اسلام آباد: عدالت نے مشہورومعروف کاروباری شخصیت اور سابق رکنِ قومی اسمبلی حنیف عباسی کو معاونِ خصوصی کی حیثیت سے کام کرنے سے روک دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے 2008 سے 2013 تک رکنِ قومی اسمبلی کی حیثیت سے قوم کی خدمت کرنے والی کاروباری شخصیت حنیف عباسی کو معاونِ خصوصی مقرر کیا تھا، تاہم سابق وزیرِ داخلہ نے ان کے خلاف درخواست دے دی۔
پاک بحریہ کے جہاز شمشیر کا دورہ، عمان میں پرتپاک استقبال
آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سابق وزیرِداخلہ شیخ رشید احمد کی حنیف عباسی کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ وکیلِ صفائی کا کہنا تھا کہ عدالت حنیف عباسی کو کام سےنہ روکے، یہ تو حتمی ریلیف ہوگا۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حنیف عباسی کے وکیل کی استدعا مسترد کردی۔ عدالتِ عالیہ اسلام آباد نے قرار دیا کہ سزا یافتہ شخص سرکاری آفس میں خدمات انجام نہیں دے سکتا۔ وزیر اعظم کو مشورہ دینا ہے تو اس کیلئے نوٹیفکیشن ضروری نہیں۔
درخواست گزار شیخ رشید احمد بھی عدالت میں حاضر ہوئے۔ حنیف عباسی کے وکیل احسن بھون نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست کی کہ معاونِ خصوصی پبلک آفس نہیں ہوتا۔ عدالت اس قسم کا حکم نہ دے۔
ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ معاونِ خصوصی کا کام وزیر اعظم کو مشورہ دینا ہوتا ہے، نوٹیفکیشن کے بغیر بھی یہ کام جاری رکھا جاسکتا ہے۔ آئندہ سماعت تک حنیف عباسی کو معاونِ خصوصی کے طور پر کام سے روک دیتے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے سماعت 10روز تک کیلئے ملتوی کردی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








