اسرائیل کی جانب سے غزہ جانے والے “گلوبل صمود فلوٹیلا” کو روکنے کے بعد ملک بدر کیے گئے بین الاقوامی کارکنوں نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں حراست کے دوران تشدد اور ذلت آمیز سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔
یہ فلوٹیلا تقریباً 45 جہازوں پر مشتمل تھا جو جنگ زدہ غزہ کے لیے امداد لے جا رہا تھا، تاہم اسرائیلی فوج نے اسے روک کر اس میں حصہ لینے والے رضاکاروں کو بین الاقوامی سمندر سے اغوا کرلیا۔
اس واقعے میں 400 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے 13 ممالک کے 137 کارکن بشمول 36 ترک شہری ہفتے کے روز ترک ایئرلائن کی خصوصی پرواز کے ذریعے استنبول پہنچے۔
کیا سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی رہا ہوگئے؟ صمود فلوٹیلا سے گرفتار 137 کارکن ترکی کے حوالے
اطالوی کونسلر پاؤلو رومانو نے استنبول ایئرپورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم پر بڑی تعداد میں فوجی کشتیوں نے گھیراؤ کیا۔ ہمیں گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا، حرکت کرنے پر مارا گیا اور تمسخر و گالیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ نفسیاتی اور جسمانی دونوں طرح کا تشدد تھا۔
ملائیشین کارکن ایلیا بلقیس نے اسے اپنی زندگی کا “بدترین تجربہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حراست میں ان کے ہاتھ باندھ دیے گئے، پانی اور طبی امداد سے محروم رکھا گیا اور گھنٹوں تک الٹا لیٹنے پر مجبور کیا گیا۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں لکھا کہ “137 فلوٹیلا کے اشتعال انگیزوں کو ترکی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔”
واپس آنے والے کارکنوں کے اہل خانہ نے استنبول ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا، ترک اور فلسطینی پرچم لہرائے، اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے۔ ترک حکام کے مطابق کارکنوں کا پہلے طبی معائنہ کیا جائے گا، پھر وہ عدالت میں گواہی دینے کے لیے پیش ہوں گے۔
ترکی نے فلوٹیلا کو روکنے کے اسرائیلی اقدام کو “دہشت گردی کا عمل” قرار دیتے ہوئے اس کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیرِ خارجہ حکان فیدان نے کارکنوں کو “انسانیت کے ضمیر کی آواز بلند کرنے والے بہادر افراد” قرار دیا۔
اطالوی صحافی لورینزو ڈی آگوسٹینو نے بتایا کہ فلوٹیلا کو “غزہ سے 55 میل کے فاصلے پر بین الاقوامی پانیوں میں قبضے میں لیا گیا”، جبکہ لیبیائی کارکن مالک قطیط نے عزم ظاہر کیا کہ وہ دوبارہ کوشش کریں گے، “میں اپنی ٹیم کو جمع کروں گا، دوا اور امداد تیار کروں گا، جہاز کا انتظام کروں گا اور دوبارہ جانے کی کوشش کروں گا۔”
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








