روس اور یوکرین تنازعہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا بلکہ مزید شدت اختیار کرتا جارہا ہے اور ماسکو جب تک اپنے اہداف حاصل نہیں کرلیتا اس بھڑکتی آگ کا ٹھنڈا ہوناشائد ممکن نہیں ہے۔
روس گزشتہ 14 سال سے اس کوشش میں مصروف ہے اور ولادی میر پیوٹن بار ہا اپنے اہداف کا تذکرہ بھی کرتے رہے ہیں جو بہت سادہ ہے کہ روس کو یوکرین اور مغرب کی طرف سے یہ گارنٹی دے دی جائے کہ یوکرین کو نیٹو میں شامل نہیں کیا جائے گا اور ان کی دہلیز پر نیٹو ہتھیاروں کو نصب نہیں کیا جائیگا۔
یہاں تشویش کی بات یہ ہے کہ یوکرین روس تنازعے کے اثرات خلاء تک پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ روس نے اسپیس میں اپنے ایک اسٹیشن کو میزائل کے ذریعے تباہ کردیا جبکہ خلا میں لڑائی سب سے زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے۔ دنیا میں اس وقت چین، روس اور امریکا کے پاس خلائی ہتھیار موجود ہیں اور اب بھارت بھی خلائی ہتھیاروں کے حصول کی کوشش کررہا ہے۔
ڈاکٹر جمیل احمد خان کے مزید کالمز پڑھیں:
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں