ملک میں روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے، بدھ کے دن انٹربینک میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر مزید مہنگا ہوکر ٹرپل سنچر کی دہلیز پر پہنچ گیا، جو انٹربینک میں ڈالر کی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ دوسری جانب حکومت کا دعویٰ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ قرض کا نیا معاہدہ طے پانے کے بعد پاکستان کو ملنے والے بیرونی فنڈز میں نمایاں تیزی آگئی ہے اور صرف جولائی میں بیرون ملک سے دو ارب 89 کروڑ ڈالر کا قرضہ اور امداد ملی۔
یہ آج کی unipolar (یک قطبی) دنیا کی بد قسمتی ہے کہ اس کے غالب، بالخصوص امریکا کی دست نِگر حصے کی معیشت کی سانسیں کلی طور پر یو ایس ڈالر سے اس انداز میں بندھی ہوئی ہیں کہ ڈالر کی معمولی اوپر نیچے حرکت سے اس کی پوری معیشت پر جان کنی طاری ہوجاتی ہے اور کوئی دوا دارو اس وقت تک بحالی میں ناکامی سے دوچار رہتی ہے جب تک ڈالر بہادر کی پوزیشن میں استحکام کے جتن کامیابی سے ہمکنار نہ ہوجائیں۔
اس تناظر میں پاکستان کے قرض، سود، بد انتظامی، بے ضابطگی اور بد دیانتی سے داغ داغ تنِ معیشت پر ڈالر کی بے لگامی اور ”بے قابوئی“ سے جو ہولناک اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اس کا ہر کوئی بخوبی درست اندازہ لگا سکتا ہے، بلکہ ملک کا ہر باشندہ اپنی ناتواں جانِ معیشت پر یہ اثرات روز جیتے، روز مرتے بری طرح سہ رہا ہے۔
معیشت کی تباہی کا آغاز کب ہوا اور اس کے ذمے دار کون ہیں، اس بحث سے قطع نظر 2018ء کے بعد سے یہ تیسری حکومت ہے، جس کے سامنے تباہ حال معیشت کے رستے زخموں پر پھایا رکھنے کا چیلنج در پیش ہے۔ اس ٹرم کی پہلی حکومت کو معیشت کو تباہی کے سیلِ بلا سے بچانے میں ناکامی پر قربان کر دیا گیا، وجہ سامنے تھی کہ ناتجربہ کار افراد یہ معرکہ سر نہیں کر پائے اور ثابت ہوگیا تھا کہ معیشت ان کے ہاتھوں مستحکم نہیں ہوسکے گی۔
سو پہلی حکومت کے سر سے اعتماد اور قبولیت کی چھتری ہٹا کر بڑے چاؤ اور امیدوں سے تجربہ کاروں کے سر پر رکھ دی گئی، مگر نئی حکومت نے پندرہ ماہ کے دوران نہ صرف یہ کہ معیشت کو مستحکم کرنے میں بری طرح ناکامی کا سامنا کیا بلکہ اس کا اٹھایا گیا ہر قدم معیشت کو تباہی کی دلدل میں مزید دھنساتا چلا گیا۔ پندرہ ماہ کے گزشتہ عرصے میں ڈالر اس قدر بے قابو اور لگام ہوا کہ معیشت کے ہر نشان اور ستون کو گراتا، روندتا اور ہر طرف بربادی کی داستانیں بکھیرتا چلاگیا۔
ڈالر کی بے لگامی سے کیا کیا تباہی پھیلتی ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں محض ایک پیسہ بڑھنے سے ملک کے اندرونی اور بیرونی قرضوں اور ان کے سود میں بیٹھے بٹھائے اربوں کا اضافہ ہوجاتا ہے، پٹرول مہنگا ہوجاتا ہے، تمام درآمدی اشیاء کے ملک کی حدود میں قدم رکھتے ہی معیشت کی چیخیں نکل جاتی ہیں، برآمدات بے جان ہوکر رہ جاتی ہیں، ان میں اتنی سکت ہی نہیں ہوتی کہ باہر نکل کر ڈالر کی نئی پوزیشن کی برابری کر سکیں۔ انجام کار رہی سہی صنعتوں کو بقا کے لالے پڑ جاتے ہیں، بے روزگاری بڑھ جاتی ہے، گرانی چاروں طرف آگ برساتی ہے اور فرد سے لیکر قوم کی معیشت تک ہر طرف مردنی چھا جاتی ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ شہباز شریف کی قیادت میں پی ڈی ایم پلس کی ساجھے کی ہنڈیا اپنے تمام عرصے میں ڈالر ریٹ کو مستحکم رکھنے میں بری طرح ناکام ہوکر بیچ چوراہے پھوٹ گئی۔ اس عرصے میں ایسا محسوس ہو رہا تھا ڈالر مستحکم رکھنے کا انتہائی حساس اور سنگین چیلنج حکومت کی ترجیح ہی نہیں ہے، چنانچہ آئے دن ان رپورٹس کے باوجود کہ ڈالر پڑوسی ملک اسمگل کیے جا رہے ہیں، اس رخنے کو پاٹنے اور ڈالر کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی ذخیرہ اندوزی ختم کرنے اور ماہرین کی جانب سے ڈالر کو لگام ڈالنے کےلئے تجویز کردہ کسی تدبیر پر توجہ نہیں دی گئی۔
شہباز شریف حکومت کا سارا زور حسب روایت سعودیہ، امارات اور چین جیسے قریبی دوستوں کی جیبیں جھاڑ کر ”امدادی قرض“ کے حصول پر رہا، تاکہ خزانے اور معیشت میں ڈالروں سے عارضی طور پر جان ڈالنے کا مصنوعی اہتمام ہوسکے، جسے دیکھ کر آئی ایم ایف قرض کی نئی قسط دینے پر آمادہ ہو۔
تقریباً ڈیڑھ سال میں یہی انتہائی وقتی، مصنوعی اور گلے پڑنے والا بندوبست کرکے شہباز حکومت فرض سے ”سبکدوش“ ہوگئی، تاہم ڈالر کا چھچھوندر معیشت کے حلق کی وہ پھانس بن چکا ہے، جس کا علاج کیے بنا معیشت کو دیوالیہ پن اور مکمل تباہی سے بچانے کی کوئی ضمانت مہیا نہیں کی جاسکتی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ نگران حکومت معاملے کی نازکی، سنگینی، حساسیت اور گمبھیرتا کو ادراک کرتے ہوئے ہر حال میں ڈالر کو نیچے لانے یا کم از کم ایک ہی پوزیشن پر مستحکم رکھنے کی ہر ممکن حکمت عملی وضع کرے، اس کے بغیر ڈالر کی یہ بے لگامی بہت بڑی تباہی پر منتج ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں