آئی ایم ایف سے مذاکرات میں تاخیر

تازہ ترین

تازہ ترین

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے واضح کیا ہے کہ کثیر الجہتی اور دو طرفہ شراکت داروں سے بات چیت اور مسلسل مالی امداد کیلئے پاکستان میں رواں برس آنے والے تباہ کن سیلاب سے بحالی کے منصوبے کو بر وقت حتمی شکل دینا ضروری ہے۔

تشویشناک طور پر موجودہ وفاقی حکومت اب تک سیلاب سے بحالی کے منصوبے کو حتمی شکل نہیں دے سکی جس کی وجہ سے قرض کی اگلی قسط کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی ہے۔

اگرچہ وفاقی وزارتِ خزانہ نے گزشتہ ہفتے بیان جاری کیا تھا کہ ہم آئی ایم ایف پروگرام کے نویں جائزے کے حصے کے طور پر آئی ایم ایف کے ساتھ تکنیکی مصروفیات کو تیزی سے مکمل کر لیں گے، تاہم جائزہ مکمل کرنے کی واضح تاریخ کا اعلان ہونا باقی ہے۔

قبل ازیں آئی ایم ایف کی ریزیڈینشل چیف ایستھر پیریز روئز کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ معاشی و مالیاتی استحکام برقرار رکھنے کیلئے اصلاحات کی کاوشوں کو تیز کرتے ہوئے انسانی ضروریات کیلئے بہتر ہدف کی حمایت پر گفت و شنید جاری ہے جسے آئی ایم ایف کا اہم مؤقف قرار دیا جاسکتا ہے۔

ممکنہ طور پر کم ہوتے زرِ مبادلہ کے ذخائر پر پاکستان کی اپنی بیرونی قرض کی ضروریات اور پہلے سے لیے گئے قرض کی ادائیگیوں کو پورا کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے سرمایہ کاروں کو بھی تشویش محسوس ہوسکتی ہے۔

بلا شبہ قرض دہندہ (آئی ایم ایف) کو یہ یقینی بنانے کا پورا حق حاصل ہے کہ قرض کیلئے عائد شرائط پر بر وقت عمل کیا جائے کیونکہ اس کی تجویز کردہ بیشتر اصلاحات کا نفاذ جلد اور پائیدار اقتصادی بحالی کیلئے بہت ضروری ہے، تاہم آئی ایم ایف کو پاکستان کو دوبارہ پیروں پر کھڑا کرنے میں مدد دینے کیلئے کچھ لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

دوسری جانب پاکستان یہ توقع کر رہا ہے کہ عالمی عطیہ دہندگان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور معیشت کو پہنچنے والے نقصان سے لڑنے کیلئے ہمارے مجوّزہ منصوبوں کو آئندہ 3 سالوں میں 13 ارب ڈالر تک سیلاب زدگان کی امداد کے ساتھ فنڈ کریں گے۔

حکومت نے مجموعی طور پر 10 سال میں 40 ارب ڈالر کی فنڈنگ کی ضروریات پر کام کیا ہے۔ تاہم اقوامِ متحدہ کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ پاکستانیوں کی مدد کیلئے فنڈز کی بار بار اپیلوں پر عالمی برادری کے سست ردِ عمل اور آئی ایم ایف کی جانب سے غیر معمولی حد تک سخت مؤقف کا جائزہ لیا جائے تو یہ رقم مکمل ہونے کا کوئی امکان نہیں۔

آئی ایم ایف اور ماحولیاتی تبدیلی فنڈ سے ملنے والی امداد پاکستان کیلئے لائف لائن ثابت ہوسکتی ہے جبکہ ہمارا ملک عالمی مارکیٹوں اور ریٹنگ ایجنسیز کو یہ باور کرانے کیلئے جدوجہد کر رہا ہے کہ ہمارے پاس قرض کی ادائیگی سمیت بیرونی مالیاتی ضروریات پوری کرنے کیلئے فنڈز موجود ہیں۔

 

Related Posts