دہشت گردی کا بڑھتا خطرہ

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان کو مسلسل دہشت گردانہ حملوں کا سامنا ہے جو اس کی معاشی اور سیاسی پریشانیوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ تازہ ترین واقعہ اس وقت پیش آیا جب شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کے حملے میں چھ فوجی شہید ہو گئے۔ کالعدم ٹی ٹی پی نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس نے دو فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔

اس سے پہلے ہفتے کے روز شمالی وزیرستان میں ایک چیک پوسٹ پر مزدوروں کو لے جانے والی گاڑی کو بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ گزشتہ ماہ باجوڑ میں جے یو آئی کے جلسے میں ایک خودکش دھماکے میں 54 افراد ہلاک ہوئے تھے، اس کا الزام داعش سے وابستہ ایک افغان گروپ پر عائد کیا گیا تھا۔ حالیہ دنوں میں متعدد جھڑپوں اور دہشت گردانہ حملوں میں کئی فوجیوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔

پاکستان نے متعدد مواقع پر افغانستان کے حکمرانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس دہشت گرد گروہ پر کنٹرول کریں جو افغانستان کے اندر سے پاکستان میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ گزشتہ ماہ افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے آصف درانی نے کابل کا دورہ کیا اور سرحد پار حملوں کے بارے میں اسلام آباد کے تحفظات سے کابل کے حکمرانوں کو آگاہ کیا۔ افغان طالبان نے ابھی تک پاکستان کے ان خدشات پر کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی ہے۔

افغان طالبان دو سال سے افغانستان پر قابض ہیں۔ پاکستان نے ابتدائی طور پر نئے حکمرانوں کی حمایت کی لیکن حالیہ دہشت گردی کے حملوں کے بعد تعلقات میں تیزی سے تناؤ آرہا ہے۔ پاکستانی حکام نے طالبان پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے غیر محفوظ سرحد سے مسلح گروپوں کی نقل و حرکت پر قابو پانے اور افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے ہیں۔

صرف جولائی میں ٹی ٹی پی کی جانب سے 90 سے زیادہ حملے کیے گئے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ افغانستان میں جڑیں رکھنے والے اس دہشت گروپ کی جانب سے پاکستان میں تشدد میں کوئی کمی نہیں آئی۔ یہ شاید نظریاتی صف بندی یا تاریخی روابط ہیں کہ افغان طالبان کے کچھ ارکان کی ٹی ٹی پی سے ہمدردی ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان کی افغانستان سے مایوسی جائز ہے کیونکہ پڑوسی ملک دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔

اس تناظر میں پاکستان علاقائی خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکہ کے ساتھ دوبارہ رابطے کا خواہشمند ہے۔ انسداد دہشت گردی کے نقطہ نظر سے ٹی ٹی پی ایک اہم تشویش کے طور پر موجود ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ اسے خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کا حق حاصل ہے اور وہ دہشت گردوں کو ملک سے باہر رکھنے کے طالبان کے زبانی وعدوں پر انحصار و اعتماد نہیں کرتا۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ افغان حکام پاک امریکہ تعلقات کی اس خاص نقطہ نظر سے پیشرفت پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

دریں اثنا نگراں وزیر اعظم نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان انتہا پسندی، بنیاد پرستی اور عدم برداشت کے خلاف لڑتا رہے گا کیونکہ ہتھیار ڈالنا کوئی آپشن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ سے تھکاوٹ کا سوال ہی نہیں ہے کیونکہ دہشت گرد صرف مسلح افواج سے نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم سے لڑ رہے ہیں۔ پاکستان کو صورت حال سے نمٹنے کے لیے واضح حکمت عملی کی ضرورت ہے ورنہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اثر پورے خطے پر پڑے گا۔

Related Posts