ڈار کی ڈالر پالیسی

تازہ ترین

تازہ ترین

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے ڈالر کو 200 روپے سے نیچے لانے کے وعدے کے بعد گزشتہ دن انٹربینک مارکیٹ میں مسلسل نویں روز پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کو پچھاڑتا نظر آیا۔

تجزیہ کار روپے کی قدر میں استحکام کو بنیادی طور پر ماہ گزشتہ کے دوران درآمدی بل میں ریکارڈ کی جانے والی کمی کے ساتھ جوڑتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور توقع ظاہر کر رہے ہیں کہ نئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار موجودہ شرح کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔

ایسا لگتا ہے کہ ڈار کی “ڈالرولوجی” (ڈالر کو کنٹرول کرنے کا اسحاق ڈار کا اپنا مخصوص نظریہ اور طریق کار) ڈالر کے پر کترنے میں کامیاب ہو رہی ہے، جو مفتاح اسماعیل صاحب اپنی کوششوں کے تمام تر اوزار بروئے کار لاکر بھی نہ کرپائے تھے۔

اسحاق ڈار نے اپنے حالیہ بیان میں کہا تھا: “پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی اصل قدر 200 سے کم ہے، چنانچہ ہم اسے 200 سے نیچے اس کی اصل قدر کی حد میں لے آئیں گے۔”

اسحاق ڈار اپنے گزشتہ تین ادوار میں بھی کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کے بھرپور حامی رہے ہیں، جبکہ ان کے بر عکس جناب مفتاح اسماعیل کا خیال تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے وعدوں کے مطابق وہ بطور وزیر خزانہ ڈالر کی قدر کو نیچے لانے کے لیے مداخلت نہیں کر سکتے۔

بدھ کو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ایک روپے سے زائد کے اضافے کے بعد امریکی ڈالر کی قدر کم ہوکر 223.94 روپے ہوگئی۔

اس طرح نئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی آمد کے بعد محض نو دنوں میں روپے کی قدر میں مجموعی طور پر 15.94 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ ڈار کی آمد سے پہلے ڈالر 239.94 کی بلند ترین سطح پر تھا۔

دیگر اقدامات کے علاوہ حکومت نے حال ہی میں شرح مبادلہ میں ہیرا پھیری میں بینکوں کے کردار کو بھی بے نقاب کیا ہے اور اس حوالے سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور محصولات کو بتایا کہ کرنسی مارکیٹ میں ہیرا پھیری میں ملوث آٹھ بینکوں کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق بینکوں کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ اگلے مرحلے میں اس دھندے میں ملوث باقی بینکوں کے کردار کی تحقیقات کی جائیں گی۔

یہ امر واضح ہے کہ ڈالر کی قدر میں کمی پاکستان کی بیمار معیشت کے لیے بہت ضروری ہے اور اسحاق ڈار کے اب تک کے اقدامات ڈالر کی شرح مبادلہ میں استحکام پیدا کر رہے ہیں، لیکن دیکھنا ہے کہ ڈالر کی قدر میں کمی کا یہ رجحان مستقل ہے یا یہ عارضی بندوبست کا وقتی حاصل وصول ہے!

Related Posts