ہندوؤں برادری آج اپنا دیوالی کا تہوار منا رہی ہے، خوشیوں کا یہ تہوار ہندو برادری کی جانب سے جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے لیکن پاکستان میں اقلیت کے ساتھ نا مناسب رویے کے باعث اقلیتوں کی امیدیں کم ہوگئی ہیں، ہندوؤں کو عبادت گاہوں میں ظلم و ستم، جبر اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پچھلے ہفتے، ایک لڑکے کی جانب سے مبینہ توہین رسالتؐ کے الزامات عائد کرنے کے بعد لیاری میں ہندوؤں کے ایک مندر میں توڑ پھوڑ کی گئی تھی اور بتوں کو توڑ دیا گیا تھا۔ اسی طرح کا ایک واقعہ سندھ کے ضلع بدین میں اس وقت پیش آیا جب عارضی طور پر بنے ہوئے بت کو توڑ دیا گیا تھا۔ ہندو اقلیت کے خلاف اس طرح کے واقعات کی بھرپور مذمت کی جانی چاہئے۔
ہندو محب وطن ہیں لیکن پھر بھی انہیں تعصب اور امتیاز کا سامنا ہے۔ ہندو لڑکیوں کے اغوااور جبری شادیوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ جولائی میں، وائرس سے تباہ حال معیشت کے دوران بدین میں درجنوں ہندوؤں نے اسلام قبول کیا۔ انتہا پسند گروہوں کی دھمکیوں اور دہشتگرانہ کارروائیوں کے باعث اقلیتی طبقہ کی تعداد میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے۔
دوسرے درجے کے شہریوں کے سلوک کا شکار ہونے والے ہندوؤں کو رہائش، تعلیم، سرکاری شعبے کی ملازمتوں اور فلاح و بہبود تک رسائی کے تقریباً ہر شعبے میں امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مذہب تبدیلی کے معاملے میں اکثر مقامی رہنماؤں کی جانب سے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، جس کا مقصدصرف معاشرے میں اپنے مرتبے کو بڑھانا ہوتا ہے، جبکہ دیکھا جائے تو ملک میں ہندوؤں کی آبادی ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
تقسیم ہند کے بعد ہندوؤں کی کافی تعداد سندھ میں آباد تھی، انہوں نے ہندوستان جانے کو ترجیح نہیں دی، لیکن جب تارکین وطن کی آمد کے دوران صورتحال خراب ہوئی تو ان میں سے بہت سے خاندانوں نے ہندوستان میں آباد ہونے کو ترجیح دینا شروع کردی۔ 2015میں قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ ہر سال 5000ہندو ملک چھوڑ کر ہندوستان منتقل ہورہے ہیں۔
تاہم، بہت سے ہندو جنہوں نے جلد ہی ہجرت کی وہ یہ سمجھ گئے کہ ہندوستان ایسی مثالی منزل نہیں ہے جس کی انہوں خواہش کی تھی۔ مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کے باوجود، اکثر پاکستانی ہندوؤں نے دوسروں کی طرف واپس جانے کو ترجیح نہیں دی اور امتیازی سلوک کا سامنا کررہے ہیں، جو بہت مایوس کن صورتحال ہے۔
آئین ہندوؤں کو اپنے عقیدے پر عمل کرنے، ان کے حقوق ادا کرنے اور ان کے مقدس مقامات پر عبادات کرنے کا حق دیتا ہے۔ اسلام آباد میں ہندو مندر کی تعمیر اچانک بند کردی گئی۔ اگرچہ اسلامی نظریاتی کونسل (سی سی آئی) نے کہا کہ حکومت کو ایک مندر بنانے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن اس میں کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی ہے اور کسی نے بھی ممکنہ رد عمل کے باعث معاملہ نہیں اٹھایا۔ ہندو ریاست کے شہری کی حیثیت سے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔