کراچی میں بارش نے ڈی ایچ اے کے رہائشیوں کو بھی احتجاج پر مجبور کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

کراچی میں حالیہ موسلا دھار بارش کے دوران ڈی ایچ اے اور کلفٹن کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے جس کے بعد پوش علاقوں  میں رہائشیوں کے پاس اب گھروں سے باہر نکل کر اپنے حقوق کے لئے احتجاج کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ۔

کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن (سی بی سی) کے دفتر پر رہائشیوں کا نکاسی آب اور صاف پانی کی فراہمی کیلئے احتجاج ایک غیر معمولی نظارہ تھا ، نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ پوش علاقے بھی بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہیں۔

حالیہ بارشوں کے بعد ان علاقوں کے متعدد حصے کئی دن اندھیرے میں ڈوبے رہے، بہت سے علاقوں میں ساٹھ گھنٹوں کے بعد بجلی بحال ہوئی جبکہ کچھ علاقوں میں پانچ دن گزرنے کے باوجود بجلی نہیں ہے، یہاں کے مکینوں کے پاس بجلی ، گیس ، سیلولر یا انٹرنیٹ کنکشن نہیں تھے جبکہ گھرزیرآب اور سڑکیں ڈوب گئی تھیں۔

کراچی میں حالیہ بارش سے اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے، کئی لوگوں کا کاروبار تباہ ہوچکا ہے اور املاک اور اثاثے اور اشیاء پانی کی نذر ہوچکی ہیں، بارش نے شہر کے انفرااسٹرکچر کو بھی بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے جبکہ شہر میں جگہ جگہ بارش کا پانی جمع ہے اور کچرے نے گندے پانی سے ساتھ ملکر فضاء کو متعفن کردیا ہے۔

توقع ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اس ہفتے کے آخر میں کراچی پہنچیں گے اور شہر کے مسائل حل کرنے میں مدد کے لئے ایک میگا پیکیج کا اعلان کریں گے لیکن سندھ حکومت کے ساتھ باہمی تعاون کا امکان نظر نہیں آتا ۔

اس وقت کراچی میں متمول ڈی ایچ اے سے لے کر محروم سرجانی تک کے رہائشی یکساں مسائل سے دوچار ہیں ، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس بار کراچی میں ریکارڈ بارش ہوئی لیکن بارش سے پہلے احتیاطی اقدامات کرکے تباہی سے بچاؤ ممکن تھا ، اب ہمیں اس تباہ کن صورتحال سے نمٹنے اور سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دوبارہ ایسی صورتحال سے نمٹنا جاسکے۔

Related Posts