کسی بھی کوتاہی کو دور کرے گا۔ پاکستان ان کے جواب سے مطمئن نہیں تھا اور اس واقعے کی مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان نے انتہائی تحمل کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس طرح کے واقعے سے جنگ چھڑ سکتی تھی۔

عسکری ماہرین نے بھارت کو اس سنگین مسئلے سے متعلق خبردار کیا ہے، اگر یہ واقعہ ہوا بازی کی تباہی کا باعث بنتا تو کیا دنیا ایکشن لیتی؟ یہ واقعہ فلائٹ MH-17 کی یاد دلاتا ہے جو 2014 میں یوکرین کی فضائی حدود سے پرواز کررہی تھی، اس دوران ایک میزائل مسافر طیارے سے ٹکرا گیا، جس کے باعث طیارے میں سوار 298افراد اپنی قیمتی زندگیوں سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے۔ بھارت کی غلط فائرنگ اور ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کو سنبھالنے میں ناکامی اسی طرح کی یا بدتر تباہی کا باعث بن سکتی تھی۔

ہندوستان نے حال ہی میں مغربی ممالک کی مخالفت کی ہے اور یوکرین جنگ کے دوران روس کے لئے اپنی مضبوط حمایت کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر اس نے حملے کی مذمت کرنے والی اقوام متحدہ کی قرارداد کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جب کہ پاکستان کو غیر ملکی سفیروں کی جانب سے روس کی اس کارروائی کی مذمت کرنے کے لیے سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، وہیں بھارت کے خلاف اس طرح کی چیز دیکھنے کو نہیں ملی۔

ہندوستان ایسے ممالک کے ساتھ بھی شراکت داری رکھنے میں کامیاب رہا ہے جنہیں دنیا میں عالمی تنہائی کا سامنا ہے، اس نے امریکہ کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود ایران سے تعلقات برقرار رکھے، اس نے کشمیر میں کسی بھی بین الاقوامی مداخلت کو روکنے کے لیے سیاست کا استعمال کیا ہے، کیونکہ اس سے بھارت کے مظالم کو بے نقاب کیا جا سکتا ہے۔

عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کے بیانات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جمہوریت کو کمزور کرنے اور اقلیتوں کو دبانے کے اقدامات پر مذمت کرے، کیونکہ اس سے علاقائی اور عالمی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔

Related Posts