خلائی اسٹیشن کی تباہی اور عالمی بھونچال

تازہ ترین

تازہ ترین

روس اور یوکرین تنازعہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا بلکہ مزید شدت اختیار کرتا جارہا ہے اور ماسکو جب تک اپنے اہداف حاصل نہیں کرلیتا اس بھڑکتی آگ کا ٹھنڈا ہوناشائد ممکن نہیں ہے۔

روس گزشتہ 14 سال سے اس کوشش میں مصروف ہے اور ولادی میر پیوٹن بار ہا اپنے اہداف کا تذکرہ بھی کرتے رہے ہیں جو بہت سادہ ہے کہ روس کو یوکرین اور مغرب کی طرف سے یہ گارنٹی دے دی جائے کہ یوکرین کو نیٹو میں شامل نہیں کیا جائے گا اور ان کی دہلیز پر نیٹو ہتھیاروں کو نصب نہیں کیا جائیگا۔

یہاں تشویش کی بات یہ ہے کہ یوکرین روس تنازعے کے اثرات خلاء تک پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ روس نے اسپیس میں اپنے ایک اسٹیشن کو میزائل کے ذریعے تباہ کردیا جبکہ خلا میں لڑائی سب سے زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے۔ دنیا میں اس وقت چین، روس اور امریکا کے پاس خلائی ہتھیار موجود ہیں اور اب بھارت بھی خلائی ہتھیاروں کے حصول کی کوشش کررہا ہے۔

ڈاکٹر جمیل احمد خان کے مزید کالمز پڑھیں:

افغانستان کی تباہی کو دوام

یمن میں سنگین انسانی بحران

خلائی ہتھیاروں کا مقصد دنیا پر دھاک بٹھانا ہوتا ہے کہ ہم روایتی لڑائی کو خلا تک لے جا سکتے ہیں ۔ایک توجہ طلب بات یہ ہے کہ خلا میں  15ہزار کے قریب ٹوٹے ہوئے ٹکڑے اور لاکھوں زرات ڈیبریز یعنی ملبے کی صورت میں خلا میں گردش کررہے ہیں۔ اگر وہ کسی دوسرے خلائی اسٹیشن یا سٹیلائٹ سے ٹکرا گئے تو ایک خطرناک صورتحال پیدا ہوجائیگی کیونکہ امریکا اور روس کے خلائی اسٹیشنوں میں انسانی ٹیمیں موجود ہیں اور اگر خلا میں تیزی سے گردش کرتا ملبہ  کسی خلائی اسٹیشن یا سیٹلائٹ تک جا پہنچا تو ممکنہ جانی و مالی اور تکنیکی نقصان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

روس یوکرین تنازعے کو تیسری عالمی جنگ کی طرف جانے سے روکنے کیلئے امریکا اور نیٹو حتیٰ الامکان کوشش کررہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ امریکا اور نیٹو نے یوکرین میں براہ راست عسکری کارروائیوں سے معذرت کرلی ہے۔ امریکا اور روس دونوں کی کوشش ہے کہ تنازعہ تیسری عالمی جنگ کی طرف نہ جائے اور تنازعے کوفضاؤں میں لے جانے سے بھی گریز کیا جارہا ہے۔ خلا میں موجود ڈیبریز کاگالف بال جتنا چھوٹا حجم رکھنے والا ٹکڑا بھی اسپیس اسٹیشن کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔

پاکستان روس یوکرین تنازعہ میں غیر جانبدار رہنے کی حتیٰ الوسع کوشش جاری رکھے ہوئے ہے اور ہماری خارجہ پالیسی بھی اس بات کی غمازی کرتی ہے تاہم ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان چین کا عسکری اور اقتصادی پارٹنر ہے اور روس کے ساتھ بھی تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہیں تو ایسے میں بین الاقوامی اور علاقائی صورتحال سے پاکستان کا متاثر ہونا ایک قدرتی امر ہے تاہم مستقبل میں روس اور چین کے ساتھ ساجھے داری سے استفادہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

بھارت کی جانب سے پاکستان کی حدود میں میزائل گرنا تشویشناک ہے، بھارت کا میزائل پاکستان میں 124 کلومیٹر اندر گرا۔ دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، اس دوران ہوا میں موجود جہازوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا تھا اور حساس تنصیبات بھی نشانہ بن سکتی تھیں۔ ہر ملک کا اپنا چیک اینڈ بیلنس سسٹم ہوتا ہے اور اس میں کسی غلطی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان کو اس واقعے کو اقوام عالم کے سامنے پوری شدت سے اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس طرح کی مہم جوئی خطے کا امن داؤ پر لگاسکتی ہے۔

بھارت کی مہم جوئی نے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کردی ہے کہ اگر غلطی سے ایک بار میزائل فائر ہوسکتا ہے تو ایک نیوکلیئر ملک کے اثاثے کیسے محفوظ ہوسکتے ہیں اور اگر ہتھیاروں کی نقل و حمل کے دوران دوبارہ اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا ؟ اس حوالے سے عالمی قوانین موجود ہیں کہ اگر آپ کیخلاف کوئی مہم جوئی ہوتی ہے تو اس کا سبدباب کیسے کیا جاسکتا ہے۔پاکستان کو عالمی سطح پر اپنا مقدمہ بہتر تیاری کے ساتھ لڑنے کی ضرورت ہے۔

Related Posts