سن 2002ء میں امریکی صحافی ڈینیل پرل کے بہیمانہ قتل نے دنیا کو ورطۂ حیرت میں مبتلا کردیا اور عالمی سطح پر اس قتل سے غم و غصہ پھیل گیا۔ تقریباً 2 دہائیوں کے بعد سپریم کورٹ نے قتل کے مرکزی ملزمان کو بری کردیا ہے جس سے یہ کیس ایک بار پھر عوام کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
امریکی صحافی ڈینیل پرل کراچی میں سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مذہبی انتہا پسندوں کے روابط کی تحقیقات کر رہے تھے کہ اسی دوران وہ لاپتہ کردئیے گئے اور 2002ء میں ان کی لاش برآمد ہوئی۔ ڈینیل پرل کا سر قلم کرنے کی خوفناک ویڈیو بھی فلما کر اسے امریکی قونصل خانے کو بھیج دیا گیا تھا۔ کیس کے مرکزی ملزم سعید احمد عمر شیخ جسے شیخ عمر بھی کہتے ہیں، کو بالآخر گرفتار کرکے سزائے موت سنائی گئی۔ ملزم نے اپنا دفاع تونہیں کیا لیکن سزا کے خلاف عدالت میں اپیل کردی اور تقریباً 20 سال سزائے موت کے انتظار میں گزار دئیے۔
اپریل 2020ء میں سندھ ہائی کورٹ نے مرکزی ملزم اور 3 دیگر ملزمان کو ہائی پروفائل ڈینیل پرل قتل کیس میں بری کر دیا جو اپیکس کورٹ میں منتقلی کے بعد ہی صوبائی حکومت کیلئے تشویش کا باعث بن گیا۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے ملزمان کی رہائی کا حکم دیا۔ عدالت نے حساس معلومات کو قبول کرنے سے انکار کردیا جن کے مطابق شیخ عمر کے روابط دہشت گرد تنظیموں سے ثابت ہوتے ہیں جو ایک مشکور عسکریت پسند رہا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے سے ڈینیل پرل قتل کیس ایک بار پھر عوام میں زندہ ہوگیا کیونکہ پاکتسان میں دہشت گردی کے عروج کیلئے ڈینیل پرل قتل کیس ایک نقطۂ آغاز سمجھا جاسکتا ہے۔ برطانوی نژاد شیخ عمر نے عسکریت پسند گروہ میں شامل ہونے اور پاکستان منتقل ہونے سے قبل ایل ایس ای میں تعلیم حاصل کی تھی۔ سن 1994ء میں بھارت میں شیخ عمر کو غیر ملکی سیاحوں کے اغواء کے الزام میں گرفتار کرکےجیل بھیج دیا گیا تھا۔ سن 1999ء میں دہلی جانے والا بھارتی ائیر لائن کا طیارہ نیپال میں ہائی جیک ہوا جسے افغان شہر قندھار روانہ کردیا گیا جس کا کنٹرول طالبان کے پاس تھا۔ اغواء کاروں نے شیخ عمر سمیت دیگر 3 افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا جو بالآخر پاکستان واپس آگیا۔
ملزمان کی بریت ڈینیل پرل قتل کیس کو اس جگہ لا کھڑا کردیتی ہے جہاں سے یہ کیس شروع ہوا تھا۔ شیخ عمر نے امریکی صحافی کے قتل میں اپنے معمولی کردار کی تصدیق کی ہے لیکن اس کا ثبوت عدالت کو پیش نہیں کیا گیا۔ فیصلے کے بعد پاکستانی عدالتی نظام میں مقدمات کی صورتحال کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی۔ امریکا اس فیصلے سے ناراض ہے جس نے غم و غصے کا اظہار بھی کیا۔ امریکا شیخ عمر کے مقدمے کی سماعت کرنا چاہتا ہے تاہم پاکستانی عدالتیں شیخ عمر جیسے انسان کو آزاد کرنے کے نتائج سے غافل نظر آتی ہیں۔
عالمی دباؤ کے باعث ڈینیل پرل قتل کے مرکزی ملزم کو رہائی سے روکنے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان فی الحال دہشت گردی کی مالی اعانت سے متعلق ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہے اور ملک کے دہشت گردوں سے روابط پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عدالتی فیصلے کو ناانصافی قرار دیا جارہا ہے کیونکہ ڈینیل پرل کے قاتل آزاد ہوجائیں گے جس سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا تاثر سبوتاژ ہو کر رہ جائے گا۔